Advertisement

صنف مرثیہ دراصل اودھ کی سرزمین میں خلیق و ضمیر اور انیس و دبیر کے ہاتھوں اپنی معراجِ کمال کو پہنچی۔ان باکمالوں کے بعد کوئی فن کی ان بلندیوں تک نہ پہنچ سکا۔انیس اور دبیر چونکہ مرثیہ نگار کے ساتھ ساتھ مرثیہ خوان بھی تھے چناچہ انہوں نے سامعین کی ترجیحات کو سامنے رکھا اور بہت سے ایسے اجزاء مرثیے میں شامل کیے جو صنف مرثیہ کے تقدس واحترام کے عین مطابق نہیں تھا۔مثلا بہاریہ مضامین، گھوڑے اور تلوار کی تعریف میں اعلیٰ انداز بیان،منظر نگاری پر خصوصی زور اور اس ضمن میں جو مناظر دکھائے گئے وہ کربلا کے میدان سے حقیقی صورتحال سے دور تھے۔یہی کیفیت سیرت نگاری کی بھی ہوئی۔ان مرثیوں میں شہدائے کربلا عرب کے ہیرو کے بجائے اودھ کے ہیروز زیادہ نظر آتے ہیں۔اور بعض مقامات پر خواتین کربلا کی جو تصویریں پیش کی گئیں وہ بھی ان کے مرثیے کے لحاظ سے موافقت نہیں رکھتے باوجود اسکے کہ انیس و دبیر کے فن میں ان خامیوں کو چھپا دیا مگر بعد کے مرثیہ نگار اس کی پیروی نہ کر سکے اور مرثیہ میں جو لطف و اثر تھا وہ بتدریج زائل ہوتا گیا۔

Advertisement

انیس اور دبیر کے سامعین میں امرا و نوابین بھی ہوا کرتے تھے۔وہ انھیں انعام و اکرام سے بھی نوازتے تھے تاکہ وہ فکر معاش سے بالاتر ہوکر مرثیہ کے فن کو جلا بخشتے رہیں۔مگر ان کے بعد اب سامعین میں نہ تو و امرا تھے جو انعام اکرام دے سکتے تھے اور نہ انیس اور دبیر جیسا فن تھا جن کا جادو سر چڑھ کر بولتا۔انیس و دبیر کے بعد لکھنؤ کی شان شوکت زوال پذیر ہوئی اور رزمیہ رنگ شاعری سے دلچسپی رفتہ رفتہ ختم ہوتی گئی۔

Advertisement

جدید دور کے مرثیہ نگاروں نے مرثیے کی صنف میں موضوع اور ہیئت کے اعتبار سے نئے تجربے کیے جو مقبولِ عام نہ ہو سکے مثلاً شاد عظیم آبادی کے مرثیے سے وہ اجزاء حزف کیے جو اصلیت سے دور نظر آتے تھے۔گریہ و بکا کی جگہ فلسفہ و تصوف کے مضامین داخل کئے اور واقعات کربلا سے اخلاقی نتائج کے استنباط کا رجحان پیدا کرنے کی کوشش کی لیکن چونکہ مرثیہ کا فن اسلئے عروج حاصل کرسکا کے آہ و بکا پرکھی گئ اور مذہبی جذبے کے تحت یاد حسین میں رونے رلانے کو کار ثواب سمجھا گیا لہذا مرثیے میں دیگر اخلاقی مضامین ذہن و فکر کو متاثر تو کر سکتے تھے مگر جذبات کو نہیں۔اس وجہ سے اصل مقصد فوت ہونے لگا۔دوسری اہم بات یہ ہے کہ مروجہ ہیئت میں تبدیلی کے سبب رزمیہ عناصر غائب ہونے لگے لیکن جہاں تک رزمیہ عناصر کا تعلق ہے ان میں کمی آ جانےسے مرثیے کے فن کو نقصان پہنچا۔

Advertisement

اسی طرح محاکات کی جو فضا اور جذبات نگاری کا جوانداز قدیم مرثیہ گویوں کے ہاں ملتا ہے جدید رنگ کے مرثیہ نگار اس کو پیش کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔لہذا موجودہ دور میں مرثیہ زوال پذیر ہونے لگا ہے۔

مرثیہ چونکہ مذہب سے جڑا رہا اور عقیدت سے مرثیہ کی مجلس منعقد ہوتی رہیں اور آج بھی یہ سلسلہ قائم ہے۔اگر صنف مرثیہ کا یہ تعلق نہ ہوتا تو شاید یہ بھی قصیدے کی طرح روایت بن کر رہ جاتی۔آج عقیدت کی بنا پر مرثیہ کی صنف موجود ضرور ہے لیکن آج بھی قدیم مرثیے ہی زیادہ پسندیدہ ہیں۔

Advertisement
Advertisement

Advertisement

Advertisement