• کتاب "سب رنگ” برائے نویں جماعت
  • سبق نمبر05:نظم
  • شاعر کا نام: نظیر اکبر آبادی
  • نظم کا نام: مکافات عمل

تعارف شاعر:

نظیراکبرآبادی کا پورا نام ولی محمد تھا۔ وہ دہلی میں پیدا ہوئے۔ کچھ عرصے بعد آ گرے میں بس گئے۔نظیر عوامی شاعر تھے۔ ان کی شاعری میں ہندوستانی ماحول اور تہذیب کی جھلکیاں ملتی ہیں۔انھوں نے یہاں کے موسموں میلوں ، بہواروں اور انسانی زند گی کے مختلف پہلوؤں پر بہت سی نظمیں لکھی ہیں۔

عام موضوعات کو سیدھی سادی زبان میں بیان کرنا نظیر کی بہت بڑی خوبی ہے۔ان کے پاس الفاظ کا غیر معمولی ذخیرہ تھا۔ وہ موقع اور موضوع کے اعتبار سے مناسب الفاظ کا استعمال کرتے ہیں۔انھوں نے اپنی شاعری میں مقامی الفاظ کا کثرت سے استعمال کیا ہے۔ ’روٹیاں‘ ‘ بنجارا نامہ، مفلسی ، ہولی نامہ اور کرشن کنھیا کا بال پن وغیرہ ان کی مشہور نظمیں ہیں۔

نظم مکافات عمل کی تشریح:

ہے دنیا جس کا نام میاں یہ اور طرح کی بستی ہے
جو مہنگوں کو یہ مہنگی ہے اور سستوں کو یہ سستی ہے
یاں ہر دم جھگڑے اٹھتے ہیں ہر آن عدالت بستی ہے
گر مست کرے تو مستی ہے اور پست کرے تو پستی ہے
کچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہے
اس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بہ دستی ہے

یہ بند "نظیر اکبر آبادی” کی نظم "مکافات عمل” سے لیا گیا ہے۔ اس بند میں شاعر دنیا کی حقیقت اور یہاں کے طرز عدل و انصاف کی بات کرتے ہوئے کہتا ہے کہ یہ بستی جسے ہم دنیا کا نام دیتے ہیں یہ عجب اور نرالے ڈھنگ کی بستی ہے۔ مہنگی طرز زندگی پسند کرنے والوں کے لیے یہ دنیا بھی مہنگی اور سستی والوں کے لیے سستی ہے۔ اس دنیا میں ہر دم کسی نہ کسی بات پر لوگوں کا جھگڑا اور دنگا فساد جاری و ساری ہے۔اگر تم اس دنیا میں آکر مستی کروں گے تو یہ دنیا بھی تمھارے ساتھ مستی کے انداز میں پیش آئے گی لیکن اگر تم نے یہاں پستی کو اپنا یا تو یہ تمھیں پست سے پست تر کرتی جائے گی۔جو لوگ دنیا کو اندھیر نگری کا نام دیتے ہیں تو یہاں کوئی اندھیر نہیں بلکہ انصاف کا قانون قدرت کا موجود ہے۔اس دنیا کی سودے بازی کا قانون اس طرح کا رائج ہے کہ اس ہاتھ تم کوئی کام انجام دیتے ہو اس ہاتھ فوراً تمھیں اس کا صلہ دے دیا جائے گا۔ یعنی یہاں ہاتھوں ہاتھ اور فوراً سودا بازی کا اصول ہے۔ ایک طرح سے شاعر نے دنیا کے اس پس منظر میں آخرت کی زندگی اور وہاں کے عدل و انصاف کا عکس بھی پیش کیا ہے۔

جو اور کسی کا مان رکھے تو اس کو بھی مان ملے
جو پان کھلا دے پان ملے جو روٹی دے تو نان ملے
نقصان کرے نقصان ملے احسان کرے احسان ملے
جو جیسا جس کے ساتھ کرے پھر ویسا اس کو آن ملے
کچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہے
اس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بہ دستی ہے

اس بند میں شاعر کہتا ہے کہ اس دنیا کا ایک اصول یہ بھی کہ یہاں اگر تم کسی سے ہمدردی سے پیش آتے اور کسی کی امید پوری کرتے اسے مان اور عزت بخشتے ہو تو تمھیں بھی اس کا ویسا ہی صلہ ملے گا۔ اگر تم کسی کو پان کھلاؤ تو بدلے میں بھی وہی پاؤں گے اور روٹی کے بدلے نان پاؤ اگر کسی کا نقصان کرو گے تو اس کا صلہ بھی تمھیں نقصان کی صورت میں دیا جائے گا لیکن اگر کسی کا فائدہ کرتے ہو تو بدلے میں تمھیں بھی فائدہ ملے گا۔ یہاں احسان کا بدلہ احسان ہے۔اس دنیا میں ہر چیز کا مکافات عمل موجود ہے۔یعنی جس کا ساتھ جیسا کرو گے ویسا پاؤ گے۔ یہاں اچھائی کا بدلہ اچھائی اور برائی کا بدلہ برائی ہے۔اس دنیا میں کوئی اندھیر نگری نہیں ہے بلکہ یہ عدل وانصاف کی دنیا ہے جہاں تم ہاتھوں ہاتھ انجام پاؤ گے۔

