اللہ پاک کسی کو اس کی وسعت سے زیادہ کا مکلف نہیں بناتا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے فرمایا: "کھڑے ہو کر نماز پڑھو، اگر اس طرح نہ کرسکو تو بیٹھ کر، اگر اس طرح نہ کرسکو تو پہلو کے بل اشارہ سے پڑھو” نبی کریم ﷺ کے اس ارشاد گرامی سے معلوم ہوا کہ نماز ، بیماری کی حالت میں بھی چھوڑنا جائز نہیں ہے۔

دوستو! نماز اسلام کا بہت بڑا فریضہ ہے اور دین اسلام میں اس کا بہت بڑا مرتبہ ہے۔ سفر ہو، مرض ہو،رنج ہو، خوشی ہو ،دکھ تکلیف ہو یا آرام ہو بہرحال نماز پڑھنا فرض ہے لیکن شریعت میں مریض کے لیے کچھ آسانیاں رکھ دی گئیں ہیں اس لیے جب تک ہوش و حواس قائم ہوں نماز چھوڑنے کا کوئی موقع نہیں ہے۔ جو لوگ مرض اور تکلیف میں نماز چھوڑ دیتے ہیں بہت بڑا گناہ کرتے ہیں اور اپنی آخرت بیکار کر دیتے ہیں۔

مسئلہ :1

اگر کسی کی ایسی نکسیر پھوٹی کہ بند ہی نہیں ہوتی یا کوئی ایسا زخم ہے کہ برابر بہتا رہتا ہے کسی وقت بہنا بند نہیں ہوتا یا پیشاب کی بیماری ہے کہ ہر وقت قطرہ آتا رہتا ہے اور اتنا وقت نہیں ملتا کہ وضو سے نماز پڑھ سکے تو ایسے شخص کو معذور کہتے ہیں۔ اس کا حکم یہ ہے کہ ہر نماز کے وقت وضو کر لیا کرے جب تک وقت رہے گا وضو باقی رہے گا البتہ جس بیماری میں مبتلا ہے اس کے سوا اگر کوئی اور بات ایسی پائی جائے جس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے تو اس سے وضو ٹوٹ جائے گا اور پھر سے وضو کرنا پڑے گا۔اس کی مثال یہ ہے کہ کسی کی ایسی نکسیر پھوٹی کہ کسی طرح بند نہیں ہوتی اس نے ظہر کے وقت وضو کیا تو جب تک ظہر کا وقت باقی رہے گا نکسیر کے خون کی وجہ سے اس کا وضو نہ ٹوٹے گا البتہ اگر پیشاب پاخانہ کیا یا سوئی چبھ گی اس کی وجہ سے خون نکلا تو وضو جاتا رہے گا، پھر دوبارہ وضو کرنا لازم ہوگا۔

مسئلہ :2

جو شخص ایسا بیمار ہو کہ نماز کے ارکان مکمل طریقہ سے ادا نہ کرسکتا ہو تو جن ارکان کی ادائیگی پر وہ قادر ہو، اس کو ادا کرے۔

مسئلہ :3

جو مریض کھڑے ہو کر نماز نہیں پڑھ سکتا ، وہ بیٹھ کر رکوع اور سجدہ کے ساتھ پڑھ لے اور وہ مریض بھی جس کو سخت تکلیف کی وجہ سے کھڑا ہونا دشوار ہو ، بیٹھ کر رکوع اور سجدہ کے ساتھ نماز پڑھے۔ٍاسی طرح اگر کھڑے ہو کر نماز پڑھنے سے مرض کے لاحق ہونے یا مرض کے زیادہ ہوجانے یا صحت یا بی حاصل ہونے میں تاخیر کا اندیشہ ہو تو بیٹھ کر نماز پڑھے۔ اسی طرح اگر رکوع اور سجدہ یا ان میں سے کسی ایک سے عاجز ہو جائے تو بیٹھ کر نماز پڑھے اور رکوع اور سجدہ کو اشارہ سے بجالائے۔

مسئلہ: 4

جو رکوع اور سجدہ کو اشارہ سے بجا لائیگا تو وه سجدہ کا اشارہ رکوع کے اشارہ سے زیادہ جھکا کرکرے۔ اگر وہ سجدہ کا اشارہ رکوع کے اشارہ سے زیادہ جھکا ہوا نہ کرے تو اس کی نماز صحیح نہ ہوگی۔

مسئلہ:5

کسی چیز کو اس پر سجدہ کرنے کے لئے چہرے تک اٹھانا نا جائز ہے۔

مسئلہ:6

اگر بیمار شخص بیٹھنے سے عاجز آجائے تو وہ پیٹھ کے بل لیٹ کر نماز پڑھے، اس طور پر کہ اس کے دونوں پیر قبلہ کی جانب ہوں، اپنے گھٹنوں کو اٹھالے اور اپنے سر کو تکیہ پر اٹھائے رکھے تاکہ اس کا چہرے قبلہ کے جانب ہو جائے اور رکوع اورسجدہ کو اشارہ سے ادا کرے۔

مسئلہ:7

اگر اشارہ سر سے ہو تو وہ رکوع اور سجدہ کے قائم مقام ہوگا۔ہاں! اگر اشارہ آنکھ سے یا پلک یا دل سے ہو تو نماز صحیح نہ ہوگی۔

مسئلہ: 8

اگر مریض سر سے اشارہ کرنے سے بھی عاجز ہو جائے اور یہ کیفیت پانچ نمازوں یا اس سے کم وقت تک رہے تو قادر ہو نے کے بعد قضاء کرے، اور اگر اس سے زیادہ ہو جائے تو وہ نمازیں اس سے ساقط(محذوف) ہو جائیں گی۔

مذکورہ آثار سے معلوم ہوا کہ پانچ یا اس سے کم نمازیں ہوں توقضا کرنی ہوگی؛ ورنہ نہیں؛ اس لیے کہ اس سے زیادہ میں حرج ہے۔

مسئلہ:9

جس پر پاگل پن یا بیہوشی طاری ہو جائے اور بیہوشی اور جنون پانچ نمازوں تک یا اس سے کم تک مسلسل رہے تو افاقہ ہو جانے کے بعد اس کی قضا کرے ، اور اگر اس سے زیادہ ہو جائے تو وہ نمازیں اس سے ساقط ہو جائیں گی۔

مسئلہ:10

جو شخص کھڑے ہو کر نمازشروع كرے پھر کھڑا نہ رہ سکے تو اگر بیٹھ سکتا ہو تو بیٹھ کر نمازمكمل كرلے اگر بیٹھ بھی نہ سکتا ہو تو لیٹ کر اشارہ سے نماز مکمل کرلے۔