• کتاب”اپنی زبان”برائے آٹھویں جماعت
  • سبق نمبر22:ڈراما
  • مصنف کا نام: ممتاز مفتی
  • سبق کا نام: مہمان

ڈراما مہمان کا خلاصہ

مہمان سبق ممتاز مفتی کا لکھا گیا ڈراما ہے۔ اس کے مرکزی کرداروں میں ثریا،جمیل اور ثریا کی دوست ناز اور اس کا شوہر اکبر شامل ہیں۔ ثریا اور اس کا شوہر حساب کتاب میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔قرض کی فکر اور ادائیگی کے لیے جمیل بار بار حساب جوڑ توڑ کر رہا تھا۔

ان کی ماہانہ تنخواہ سے قرض کی ادائیگی کے بعد بمشکل ان کے پاس 20 روپیے بچتے تھے جس میں ایک ماہ گزارنا بہت مشکل لگ رہا تھا۔ مگر ثریا جمیل کو تسلی دیتی ہے کہ اللہ کے فضل سے سب ٹھیک ہو جائے گا۔ما ہانہ بل ان کی فکر میں مزید اضافہ کر دیتے ہیں۔

Advertisement

ایسے میں ثریا جمیل کو ایک ترکیب بتاتی ہے کہ اگر وہ ایک ماہ کی چھٹی لے لے تو وہ اس کی دوست ناز کے گھر رہنے چلے جائیں گے۔ جس سے ماہانہ خرچ کا مسئلہ بھی ختم ہو جائے گا اور شملہ کے پر تفریح مقام کی سیر بھی ہو جائے گی۔ثریا کی تجویز سے خوش ہو کر جمیل نے کہا کہ اگر وہ ہفت اقلیم کا بادشاہ ہوتا تو ساری شہشا ہی ثریا کے نام کر دیتا۔ثریا کی ترکیب ناکام ہو گئی کیونکہ اس کی دوست ناز اپنے شوہر کے ساتھ اس کے گھر دو ماہ رہنے کے لیے آ جاتی ہے۔

اکبر اور ناز کی ترکیب یہ تھی کہ دو ماہ یہاں رہنے سے کم از کم چھ سو روپیہ بچ جائے گا جبکہ چار سو مکان کا کرایہ آجائے گا۔جس میں سے چھ سات سو کے اچھے جوڑے جبکہ باقی روپیہ شادی کے لین دین میں کام آئے گا۔ اب ثریا ایک نئی ترکیب بناتی ہے۔ ثریا نے مہمانوں نے چھٹکارا پا نے کے لیے اپنی خالہ کی بیماری کا بہانہ بنایا اور نقلی تار کے پیغام کے ذریعے یہ دکھایا کہ وہ فوراً وہاں پہنچنا چاہتی ہے۔

مگر ثریا کی ترکیب یوں ناکام ہوئی کہ اول تو اس کی سہیلی ناز بھی اس کے ساتھ خالہ کے گھر جانے کے کیے تیار ہو گئی جبکہ عین موقع پر خالہ ہی وہاں آ پہنچی۔یوں جمیل کے اس جملے کے ساتھ ڈرامے کا اختتام ہوتا ہے کہ الٹی ہو گئی سب تدبیریں اور پردہ گر جاتا ہے۔

جمیل بار بار حساب کیوں جوڑ رہا تھا؟

قرض کی فکر اور ادائیگی کے لیے جمیل بار بار حساب جوڑ توڑ کر رہا تھا۔

ثریا کی تجویز سے خوش ہو کر جمیل نے کیا کہا؟

ثریا کی تجویز سے خوش ہو کر جمیل نے کہا کہ اگر وہ ہفت اقلیم کا بادشاہ ہوتا تو ساری شہشا ہی ثریا کے نام کر دیتا۔

جمیل کے گھر مہمان بن کر کون لوگ آۓ ؟

جمیل کے گھر اس کی بیوی کی دوست ناز اور اس کا شوہر اکبر مہمان بن کر آئے۔

جمیل اور ثریا نے اکبر اور ناز کا استقبال کس طرح کیا؟

جمیل اور ثریا نے اکبر اور ناز کا استقبال خوش دلی سے کیا اور ان کی تواضع شربت سے کی۔

اکبر اور ناز کی ترکیب کیا تھی؟

اکبر اور ناز کی ترکیب یہ تھی کہ دو ماہ یہاں رہنے سے کم از کم چھ سو روپیہ بچ جائے گا جبکہ چار سو مکان کا کرایہ آجائے گا۔جس میں سے چھ سات سو کے اچھے جوڑے جبکہ باقی روپیہ شادی کے لین دین میں کام آئے گا۔

ثریا کی ترکیب کیوں ناکام رہی؟

ثریا کی دوست ناز اس کے گھر میں رہنے کے لیے آ گئی جس کی وجہ سے اس کی ترکیب ناکام ہوئی۔

