Advertisement

سبق کا خلاصہ:

مولوی عبد الحق کا یہ مضمون زبان کے امور سے بحث کر رہا ہے کہ اردو زبان پر ہمیشہ سے یہ اعتراض رہا ہے کہ یہ ایک مخلوط زبان ہے۔ تو کسی زبان کا مخلوط ہونا کوئی عیب نہیں بلکہ ایک خوبی ہے۔ویسے دنیا میں کوئی ایسی زبان موجود نہیں ہے جو کہ خالص ہو۔

مخلوط زبان سے مراد وہ زبان ہے جو دوسری زبانوں کے ملاپ سے بنی ہو۔اردو زبان کو ایک مخلوط زبان کا درجہ دیا جاتا ہے کہ یہ فارسی،عربی، ترکی اور ہندی وغیرہ کے الفاظ کو اپنے اندر ذخیرہ کیے ہوئے ہے۔ مخلوط زبان کا طریقہ کار یہ ہے کہ کوئی بھی زبان اس طرح سے مخلوط ہوتی ہے کہ کسی بھی سیکھنے والے کی اپنی زبان غیر زبان سے مل کر مخلوط ہو جاتی ہے۔

Advertisement

کسی غیر زبان کے الفاظ جب کسی زبان میں داخل ہوتے ہیں تو وہ اس زبان کے محض الفاظ قبول کرتے ہیں اس کے صرف و نحو میں کوئی تبدیلی نہیں لاتے۔ اردو زبان نے بھی بطور مخلوط فارسی اور ہندی کے بہت سے الفاظ کو لے کر اپنے قالب میں ڈھال لیا۔یوں کفن سے کفنانا وغیرہ جیسے مصادر بنا لیے گئے۔اس طرح یہ سب الفاظ اردو زبان کے ہو گئے۔

Advertisement

زبان میں ان بد یسی الفاظ کے آنے سے ایک خوبی یہ بھی پیدا ہوئی کہ زبان میں بدیسی الفاظ داخل ہونے سے اس میں وسعت، قوت اور شان پیدا ہوجاتی ہے۔اس سے ہم معنی الفاظ کے ذخیرے میں اضافہ ہوتا ہے۔ زبان کی لطافت میں بھی اضافہ ہوا۔ بدیسی الفاظ کسی بھی زبان میں پوری طرح سے کھپ کر اپنی اجنبیت کو دور کر لیتے ہیں۔

Advertisement

انسانی خیال میں تنوع اور وسعت کی کوئی حد نہیں ہے۔زبان کے اس طرح وسیع ہو نے اور اس میں مترادفات کی موجودگی سے شاعر زبان میں کئی طرح کے نئے اور لطیف خیال پیدا کر لیے جاتے ہیں۔ جو شاعرانہ حسن میں اضافے کا باعث بنتے ہیں۔ جیسا کہ ایک شاعر نے اپنی شاعری میں بیماری کے کئی مترادفات روگ،عارضہ مرض وغیرہ میں سے شاعرانہ حسن کے روگ کا انتخاب کر کے شاعری کے حسن کو بڑھایا۔

اردو کی بنیاد عوام کی زبان یعنی کھڑی بولی پر ہے۔اردو میں ہندی اور فارسی کے کئی الفاظ بھی گھل مل کر کئی طرح کے محاوروں اور کہاوتوں میں ڈھل گئے ہیں۔جیسے کہ اردو میں آنکھوں میں خار لگنا،خدا لگتی کہنا،آنکھوں پر پردہ پڑ جانا، لہو لگا کر شہیدوں میں ملنا،اللہ میاں کی گائے جیسے محاورے جبکہ تم کس باغ کی مولی ہو،اشرفیاں لٹیں اور کولوں پر مہر،ایک آنکھ میں شہدایک آنکھ میں زہر، لاکھ کا گھر خاک ہوگیا،اللہ کا دیا سر پر، خدا کی لاٹھی میں آواز نہیں، بد اچھا بد نام برا، بدن پر نہیں لتا پان کھائیں البتہ وغیرہ۔ کہاوتیں موجود ہیں۔

Advertisement

اسی طرح زبان میں کئی طرح کے مرکب الفاظ بھی موجود ہیں۔اردو زبان کی سب سے بڑی خصوصیت اس کی وسعت ہے کہ یہ زبان اپنے اندر کئی زبانوں کے الفاظ ذخیرہ کیے ہوئے ہے۔ غیر زبانوں کے الفاظ بھی اردو زبان میں اس طور پر گھل مل گئے ہیں کہ کون سے الفاظ دیسی اور کون سے بدیسی ہیں یہ اندازہ لگانا مشکل ہو جاتا ہے۔ اردو زبان کی خصوصیت ہے کہ اس میں کئی زبانوں کے ذخیرہ الفاظ موجود ہیں جو اس کی لفظی معنویت میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔

