Advertisement

مثنوی اپنے گھر کا حال کی تشریح

کیا لکھوں میرؔ اپنے گھر کا حال
اس خرابے میں میں ہوا پامال

اس نظم میں شاعر میر تقی میر نے اپنے گھر کی بدحالی کوبیان کیا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ میں اپنے گھر کی بدحالی کا کیا حال بیان کروں کہ اس بدحالی اور خرابی کی وجہ سے تو میں روندا گیا ہوں۔

Advertisement
چار دیواری سو جگہ سے خم
تر تنک ہو تو سوکھتے ہیں ہم

شاعر کہتا ہے کہ گھر کی چار دیواری کے یہ حالات ہیں کہ وہ کئی جگہ سے جھکی ہوئی ہے۔کبھی یہ بھیگ جائے تو میرا جینا مشکل ہو جاتا ہے۔

Advertisement
لونی لگ لگ کے جھڑتی ہے ماٹی
آہ کیا عمر بے مزہ کاٹی

شاعر کہتا ہے کہ گھر کی دیواریں ایسی خستہ حال ہو چکی ہیں کہ جیسے نمکین مٹی جھڑتی ہے ایسے نمکین مٹی کی طرح یہ دیواریں جھڑ کے گر رہی ہیں۔ افسوس کہ میں کیا بدمزہ زندگی کاٹ رہا ہوں۔

بان جھینگر تمام چاٹ گئے
بھیگ کر بانس پھاٹ پھاٹ گئے

شاعر گھر کی خستہ حالی بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ میرے گھر کی چارپایوں کا یہ حال ہے کہ اس کی چارپائیوں کا بان جھینکر چاٹ کر کھا گئے ہیں۔جبکہ اس کے بانس مسلسل بھیگنے کی وجہ سے پھٹ کر خراب ہوگئے ہیں۔

Advertisement
تنکے جاں دار ہیں جو بیش و کم
تن پہ چڑیوں کی جنگ ہے باہم

شاعر کہتا ہے کہ جو کچھ تنکے باقی ہیں ان پر بھی پرندوں اور چڑیوں کی مسلسل جنگ جاری رہتی ہے کہ وہ اسے اپنا مسکن بنائے ہوئے ہیں۔

Advertisement
ایک کھینچے ہے چونچ سے کر زور
ایک مگری پہ کر رہی ہے شور

شاعر کہتا ہے کہ چڑیوں کی یہ آپسی جنگ ایسی جاری ہے کہ ایک چونچ سے زور لگا کر اپنی جانب کھینچتی ہے تو دوسری اس کے لیے شور مچانے لگ جاتی ہے۔

بوریا پھیل کر بچھا نہ کبھو
کونے ہی میں کھڑا رہا یکسو

شاعر کہتا ہے کہ میرے گھر کی یہ حالت ہے کہ میری حسرت ہی رہی ہے کہ میں کبھی یہاں پر اپنا بستر پھیلا کر لیٹ سکوں۔میں ہمیشہ یہاں ایک کونے میں ہی لگ کر کھڑا رہتا ہوں کہ یہاں کوئی لیٹنے کی صورتحال ہی نہیں ہے۔

Advertisement
ڈیوڑھی کی ہے یہ خوبی در ایسا
چھپر اس چونچلے کا گھر ایسا

شاعر کہتا ہے کہ گھر کی ڈیوڑھی کہنے کو بس ڈیوڑھی ہے۔ اس ڈیوڑھی کی یہ خاصیت ہے کہ اس کے تمام تر چونچلے ایک چھپر والے ہیں۔ یعنی یہ ڈیوڑھی کسی چھپر سے کم نہیں ہے۔

جنس اعلیٰ کوئی کھٹولا کھاٹ
پائے پٹی رہے ہیں جن کے پھاٹ

یہ اتنی اعلیٰ نسل ہے کہ جیسے کوئی کھٹولا یا جھولا ہوتا ہے۔جبکہ اس کے پائے پٹیاں اور دیگر سب کچھ بھی ہلا ہوا ہے۔

Advertisement
کھٹملوں سے سیاہ ہے سو بھی
چین پڑتا نہیں ہے شب کو بھی

شاعر کہتا ہے کہ میرے گھر اور چارپائی کی حالت ایسی ہے کہ اس میں بہت زیادہ کھٹمل پڑے ہوئے ہیں۔ایک طرح سے یہ کھٹملوں سے بالکل سیاہ ہے۔ یہاں سو بھی جاؤں تو ان کھٹملوں کی وجہ سے نہ دن کا سکون ہے اور نہ رات کا سکون ہے۔