جو پار اتارے اوروں کو اس کی بھی پار اترنی ہے
جو غرق کرے پھر اس کو بھی ڈبکوں ڈبکوں کرنی ہے
شمشیر تبر بندوق سناں اور نشتر تیر نہرنی ہے
یاں جیسی جیسی کرنی ہے پھر ویسی ویسی بھرنی ہے
کچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہے
اس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بہ دستی ہے

اس بند میں شاعر کہتا ہے کہ اس دنیا میں اگر کوئی کسی کی ناحق جان لیتا ہے تویہ طے ہے کہ اس کی جان پر بھی یہ ظلم ہو گا اور اگر کوئی کسی کو ناحق کسی معمالے میں ڈبونے کی کوشش کرتا ہے تو وہ بھی ضرور ڈوبے گا۔یہاں اگر کوئی تلور، چاقو، کلہاڑی ، نیزے یا ناخن کٹر کسی بھی کسی قسم کے آلے کا استعمال کرے گا تو وہ بھی وہی انجام پائے گا۔ یہ دنیا جیسا کرو گے ویسا بھرو گے کے اصول پر عمل پیرا ہے۔یہاں اچھائی کا بدلہ اچھائی اور برائی کا بدلہ برائی ہے۔اس دنیا میں کوئی اندھیر نگری نہیں ہے بلکہ یہ عدل وانصاف کی دنیا ہے جہاں تم ہاتھوں ہاتھ انجام پاؤ گے۔

ہے کھٹکا اس کے ہاتھ لگا جو اور کسی کو دے کھٹکا
اور غیب سے جھٹکا کھاتا ہے جو اور کسی کے دے جھٹکا
چیرے کے بیچ میں چیرا ہے اور پٹکے بیچ جو ہے پٹکا
کیا کہیے اور نظیرؔ آگے ہے زور تماشا جھٹ پٹ کا
کچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہے
اس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بہ دستی ہے

اس بند میں شاعر کہتا ہے کہ اس دنیا میں اگر کوئی شخص کسی غریب شخص کو دھوکا دیتا ہے تو اس کا بدلہ قدرت خود اس سے دھوکے کی صورت میں لیتی ہے۔ قدرت اسے نقصان سے دوچار کرتی ہے۔یہاں لوگوں نے پگڑیوں پہ پگڑیاں ڈال رکھی ہیں اور لباس پہ لباس چڑھا رکھے ہیں۔ ایسے ہی ان کے ایک چہرے کے پیچھے چہرے پوشیدہ ہیں۔جہاں روز ایک نیا تماشا دیکھنے کو ملتا ہے۔اس دنیا میں کوئی اندھیر نگری نہیں ہے بلکہ یہ عدل وانصاف کی دنیا ہے جہاں تم ہاتھوں ہاتھ انجام پاؤ گے۔

سوچیے اور بتایئے:

شاعر نے دنیا کو اور طرح کی بستی کیوں کہا ہے؟

کیوں کہ اس دنیا کی بنیاد مکافات عمل پر ہے اس لیے شاعر نے اسے اور طرح کی بستی کہا ہے۔یہاں وہ اپنے ہر عمل کا صلہ فورا پا لے گا۔

انسان کو اچھا عمل کیوں کرنا چاہیے؟

انسان کو اس لیے اچھا عمل کرنا چاہیے کہ اچھے عمل کا بدلہ بھی اچھائی ہے۔

” جیسی کرنی ویسی بھرنی‘‘ اس کا کیا مطلب ہے؟

جیسی کرنی ویسی بھرنی سے مراد ہے کہ جیسا عمل کرو گے ویسا انجام پاؤ گے۔اچھائی اور بھلائی کا بدلہ اچھائی۔ برائی کا بدلہ برائی ہے۔

اس ہاتھ کراس ہاتھ ملے یاں سو دادست بدستی ہے کی وضاحت کیجیے؟

اس ہاتھ کرنے اور اس ہاتھ ملنے سے مراد ہے کہ فوراً نتیجہ ملنا ہے۔ یعنی اگر تم بھلائی اور اچھائی کرو گے تو اس کا انجام بھی فوراً اور ویسا ہی پاؤ گے۔

اس نظم کا مرکزی خیال کیا ہے۔

اس نظم میں شاعرنے دنیا کو مکا فات عمل قرار دیا ہے کہ یہ ایسا میدان ہے جہاں انسان اپنے اعمال کے مطابق اپنے انجام کو فوراً پا لے گا۔اگر وہ اچھا کام اور بھلائی کے کام کرے گا تو اس کا انجام بھی ویسا ہی پائے گا۔ اگر کسی کا برا چاہے گا اور نقصان کرے گا تو اس کا انجام بھی برائی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ یہ دنیا ایک ایسی جگہ ہے جہاں ہاتھ کے ہاتھ حساب چکایا جاتا ہے۔یہاں اچھائی کا بدلہ اچھائی اور برائی کا بدلہ برائی ہے۔اس دنیا میں کوئی اندھیر نگری نہیں ہے بلکہ یہ عدل وانصاف کی دنیا ہے جہاں تم ہاتھوں ہاتھ انجام پاؤ گے۔