اسی زبان کے حوالے سے سر تیج بہادر کہتے ہیں کہ جس زبان کو ہم اردو زبان کہتے ہیں دراصل یہی وہ زبان ہے جو ہندو مسلم اتحاد کی اساس ہے۔زبان ہی دراصل دو قوموں کے درمیان رابطے کا ایک اہم ذریعہ ہوتی ہے۔یہاں ہندو اور مسلم دو الگ قومیں ہیں لیکن انھیں اور ان دو قوموں کی تہذیب کو سمجھنے کا ان کا اہم ذریعہ یہ اردو زبان ہی ہے۔اس زبان کی مدد سے ان دونوں قوموں میں اتحاد پیدا کیا جاسکتا ہے۔ لہذا اس زبان کو مٹانا ایسا ہی ہو گا جیسے کہ اس رشتے کو توڑنے کی کو شش کی جائے گی۔

Advertisement

سوالوں کے جواب لکھیے:

سوال نمبر01: مخلوط زبان سے کیا مراد ہے؟وضاحت کیجئے۔

مخلوط زبان سے مراد وہ زبان ہے جو دوسری زبانوں کے ملاپ سے بنی ہو۔اردو زبان کو ایک مخلوط زبان کا درجہ دیا جاتا ہے کہ یہ فارسی،عربی، ترکی اور ہندی وغیرہ کے الفاظ کو اپنے اندر ذخیرہ کیے ہوئے ہے۔ مخلوط زبان کا طریقہ کار یہ ہے کہ کوئی بھی زبان اس طرح سے مخلوط ہوتی ہے کہ کسی بھی سیکھنے والے کی اپنی زبان غیر زبان سے مل کر مخلوط ہو جاتی ہے۔

سوال نمبر02:زبان میں’بدیسی الفاظ’ داخل ہونے کے کیا فائدے بیان کیے گئے ہیں؟

زبان میں بدیسی الفاظ داخل ہونے سے اس میں وسعت، قوت اور شان پیدا ہوجاتی ہے۔اس سے ہم معنی الفاظ کے ذخیرے میں اضافہ ہوتا ہے۔ زبان کی لطافت بڑھ جاتی ہے۔

Advertisement

سوال نمبر03:اس مضمون میں اردو زبان کی کن خصوصیات پر روشنی ڈالی گئی ہے؟

اردو زبان کی سب سے بڑی خصوصیت اس کی وسعت ہے کہ یہ زبان اپنے اندر کئی زبانوں کے الفاظ ذخیرہ کیے ہوئے ہے۔ غیر زبانوں کے الفاظ بھی اردو زبان میں اس طور پر گھل مل گئے ہیں کہ کون سے الفاظ دیسی اور کون سے بدیسی ہیں یہ اندازہ لگانا مشکل ہو جاتا ہے۔ اردو زبان کی خصوصیت ہے کہ اس میں کئی زبانوں کے ذخیرہ الفاظ موجود ہیں جو اس کی لفظی معنویت میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔ مختلف الفاظ کے مترادفات کے ذریعے اردو شاعری میں حسن کلام کی خصوصیت پیدا ہوتی ہے۔

عملی کام:

ذیل میں دیے گئے الفاظ اپنے جملوں میں استعمال کیجیے۔

مخلوط ہندوستان میں مجموعی طور پر مخلوط نظامِ تعلیم رائج ہے۔
مترادف پیار،محبت کا مترادف لفظ ہے۔
قدرو منزلت ملک کی خاطر جان کی قربانی نے احمد کی قدر و منزلت کئی گنا بڑھا دی۔
بےبہا پانی ایک بے بہا نعمت ہے۔

سبق میں جو محاورے اور کہاوتیں بیان کی گئی ہیں،ان کی فہرست بنائیے۔

اس سبق میں درج ذیل محاورے اور کہاوتیں بیان کی گئی ہیں:-
محاورے: آنکھوں میں خار لگنا،خدا لگتی کہنا،آنکھوں پر پردہ پڑ جانا، لہو لگا کر شہیدوں میں ملنا،اللہ میاں کی گائے ہونا۔

Advertisement

کہاوتیں: تم کس باغ کی مولی ہو،اشرفیاں لٹیں اور کولوں پر مہر،ایک آنکھ میں شہدایک آنکھ میں زہر، لاکھ کا گھر خاک ہوگیا،اللہ کا دیا سر پر، خدا کی لاٹھی میں آواز نہیں، بد اچھا بد نام برا، بدن پر نہیں لتا پان کھائیں البتہ وغیرہ۔

اس مضمون میں سرتیج بہادر سپرونےاردو زبان کے بارے میں جو کہا ہے اسے اپنے لفظوں میں بیان کیجیے۔

سرتیج بہادر کے مطابق جس زبان کو ہم اردو زبان کہتے ہیں دراصل یہی وہ زبان ہے جو ہندو مسلم اتحاد کی اساس ہے۔زبان ہی دراصل دو قوموں کے درمیان رابطے کا ایک اہم ذریعہ ہوتی ہے۔یہاں ہندو اور مسلم دو الگ قومیں ہیں لیکن انھیں اور ان دو قوموں کی تہذیب کو سمجھنے کا ان کا اہم ذریعہ یہ اردو زبان ہی ہے۔اس زبان کی مدد سے ان دونوں قوموں میں اتحاد پیدا کیا جاسکتا ہے۔ لہذا اس زبان کو مٹانا ایسا ہی ہو گا جیسے کہ اس رشتے کو توڑنے کی کو شش کی جائے۔

Advertisement
Advertisement