شب بچھونا جو میں بچھاتا ہوں
سر پہ روز سیاہ لاتا ہوں

شاعر کہتا ہے کہ رات کو میں سونے کے لیے جو اپنا بچھونا بچھاتا ہوں تو یہ گھڑی میرے لیے ایسی ہی ہوتی ہے کہ جیسے میں خود اپنے لیے ایک تاریخ رات کا انتخاب کر رہا ہوں۔

Advertisement
کیڑا ایک ایک پھر مکوڑا ہے
کھانے کو شام ہی سے دوڑا ہے

شاعر کہتا ہے کہ یہاں اتنے کیڑے مکوڑے ہیں کہ سر شام ہی یہ مجھے کاٹ کھانے کو دوڑتے ہیں۔

ایک چٹکی میں ایک چھنگلی پر
ایک انگوٹھا دکھاوے انگلی پر

ان کیڑوں نے کوئی جسم کا حصہ نہیں چھوڑا کہ جہاں انھوں نے مجھے نہ کاٹا ہو۔ایک اگر چھنگلی پر چٹکی بھر رہا ہے تو دوسرا اپنا اثر انگلی پر دکھا جاتا ہے۔ ان مکوڑوں نے جینا پوری طرح حرام کر کے رکھا ہے۔

Advertisement
گرچہ بہتوں کو میں مسل مارا
پر مجھے کھٹملوں نے مل مارا

شاعر کہتا ہے کہ اگرچہ ان کیڑوں مکوڑوں میں سے بہت سے مکوڑوں کو میں نے اپنے ہاتھوں سے مسل کر مار کے پھینک دیا ہے مگر کھٹمل تو ابھی بھی باقی ہیں۔اس لیے میں جب مکوڑوں کو مارتا ہوں تو وہ مجھے مارتے ہیں۔

ملتے راتوں کو گھس گئیں پوریں
ناخنوں کی ہیں لال سب کوریں

شاعر کہتا ہے کہ رات رات بھر ان کے کاٹنے کی وجہ سے میں اپنا جسم ملتا رہتا ہوں۔جس کی وجہ سے میری انگلیوں کی پوریں تک گھس چکی ہیں۔دوسری جانب میرے ناخنوں کے سب سرے لال ہوچکے ہیں۔

Advertisement
ہاتھ تکیے پہ گہ بچھونے پر
کبھو چادر کے کونے کونے پر

شاعر رات کی نیند کی بے چینی کو بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ حالت ایسی ہوتی کہ کبھی ہاتھ تکیے پر پٹکے جاتے کہ وہاں کھٹملوں کا راج ہوتا ہے تو کبھی یہی ہاتھ بچھونے پر ہوتے ہیں۔کبھی کبھی تو چادروں کے کونوں پر موجود ہوتے ہیں۔

جھاڑتے جھاڑتے گیا سب بان
ساری کھاٹوں کی چولیں نکلیں ندان

شاعر کہتا ہے کہ ان کھٹملوں سے جان چھڑانے کے لیے ان کو اتنا جھاڑ چکا ہو ں کہ چارپائیوں کا بان تو جھڑ چکا ہے مگر یہ جان نہیں چھوڑتے۔ یہاں تک کہ سب چارپائیوں کی چولیں تک ہل کے رہ گئی ہیں۔

Advertisement
نہ کھٹولا نہ کھاٹ سونے کو
پائے پٹی لگائے کونے کو

شاعر کہتا ہے کہ اب تو کوئی چارپائی تک سونے کو نہیں بچی ہے یہاں تک کہ بچوں کا کوئی کھٹولا ہو وہ بھی نہیں ہے۔ اس کے پائے اور پٹیاں گھر کے ایک کونے میں لگے کھڑے ہیں۔

سوتے تنہا نہ بان میں کھٹمل
آنکھ منھ ناک کان میں کھٹمل

شاعر کہتا ہے کہ ان کھٹملوں کو سکون نہیں ہے کہ یہ کبھی بان میں تنہا سکون سے نہیں رہتے ہیں۔بلکہ یہ میرے اوپر چڑھ دوڑتے ہیں کہ کبھی میری آنکھ میں گھس رہے ہیں تو کبھی منھ ناک اور کان وغیرہ میں۔

