تعارف

آپ سول سروس آف پاکستان (ڈسٹرکٹ مینجمنٹ گروپ) کے ریٹائرڈ آفیسر ہیں۔ ۱۹۹۴ میں ریٹائرمنٹ کے بعد سے ۲۰۰۹ تک پاکستان کے انگریزی اور اردو پریس میں مضامین لکھتے رہے ، لیکن اب زیادہ تر اردو ادب لکھنے کے زندگی بھر کے شوق کی تلاش میں ہیں۔

مسعود مفتی ایک پاکستانی مصنف ہیں جو ۱۹۷۱ کی جنگ پر اپنی کتابوں کے لئے مشہور ہیں۔ وہ اپنے افسانوں میں خالص حقیقت پسندی کی تکنیک کا استعمال کرتے ہیں۔ ان کے افسانوں کی ایک بڑی خوبی انسانی شخصیت اور کردار ، داخلی تضادات کا مطالعہ ہے۔ انسانیت پسندی ، قوم پرستی اور عام لوگوں کے لئے ذمہ داری کا احساس ان کی تحریروں کا نمایاں رنگ ہیں ، جو انھیں موجودہ ادبی منظرنامے میں ترقی دیتا ہے۔

ناقدین کی رائے

کیشور ناہید نے کہا کہ :
مشرقی پاکستان کی شکست کے بارے میں مسعود مفتی کی تحریریں بہت متاثر کن ہیں۔ انہوں نے اس شکست کے المناک واقعات پر توجہ دی اور ان واقعات کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے خود کو اردو ادبی منظر نامے میں نمایاں کیا۔ بنیادی طور پر وہ ایک سادہ مزاج ، متقی شخص ہیں اور وہ معاشرے کو نہ صرف فکری بلکہ رویے کے اعتبار سے بھی بدلنا چاہتے ہیں۔

آفتاب اقبال شمیم ​​نے کہا کہ :
مسعود مفتی کی تحریروں میں نہ صرف یہ کہ وہ نہایت ہی عمدہ ادبی قابلِ قدر ہیں بلکہ وہ ہمارے دور کے اجتماعی شعور میں بھی اضافہ کی ایک وجہ بنے ہیں۔ ان کی مختصر کہانیوں کی بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ وہ سیدھے اور سادے انداز میں بیان کرتے ہیں اور قارئین ان کے ساتھ خود کو گھر میں محسوس کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے افسانوں میں وجہ اور اثر رشتہ کو برقرار رکھتے ہیں۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ انہوں نے اپنی مختصر کہانی کو علامتی اور رکاوٹ کے استعمال سے بچایا۔

ڈاکٹر مقصودہ نے کہا کہ :
مسعود مفتی اعلیٰ صلاحیت کے مصنف ہیں۔ انہوں نے اپنی پیشہ وارانہ زندگی میں ان کے حقیقی واقعات کو فرضی تصور کیا۔ انہوں نے اس صورتحال کو بیان کیا ، جس کا مشاہدہ انہوں نے مشرقی پاکستان ڈیبکل کے ارد گرد کیا۔ انہوں نے "ہم نفس” ، "چہرے” اور ڈیری "لامھے” جیسی قابلِ ذکر کتابیں تیار کیں۔ ہم ان کی تحریروں سے سبق سیکھ سکتے ہیں۔

منشا یاد نے کہا کہ :
ڈاکٹر مقصود حسین نے مسعود مفتی کی تحریروں کے کامیابی سے ادبی اور علمی پہلوؤں کا احاطہ کرکے ایک عمدہ کام کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مسعود مفتی کی کچھ مختصر کہانیاں سفر کے مقامات کی طرح کافی لمبی اور ذائقہ دار ہیں لیکن ان کی پوری توجہ عام آدمی کے طرز عمل کی اصلاح اور کرداروں کی جذباتی شخصیت کی پیش کش پر مرکوز رہی ہے۔

محمد حمید شاہد نے کہا کہ :
ان کے افسانوں میں بیان کردہ واقعات زیادہ تر حقیقی ہیں۔ وہ ایک حساس افسانہ نگار ہین اور انھوں نے زوال مشرقی پاکستان کے عمل کو قریب سے دیکھا ہے اور ان واقعات نے عام لوگوں کی زندگی اور شخصیت کو کیسے متاثر کیا۔

اعزازات

  • آپ کو آدم جی ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔
  • آپ کو چھ ستمبر ادبی انعام سے بھی نوازا گیا ہے۔
  • آپ کی ادبی خدمات کے اعتراف میں "ہجری” انعام سے بھی نوازا گیا۔

تصانیف

آپ کی قومی ادب پر لکھی گئی تصانیف کے نام درج ذیل ہیں :

  • چہرے
  • رگِ سنگ
  • ریزے
  • لمحے
  • ہم نفس
  • چہرے اور مہرے

آپ کی دیگر ادب پر لکھی گئی کتابوں کے درج ذیل ہیں :

  • محدب شیشہ
  • کھلونے
  • تکون
  • سالگرہ
  • سرِ راہے
  • توبہ
  • جھرنوں سے کرنیں

کالم

ان کی دو کتابیں روزن (اردو) اور رئیر ویو (انگریزی) کالم کی بھی شائع ہو رہی ہیں۔ ان میں انگریزی (روزنامہ ڈی اے ڈبلیو این) اور اردو (روزنامہ نوائے وقت وغیرہ) میں پاکستانی پریس کے لئے چودہ سال سے زیادہ عرصے پر لکھے گئے منتخب کالم شامل ہیں۔

Advertisements