مخدوم محی الدین

مخدوم محی الدین کا پورا نام ابو سعید مخدوم محی الدین خذری تھا۔ وہ اردو کے نامور شاعر اور سیاسی اداریت پسند تھے۔ وہ ایک امتیازی انقلابی شاعر تھے۔ انھوں نے اشتراک پسند مصنفوں کی انجمن کی حیدرآباد میں بنیاد ڈالی۔ وہ تحریک پسند ہندوستانی پارٹی میں بھی شامل تھے۔

محی الدین 4 فروری 1908 کو میدک ضلع کے انڈول گاؤں، حیدرآباد میں پیدا ہوۓ۔ ان کی اسکولی اور مذہبی تعلیم گاؤں میں ہی پوری ہوئی۔ پھر وہ اعلیٰ تعلیم کے لیے حیدرآباد پہنچے جہاں انھوں نے 1933 میں بیچلرز اور 1936 میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ 1939 میں مخدوم بطور معلم سٹی کالج میں اردو ادب سیکھانے لگے۔ لیکن 1941 میں انھوں نے اس عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ بعدازاں وہ حیدرآباد میں ہی بس گئے۔ اور ہندوستان کو انگرویزوں کے شکنجہ سے بچانے کے لیے لڑنے لگے۔

محی الدین اردو زبان کے حیرت انگیز اور ہر فن مولا شاعر تھے۔ اس کے علاوہ وہ آندھرا پردیش کی اشتراکی پارٹی کے بانی بھی تھے۔ چنانچہ انھیں آزادی کی لڑائی لڑنے والا کہا جاتا ہے۔ انھوں نے اس وقت کی شاہی حکومت کے خلاف اجتماعی کاروائی شروع کی۔ جس وجہ سے حیدرآباد کے حاکم میر عثمان علی خان (نظام) نے انھیں لوگوں میں آزادی کی بیداری پیدا کرنے اور شاہی حکم کی منسوخی کے لیے قتل کرنے کا حکم دیا۔

محی الدین  نے شاعری گوئی  کا آغاز 1933 میں اپنی طالبِ علمی کے زمانے سے کیا۔ ان کا پہلا مجموعہ کلام سرخ سویرا کے نام سے 1944 میں اور دوسرا گل تر 1961 میں  شائع ہوا۔ ان کے ابتدائی دور کی شاعری میں زیادہ تر جوبن و رومانی رنگ دکھائی دیتے ہیں۔ ان کی رومانی نظموں میں طور، انتظارہ، وہ، لمحۂ رخصت، جوانی، آتش کدہ وغیرہ بہترین تخلیقات ہیں۔ وہ شاعرِ شباب ہونے کے ساتھ ساتھ شاعرِ انقلاب بھی تھے۔ وہ خداداد صلاحیتوں کے مالک تھے۔ ان کی انقلابی نظمیں اور غزلیں بیشتر فلموں میں استعمال کی گئی ہیں۔ ان کے تیسرے مشہور نظموں کے مجموعہ "بساطِ رقص "(1966) کے لیے انھیں 1969 میں ساہیتہ اکیڈمی ایوارڈ کا اعزاز ملا۔

محی الدین امیر منائی اور عظمت اللہ خاں کے عاشق تھے۔ اور غالب اور اقبال سے انتہائی متاثر تھے۔ انھوں نے غالب اور اقبال پر بیشتر نظمیں بھی لکھی۔ وہ ایک بہترین نثر نگار بھی تھے۔ ان کے اشاعت کردہ کاموں میں ٹیگور اور ان کی نظمیں پر مضمون، ہوش کے ناخن نامی ڈراما، اور متعدد نثری مضامین شامل ہیں۔

ہندوستان کی آزادی کے بعد محی الدین پانچ سال تک آندھرا پردیش کے قانون ساز مجلس کے ممبر رہے اور ملکی سطح پر سب سے مشہور سیاسی لیڈر تھے۔ انھوں نے یورپ، روس، چین، اور آفریقہ کا دورہ کیا۔ 25 اگست 1969 کو ان کا انتقال ہوا۔ مخدوم محی الدین کا ہنر یہ تھا کہ وہ قلم کو تلوار میں اور تلوار کو قلم میں تبدیل کر سکتے تھے۔

Written by

Tehreem Shaikh

Close