Advertisement
اک ہتھیلی پہ ایک گھائی میں
سیکڑوں ایک چارپائی میں

شاعر کہتا ہے کہ ان کھٹملوں کی تعداد بہت زیادہ ہے کہ ایک اگر میری ہتھیلی پر ہے تو سینکڑوں چارپائی میں موجود ہیں۔

ہاتھ کو چین ہو تو کچھ کہیے
کب تلک یوں ٹٹولتے رہیے

شاعر کہتا ہے کہ میں ان کے سامنے بہت بے بس ہوں کہ خود کو کجھانے یا ان کو مارنے میں میرے ہاتھ ہر لمحہ مصروف ہیں۔ہاتھ کو اگر کسی گھڑی سکون ملے تو ہی ان کے سدباب کا کوئی حل نکال سکوں۔

Advertisement
یہ جو بارش ہوئی تو آخرکار
اس میں سی سالہ وہ گری دیوار

شاعر کہتا ہے کہ اب جو بارش ہوئی تو اس نے رہی سہی کسر بھی پوری کردی ہے اور اس میں وہ خستہ حال کئی سالہ پرانی دیوار بھی آج گر گئی ہے۔

ایسے ہوتے ہیں گھر میں تو بیٹھے
جیسے رستے میں کوئی ہو بیٹھے

شاعر کہتا ہے کہ اس دیوار کے گرنے سے اب جس گھر میں بیٹھا ہوں اس کی حالت ایسی ہوگئی ہے کہ جیسے میں کہیں راستے میں بیٹھا ہوا ہوں۔

Advertisement
دو طرف سے تھا کتوں کا رستہ
کاش جنگل میں جاکے میں بستا

شاعر کہتا ہے کہ گھر کی دیوار بھی ڈھے چکی ہے تو کتوں کو اب گھر میں گھسنے اور دندنانے کا ایک باقاعدہ راستہ مل چکا ہے۔ اس سے بہتر تھا کہ کاش میں جاکر کسی جنگل میں بس جاتا۔

ہو گھڑی دو گھڑی تو دتکاروں
ایک دو کتے ہوں تو میں ماروں

شاعر کہتا ہے کہ ان کتوں کو میں کتنا دھتکار سکتا ہوں ۔اگر ایک گھڑی یا دو گھڑی دھتکارنا بھی ہو تو میں انھیں دھتکار لوں گا۔اگر ایک یا دو کتے ہوتے تو میں ان کو مار بھی سکتا تھا۔

Advertisement
چار جاتے ہیں چار آتے ہیں
چار عف عف سے مغز کھاتے ہیں

مگر یہاں ان کتوں کی تعداد بہت زیادہ ہے کہ دو چار آرہے ہیں تو دو چار جارہے ہیں۔ اور دو چار مسلسل غرا غرا کر میرا دماغ چاٹ رہے ہیں۔

دن کو ہے دھوپ رات کو ہے اوس
خواب راحت ہے یاں سے سو سو کوس

شاعر کہتا ہے کہ گھر کی دیوار تو ڈھ چکی ہے اب دن بھر خوب دھوپ ہوتی ہے اور رات بھر اوس پڑتی ہے۔سکون ،خواب سب کچھ مجھ سے کوسوں دور جا چکا ہے۔

Advertisement
قصہ کوتہ دن اپنے کھوتا ہوں
رات کے وقت گھر میں ہوتا ہوں

شاعر کہتا ہے کہ قصہ مختصر یہ ہے کہ میں اپنے دن خراب کرہا ہوں اور رات بھر بھی گھر میں ہی پڑا ہوا ہوں۔

نہ اثر بام کا نہ کچھ در کا
گھر ہے کاہے کا نام ہے گھر کا

شاعر کہتا ہے کہ گھر کی حالت ایسی ہوچکی ہے کہ اس کے درو دیوار اور چھت وغیرہ کا ہونا نہ ہونا اب برابر ہوچکا ہے۔یہ کیسا گھر ہے۔گھر تو بس اس کا نام ہے مگر اس میں گھر سا کچھ بھی موجود نہیں ہے۔

Advertisement

سوالات:

سوال نمبر01:’اس خرابی میں ہوا پامال ‘ سے شاعر کی کیا مراد ہے؟

اس سے شاعر کی مراد ہے کہ گھر کی اس خستہ حالی کی وجہ سے میں روندا گیا ہوں اور رل کر رہ گیا ہوں۔

