غزل

جفائیں دیکھ لیاں،بے وفائیاں دیکھیں
بھلا ہوا کہ تیری سب بُرائیاں دیکھیں
ترے وصال کے ہم شوق میں ہو آوارہ
عزیز دوست،سبھوں کی جُدائیاں دیکھیں
ہمیشہ مائل آئینہ ہی تجھے پایا
جو دیکھیں ہم نے،یہی خود نُمایاں دیکھیں
شہاں! کہ کحل جواہر تھی خاک پاجن کی
اُنہیں کی آنکھوں میں پھرتے سلائیاں دیکھیں
بنی نہ اپنی تو اس جنگجو سے ہر گز میر!
لڑائیں جب سے ہم آنکھیں لڑائیاں دیکھیں

تشریح

پہلا شعر

جفائیں دیکھ لیاں،بے وفائیاں دیکھیں
بھلا ہوا کہ تیری سب بُرائیاں دیکھیں

شاعر محبوب سے مخاطب ہے، کہتا ہے کہ محبت میں ہم نے تمھاری طرف جفائیں دیکھ لی ہیں اور تمہاری بے وفائی کا اندازہ بھی ہم نے دیکھ لیا ہے۔گو اس سے ہم کو بہت صدمہ پہنچا ہے یہ اچھا ہی ہوا کہ تمہاری برائیاں ہم کو پتہ چل گئیں۔ ہم کو معلوم ہوگیا کہ تو کتنا ظالم اور بے وفا ہے۔

دوسرا شعر

ترے وصال کے ہم شوق میں ہو آوارہ
عزیز دوست،سبھوں کی جُدائیاں دیکھیں

شاعر کہتا ہے کہ اے محبوب تیرے ملنے کے شوق نے ہم کو سکون سے بیٹھنے نہیں دیا۔ ہم اس وصال کے شوق میں آوارہ ہو گئے اور نتیجتاً ہمیں اپنے دوستوں کی جدائی برداشت کرنی پڑی۔گویا ہم ان سے جدا ہو گئے۔

تیسرا شعر

ہمیشہ مائل آئینہ ہی تجھے پایا
جو دیکھیں ہم نے،یہی خود نُمایاں دیکھیں

محبوب سے شاعر کہتا ہے کہ ہم نے تجھے جب بھی دیکھا آئنیے کی طرف ہی مائل دیکھا۔گویا آئینے کے سامنے خود نمائی کرتے ہی دیکھا۔یعنی اپنی نمود ونمائش کرتے ہی پایا۔

چوتھا شعر

شہاں! کہ کحل جواہر تھی خاک پاجن کی
اُنہیں کی آنکھوں میں پھرتے سلائیاں دیکھیں

بہت بڑھیا شعر ہے۔شاعر کہتا ہے وہ بادشاہ کہ جن کے پاؤں کی دھول کُحل، جواہر ہوتی تھی۔جواہرات پڑا سُرمہ ہوا کرتی تھی۔جب وقت نے پلٹہ کھایا تو انہیں بادشاہوں کی آنکھوں میں سلائیاں پھرتے بھی دیکھی گئیں۔سلائی پھیرنا گویا گرم گرم سلائیں پھیر کر اندھا کر دینا۔غالبًا اشارہ شاہ عالم کی طرف ہے کہ جس کی آنکھوں میں سلائیاں پھیردی گئی تھیں۔

پانچواں شعر

بنی نہ اپنی تو اس جنگجو سے ہر گز میر!
لڑائیں جب سے ہم آنکھیں لڑائیاں دیکھیں

غزل کے مقطع میں شاعر کہتا ہے کہ اس جنگجو محبوب سے جو ہر وقت جنگ پر آمادہ رہتا ہے، اپنی نبِھ نہیں سکی۔اس کے ساتھ جب سے آنکھیں لڑائی ہیں سوائے لڑائیوں کے ہم نے اسے کچھ نہیں پایا۔

Advertisements