پریس کی آزادی پر ایک مضمون

"آزادیِ تقریر” یہ ایک ایسی تقریر ہے جو کہ ہر انسان اور ملک کے لیے بڑی اہمیت رکھتی ہے اور یہ آزادی ہم کو پریس کے ذریعے سے حاصل ہوتی ہے۔ ہم کو اپنے خیالات کا اظہار کرنے کی آزادی ملنی چاہیے۔ یہ انسان کو آگے بڑھنے اور انسانیت پر قائم رہنے میں مدد دیتی ہے۔ اخبارات پڑھے لکھے لوگوں کے خیالات کی نمائندگی کرتے ہیں جو کہ سماج کو سدھارنے میں بڑی مدد دیتا ہے۔

پریس عوام کی ایسی زبردست طاقت ہے جس کی مدد سے عوام حکومت کے کاموں پر نظر رکھتے ہیں اور اگر وہ اپنے راستے سے ذرا بھی ہٹتے ہیں تو عوام پرست کی مدد لیتے ہیں۔ ہمارے پاس یہ ایسی چھپی ہوئی طاقت ہے جس کی مدد سے ہم اپنے لیڈروں کو صحیح راستے پر لا سکتے ہیں۔پرس کی نظریں اتنی تیز ہوتی ہیں کہ یہ بہت اندر تک دیکھ لیتی ہیں اور بہت چھپے ہوئے رازوں کو جان لیتی ہیں۔

یقیناً جس چیز کو اتنی زبردست اہمیت حاصل ہے اور جو عوام کے لیے اتنی مددگار ہے اس کو کام کرنے کے لیے خوشگوار اور سازگار حالات کی ضرورت ہوگی۔ اس کو آزاد ماحول ملنا چاہیے تاکہ یہ اطمینان سے اپنا کام کر سکے۔ اور اس کو اجازت ملنی چاہیے کہ بغیر کسی خوف یا کسی کی طرفداری کے اپنا کام کر سکے۔ لوگوں کو اجازت ملنی چاہیے کہ وہ آگے آکر اپنے خیالات کا اظہار کرسکیں کیونکہ قدرت نے انسان کو بہت سی خوبیوں سے نوازا ہے۔

اکثر بہت معمولی آدمی کی نظر بعض باتوں پر پڑ جاتی ہے جس کی طرف کبھی کبھی بڑے آدمیوں کی نظر نہیں پڑتی اور اس کی مدد سے بہت سے کام ہو جاتے ہیں۔ جو کہ سماج کے لئے بہت مفید ثابت ہوتے ہیں۔

جے-ایس-مل کا کہنا ہے کہ اگر 99 آدمی ایک بات کہہ رہے ہوں اور ایک آدمی ان کی مخالفت کررہا ہے تو ان 99 لوگوں کو کوئی اختیار نہیں ہے کہ وہ اس ایک آدمی کو خاموش کریں اور نہ اس ایک آدمی کو اختیار ہے کہ وہ ان 99 لوگوں کو خاموش کرے۔پرس قومی اور بین الاقوامی مسائل پر بحث و مباحثے ممکن کر دیتی ہے۔ اس کی مدد سے بڑے بڑے مسائل کو سلجھانے میں مدد ملتی ہے کیونکہ ہر ملک کی اپنی رائے ہوتی ہے۔بعض اوقات ان کے رائے سے مسئلے حل ہونے میں آسانی ہوتی ہے۔ اس طرح سے ہمارا سماج بہتر ہوتا ہے اور اوپر اٹھتا ہے۔

اخبارات حکومت کو رائے اور مشورہ بھی دیتے ہیں اور ان کی غلطیوں پر نکتہ چینی بھی کرتے ہیں۔ گورنمنٹ جو کام کرتی ہے یہ ان کو سب کے سامنے لاتے ہیں۔ عوام کو اگر حکومت سے کوئی شکایت ہوتی ہے تو وہ پریس کی مدد سے اس کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ لوگوں کے حق اور ان کی آزادی کے لئے لڑتے ہیں۔ اس کی مدد سے حکومت اور عوام دونوں ہی ایک دوسرے کے نظریے جان لیتے ہیں۔ اخباروں کا رائے عامہ پر اتنا اثر پڑتا ہے کہ وہ بڑے بڑے لیڈروں کو ان کے منصب سے ہٹا سکتے ہیں اور دوسروں کو نئے منصب دلاسکتے ہیں۔

پریس ہی نے انگلستان کے وزیراعظم میک ملین کو استعفیٰ دینے پر مجبور کر دیا تھا۔جرمنی اور اٹلی کی فاشٹ حکومتوں نے چاہا کہ وہ پریس کا منہ بند کردیں لیکن نہیں کر سکے۔انگریز ہمیشہ اخبار کی آزادی کے حامی رہے انہوں نے اخباروں کی آزادی کو نہ صرف اپنے ملک میں رکھا بلکہ اس جگہ پر بھی رکھا جہاں پر انہوں نے حکومت کی۔ انگریزوں کی حکومت کے زمانے میں ہندوستانی اخباروں کو خاصی آزادی حاصل تھی اور انگریزوں نے ہمیشہ اس بات کا خیال رکھا کہ وہ ان لوگوں کے خیالات جانے جن پر وہ حکومت کررہے ہیں۔ اس زمانے میں ہندوستانی اخباروں نے دو کام کیے ایک تو انہوں نے مسلسل انگریزوں کو ہندوستانیوں کے اقدام سے باخبر رکھا اور دوسرے یہ کہ انھوں نے ہندوستانیوں کو ملک کی آزادی کی لڑائی کے لئے اکسایا۔ اس زمانے میں ہندوستان میں بہت سے اخبارات نکلتے تھے۔ ایک طرف تو ان اخبارات کی وجہ سے ہندوستانیوں نے آزادی کی لڑائی پرامن طریقے سے لڑی، قتل اور غارت گری کو دور رکھا یہ لڑائی اور جگہوں کے مقابلے میں زیادہ پرامن طریقہ سے لڑی گئ۔