Advertisement

سوال نمبر02: میر نے اپنے گھر میں کھٹملوں کا ذکر کس طرح کیا ہے؟

میر نے کھٹملوں کا ذکر یوں کیا ہے کہ یہ بستر چارپائیوں ہر جگہ پر موجود ہیں۔ان کو جھاڑنے کے چکر میں چارپائیوں کا بان تک چھڑ چکا ہے۔رات بھر یہ کھٹمل سونے بھی نہیں دیتے ہیں۔

سوال نمبر03:شاعر نے گھر کو راستہ کیوں کہاہے؟

گھر کی دیوار گر جانے کی وجہ سے گھر کی حالت ایسی ہوگئی تھی کہ جیسے کوئی راستے میں بیٹھا ہوا ہو۔اس لیے شاعر نے اسے راستہ کہا کہ کتوں نے بھی اسے آمدورفت کے کیے برتنا شروع کردیا تھا۔

سوال نمبر04:عف عف سے مغز کھانے کا کیا مطلب ہے؟

عف عف سے مغز کھانے سے مراد ہے کہ کتوں کے مسلسل غرانے کی آواز سے سر میں جو درد ہورہا ہے۔

سوال نمبر05:میر نے یہ کیوں کہاہے’گھر ہے کاہے کا نام ہے گھر کا’؟

شاعر نے یہ بات اس لیے کہی ہے کہ اوپر بیان کی کئی گھر کی تمام حالت کو اگر دیکھا جائے تو اس گھر میں گھر کی سی کوئی خوبی موجود نہیں ہے بلکہ یہ بس نام کا گھر ہے۔

زبان وقواعد:

نیچے لکھے مصرعوں کو مکلمل کیجیے۔

کیا لکھوں میرؔ اپنے گھر کا حال
اس خرابے میں میں ہوا پامال
لونی لگ لگ کے جھڑتی ہے ماٹی
آہ کیا عمر بے مزہ کاٹی
شب بچھونا جو میں بچھاتا ہوں
سر پہ روز سیاہ لاتا ہوں
یہ جو بارش ہوئی تو آخرکار
اس میں سی سالہ وہ گری دیوار
ایسے ہوتے ہیں گھر میں تو بیٹھے
جیسے رستے میں کوئی ہو بیٹھے
قصہ کوتہ دن اپنے کھوتا ہوں
رات کے وقت گھر میں ہوتا ہوں
نہ اثر بام کا نہ کچھ در کا
گھر ہے کاہے کا نام ہے گھر کا

عملی کام:

اس مثنوی کا خلاصہ لکھیے۔

شاعر میر تقی میر نے اس مثنوی میں اپنے گھر کی بدحالی کو منفرد انداز میں نظم کیا ہے۔ یہ گھر کسی چجپڑ سے کم نہیں ہے۔اس کی خستہ حالی کا یہ عالم ہے کہ اس کی دیواریں لونی کی طرح جھڑ جھڑ کر گر رہی ہیں۔ یہاں کھٹملوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ دن رات کا سکون غارت ہے۔میں ان کے سامنے بہت بے بس ہوں کہ خود کو کجھانے یا ان کو مارنے میں میرے ہاتھ ہر لمحہ مصروف ہیں۔

ہاتھ کو اگر کسی گھڑی سکون ملے تو ہی ان کے سدباب کا کوئی حل نکال سکوں۔ انتہائی خستہ حال ہیں اور ٹوٹ چکی ہیں۔گھر کی دیوار بھی بارش کی وجہ سے گر گئی ۔اب گھر کی حالت ایسی ہے کہ جیسے کوئی سڑک پر بیٹھا ہو۔رات بھر یہاں کتے گھس کر غراتے ہیں۔رات بھر سونا مشکل ہے۔اس سے بہتر ہے کہ میں جنگل میں جا بستا۔گھر کی دیوار تو ڈھ چکی ہے اب دن بھر خوب دھوپ ہوتی ہے اور رات بھر اوس پڑتی ہے۔سکون ،خواب سب کچھ مجھ سے کوسوں دور جا چکا ہے۔گھر کی حالت ایسی ہوچکی ہے کہ اس کے درو دیوار اور چھت وغیرہ کا ہونا نہ ہونا اب برابر ہوچکا ہے۔یہ کیسا گھر ہے۔گھر تو بس اس کا نام ہے مگر اس میں گھر سا کچھ بھی موجود نہیں ہے۔

Advertisement