Advertisement

کتاب” گلزار اردو” برائے نویں جماعت۔

تعارف مصنف:

آپ کا نام معین احسن جبکہ جذبی تخلص کرتے تھے۔ 1912ء میں مبارک پور،ضلع احسن گڑھ میں پیدا ہوئے۔ جھانسی،آگرہ،لکھنو اور دہلی میں تعلیم حاصل کی۔ایم اے پاس کرنے کے بعد ملازمت کی غرض سے مختلف شہروں میں رہنے کا موقع ملا۔آپ بحثیت اردو استاد شعبہ اردو مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے وابستہ رہے۔وہیں سے ملازمت سے سبکدوش ہونے کے بعد علی گڑھ میں مستقل سکونت اختیار کرلی۔

Advertisement

آپ کو بچپن سے شاعری کا شوق تھا۔ “فروزاں”, “گدازِ شب” اور”سخن مختصر” ان کے شعری مجموعے ہیں۔ حالی کا سیاسی شعور ان کا تحقیقی مقالہ ہے۔آپ کا شمار ممتاز ترقی پسند شعرا میں ہوتا ہے۔ اقبال اعزاز، غالب ایوارڈ،میر اکادمی لکھنواور یوپی اردو اکادمی کے علاوہ بھی آپ کو دیگر اعزاز مل چکے ہیں۔2005ء میں آپ کا انتقال علی گڑھ میں ہوا اور وہیں اپ کی تدفین عمل میں آئی۔

Advertisement

غزل کی تشریح:

مرنے کی دعائیں کیوں مانگوں،جینے کی تمنا کون کرے
یہ دنیا ہو یا وہ دنیا،اب خواہش دنیا کون کرے

اس شعر میں شاعر معین احسن جذبی اس دنیا کی پریشانیوں،مصائب اور تکالیف کے ستائے جانے کے بعد کہتا ہے کہ زندگی کے حالات ایسا رخ اختیار کر گئے ہیں کہ نہ تو مرنے کی دعا مانگنا چاہتا ہوں اور نہ اس دل میں جینے کی کوئی تمنا باقی رہی ہے۔ اس دنیا کی کوئی یا کسی طرح کی بھی خواہش اس دل میں باقی نہیں رہی ہے۔ نہ تو اس دنیا میں رہنے کی خواہش ہے اور نہ اگلی دنیا کی کوئی خواہش دل میں باقی ہے۔

Advertisement
جب کشتی ثابت و سالم تھی،ساحل کی تمنا کس کو تھی
اب ایسی شکستہ کشتی پر ساحل کی تمنا کون کرے

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ جب زندگی کی کشتی اپنے معمولات کے مطابق اور صیح سلامت رواں دواں تھی تب تک کسی ساحل یا کنارے کی کوئی خواہش دل میں موجود نہ تھی۔ مگر اب زندگی کی یہی کشتی اس شکستہ حال کی شکار ہو چکی ہے کہ دل میں ساحل کی تمنا اب بھی باقی نہیں رہی ہے۔ زندگی کے دونوں رویوں کی صورت میں مایوسی کا اظہار ملتا ہے۔

جو آگ لگائی تھی تم نے،اس کو تو بجھایا اشکوں نے
جو اشکوں نے بھڑکائی ہے،اس آگ کو ٹھنڈا کون کرے

شاعر اس شعر میں اپنے محبوب یا زندگی کے نا مصائب حالات کو مخاطب کر کے کہتا ہے کہ میری زندگی میں جو آگ تم نے لگائی اس کو تو میرے اشکوں نے بجھا دیا۔مگر ان اشکوں کے بہنے کی وجہ سے میرے دل میں جو آگ لگی ہے اس کو اب کون ٹھناڈا کرے گا۔

Advertisement
دنیا نے ہمیں چھوڑا جذبی،ہم چھوڑ نہ دیں کیوں دنیا کو
دنیا کو سمجھ کر بیٹھے ہیں،اب دنیا دنیا کون کرے۔

اس شعر میں شاعر خود کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے کہ دنیا نے مجھے ٹھکرادیا ہے تو کیوں نہ ہم بھی اس دنیا کو ٹھکرا کر چھوڑ دیں۔ زندگی نے جس طرح کے حالات دکھائے ہیں اس سے میں تو اس دنیا اور اس کے چال چلن کو اچھی طرح سمجھ گیا ہوں۔اب اس دنیا کے راگ میں ہر گز نہ الاپوں گا۔

سوالوں کے جواب لکھیے:

سوال نمبر01:مطلعے میں شاعر نے اپنی کس کیفیت کا اظہار کیا ہے؟

مطلعے میں شاعر نے اپنی پریشانیوں اور بے چینیوں کا ذکر کرتے ہوئے اس دنیاوی زندگی سے بے زاری کا اظہار کیا ہے۔جس کی وجہ سے شاعر کی دنیا اور جینے کی ہر آرزو دم توڑ چکی ہے۔

Advertisement

سوال نمبر02:اشکوں کی آگ سے شاعر کی کیا مراد ہے؟

اشکوں کی آگ سے شاعر کی مراد اس کی زندگی کی تکالیف ہیں۔جن پر رونے کے سوا اور کوئی چارا نہیں ہے۔

سوال نمبر03:درج ذیل شعر کا مفہوم واضح کیجیے:

جب کشتی ثابت و سالم تھی،ساحل کی تمنا کس کو تھی
اب ایسی شکستہ کشتی پر ساحل کی تمنا کون کرے

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ جب زندگی کی کشتی اپنے معمولات کے مطابق اور صیح سلامت رواں دواں تھی تب تک کسی ساحل یا کنارے کی کوئی خواہش دل میں موجود نہ تھی۔ مگر اب زندگی کی یہی کشتی اس شکستہ حال کی شکار ہو چکی ہے کہ دل میں ساحل کی تمنا اب بھی باقی نہیں رہی ہے۔ زندگی کے دونوں رویوں کی صورت میں مایوسی کا اظہار ملتا ہے۔

Advertisement

Advertisement

Advertisement