آزادی کے بعد بھی پریس کو ہمیشہ اسی طرح آزادی رہی۔ جواہر لال نہرو پریس کی آزادی کے زبردست حامی تھے اور ان کی وجہ سے ہمارے ملک میں جمہوریت کا راج ہوا اور اس کے بعد بھی کبھی پریس پر کوئی پابندی نہیں لگائی گئی۔ نہرو کے زمانے میں اکثر ایسے مواقع آئے جب حکومت کو اپنی پالیسیوں کو بدلنا اور عوام کی مرضی پر چلنا پڑا اور عوام نے اپنی مرضی کا اظہار اخباروں کے ذریعے کیا۔ چین سے لڑائی کے دوران اخباروں نے حکومت کو بہت برا بھلا کہا کیونکہ اس کی ہار کی وجہ سے ہندوستان عوام کو بہت شرمندہ ہونا پڑا۔ اس وقت کرشنا مینن وزیر دفاع تھے اور یہ ساری ذمہ داری انہی کے اوپر آتی تھی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ عوام کا اعتماد حاصل کرنے کے لئے نہرو کو انہیں وزارت کی ذمہ داریوں سے سبکدوش کرنا پڑا۔

اس سے ہم کو یہ اندازہ ہوتا ہے کہ نہرو کے زمانے میں اخباروں کو کتنی طاقت اور عزت حاصل تھی۔ نہرو کے بعد اخباروں کو اتنی آزادی تو نہیں ملی مگر پھر بھی ایمرجنسی سے پہلے ہندوستان میں پریس کو اچھی خاصی آزادی تھی۔ ایمرجنسی کے نافذ ہونے پر اندرا گاندھی کا پہلا نشانہ اخبار تھے۔ انہوں نے سب سے پہلے اخباروں پر پابندی لگائی۔ اخباروں کی خبریں اور مضامین سنسر ہونے لگے۔ ان خبروں کے چھپنے پر پابندی لگادی گئی جن میں حکومت پر اعتراض کیا جاتا تھا اور اس زمانے میں اخباروں میں وہی سب کچھ چھپ رہا تھا جس کی حکومت اجازت دے رہی تھی۔

اندرا گاندھی کی حکومت ختم ہونے کے بعد جنتا پارٹی کا راج آیا۔ اس وقت پرس کے اچھے دن پھر سے واپس آگئے۔ مگر پھر جنتا پارٹی کا راج اسی طرح آپس میں لڑائی جھگڑے کرتے ہی گزرا اور وہ اپنا کام کبھی نہ کر سکے جس کا انہوں نے خود عوام سے وعدہ کیا تھا۔ اس پریس کی آزادی سے رجعت پسند اور فرقہ وارانہ تنظیموں کو پنپنے کا موقع ملا اور پھر کانگریس کی حکومت دوبارہ واپس آ گئی۔ مگر اب ان لوگوں کا کہنا تھا کہ یہ پریس کو مکمل آزادی دیں گے اور پریس پر کوئی پابندی نہیں لگائیں گئے اور ایمرجنسی کے برے دنوں کو بھلا دیا جائے۔

اب ہندوستان کی جمہوریت کو اچھی دیکھ بھال کی ضرورت ہے اور اس کام میں اخبار ایک اہم رول ادا کریں گے اور اخباروں کا فرض ہے کہ وہ عوام تک صحیح باتیں پہنچائیں اور رائے عامہ سے حکومت کو باخبر رکھیں۔ اب ہم کو یہ چاہئے کہ ہم اخباروں کو اس کی ذمہ داریاں سمجھنے میں مدد دیں۔ ہندوستان بہت بڑا ملک ہے۔ یہاں مختلف زبانیں بولنے والے بستے ہیں۔ جن کی مدد سے ہم کو اس بات کا احساس ہو سکتا ہے کہ پہلے ہم ہندوستانی ہیں اور بعد میں کچھ اور ہیں۔

اخبار اگر اپنی آزادی کو صحیح طریقہ سے استعمال کریں گے تو ہمارا ملک کہیں سے کہیں پہنچ سکتا ہے۔ لیکن یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ اخبار اگر غیر ذمہ داری برتییں گے تو ہمارا ملک برباد بھی ہو سکتا ہے۔ کیونکہ اخباروں کا پھیلایا ہوا زہر بہت تیزی سے اثر کرتا ہے۔ اس لیے ملک کی ترقی میں اخباروں کی بڑی اہمیت ہے اور ہم سب کو اس کی اہمیت کو سمجھنا چاہیے۔

Close