” اب تو لینے کے دینے پڑ گئے، جمیل نے یہ کیوں کہا؟

ثریا کی دوست ناز اور اس کے شوہر اکبر کو اپنے گھر پر پا کر جمیل نے کہا کہ اب تو لینے کے دینے پڑ گئے۔

ثریا نے مہمانوں سے چھٹکارا پانے کے لیے کیا ترکیب سوچی؟

ثریا نے مہمانوں نے چھٹکارا پا نے کے لیے اپنی خالہ کی بیماری کا بہانہ بنایا اور نقلی تار کے پیغام کے ذریعے یہ دکھایا کہ وہ فوراً وہاں پہنچنا چاہتی ہے۔

ثریا کی ترکیب نا کام کیسے ہوئی؟

ثریا کی ترکیب یوں ناکام ہوئی کہ اول تو اس کی سہیلی ناز بھی اس کے ساتھ خالہ کے گھر جانے کے کیے تیار ہو گئی جبکہ عین موقع پر خالہ ہی وہاں آ پہنچی۔

خالی جگہ کو صیح لفظ سے بھریے۔

  • بار بار گننے سے ان رقموں کی میزان کم ہو جائے گی کیا؟
  • کیوں نہ آۓ اللہ کے فضل سے کھاتا پیتا گھرہے؟
  • تمام بل ادا کر دیں تو خود یتیم خانے میں داخل ہو جائیں یا پیٹ پر پتھر باندھ لیں۔
  • میں ابھی سونگھنے کی دوا کی شیشی لاتا ہوں۔
  • جی نہیں علی گڑھ والی خالہ آئی ہیں۔

نیچے لکھے ہوۓ لفظوں کو اپنے جملوں میں استعمال کیجیے۔

میزانمیزان کے دونوں پلڑے برابر نہیں ہوتے ہیں۔
گزارهمہنگائی کے دور میں غریب کا گزارہ بمشکل ہو پاتا ہے۔
تجویزعلی نے ایک کارآمد تجویز پیش کی۔
فراخاحمد ایک فراخ دل لڑکا ہے۔
مهمانہمارے گھر مھمان آئے ہیں۔
پروگرامآج کا کیا پروگرام ہے؟
منظربارش کے بعد کا منظر بہت خوبصورت تھا۔
ترکیباس کھانے کی ترکیب میں نے ٹی وی شو سے سیکھی ہے۔
فضلمجھ پر اللہ کا بہت فضل ہے۔
حیرانیاپنی دوست کو اچانک سامنے پا کر مجھے حیرانی ہوئی۔

املا درست کرکے لکھیے۔

مزاک( مذاق ) ،ڈیوڑی ( ڈیوڑھی ) ، بکایا ( بقایا ) ، غلتی ( غلطی ) ، فجل ( فضل )

پڑھیے سمجھیے اور لکھیے۔

ختمہ (۔)، سکته ( ، )، رابطہ ( : ) اور واوین ( ” کے متعلق ہم نے آپ کو پچھلے سبق میں بتایا تھا۔

ذیل کے پیراگراف میں رموز اوقاف کا استعمال کیجیے۔

ممبئی میں سمندر کے کنارے ایک بستی ہے یہ بستی پہلے بہت چھوٹی تھی لیکن بڑھتے بڑھتے ممبئی کا ایک حصہ بن گئی ہے ہر سال دسمبر کے مہینے میں یہاں عرس ہوتا ہے۔ چاروں طرف دکانیں ہی دکانیں ، کھلونوں کی دکانیں وغیرہ کھلونے بھی کتنے خوبصورت ہیں پیاری پیاری گڑیا چابی سے چلنے والی اس موٹر اور ریل جی چاہتا ہے پوری دکان خرید لیں مجھے ایک شخص ملا اس نے پو چھا کیا تم نے مجھے پہچانا میں نے جواب دیا شاید کہیں آپ کو دیکھا ہے۔

ممبئی میں سمندر کے کنارے ایک بستی ہے۔ یہ بستی پہلے بہت چھوٹی تھی لیکن بڑھتے بڑھتے ممبئی کا ایک حصہ بن گئی ہے۔ہر سال دسمبر کے مہینے میں یہاں عرس ہوتا ہے۔ چاروں طرف دکانیں ہی دکانیں ، (کھلونوں کی دکانیں وغیرہ)کھلونے بھی کتنے خوبصورت ہیں۔ پیاری پیاری گڑیا ،چابی سے چلنے والی بس موٹر اور ریل جی چاہتا ہے پوری دکان خرید لیں۔مجھے ایک شخص ملا اس نے پو چھا کیا تم نے مجھے پہچانا؟ میں نے جواب دیا شاید کہیں آپ کو دیکھا ہے۔