تعارف

مرزا اطہر بیگ ۷ مارچ ۱۹۵۰ کو شیخوپورہ کے قصبے، شرق پور میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام مرزا  طاہر بیگ تھا۔ ان کے والد تدریس کے شعبے سے منسلک تھے۔ آپ تصوّف اور مذہب کے مضمون پر گہری گرفت رکھتے تھے۔ مرزا طاہر صاحبِِ کتاب بھی تھے۔ آپ کے گھر کے علمی و ادبی ماحول نے آپ کو کتابوں کی جانب دھکیلا، جو جلد ہی آپ کا اوڑھنا بچھونا بن گئیں۔


تعلیم و نوکری

شرق پور سے میٹرک کرنے کے بعد مرزا اطہر لاہور چلے گئے۔ لاہور سے آپ نے بی ایس سی کی سند حاصل کی۔ رائج نصاب میں سائنس کی بنیادی روح نہ ملنے کے باعث آپ آرٹس کی جانب آگئے۔ پنجاب یونی ورسٹی سے فلسفے میں ماسٹرز کرنے کے بعد آپ ۱۹۷۸ میں گورنمنٹ کالج لاہور سے منسلک ہوگئے۔ ۱۹۹۹ سے ۲۰۱۰ تک گورنمنٹ کالج یونیورسٹی میں شعبئہ فلسفہ کے سربراہ بھی رہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد آپ کی توجہ تخلیق ادب پر مرکوز ہوگئی۔

ادبی آغاز

آپ کے مطالعے کی پختہ عادت نے آپ کو لکھنے کی جانب راغب کیا۔ آپ کے لکھنے کا آغاز کہانی سے ہوا اور آپ نے اپنا پہلا افسانہ "سو پہلا دن ہوا” لکھا۔ یہ افسانہ "حلقہ ارباب ذوق” کے اجلاس میں پڑھا گیا۔

ڈرامے

  • آپ نے کئی ڈرامے بھی لکھے ہیں۔
  • آپ کے ڈرامے لکھنے کے سلسلے کا آغاز ایک پنجابی ڈرامے "بیلا” سے ہوا۔
  • ان کے قلم سے لکھے ڈرامے
  • حصار،
  • دلدل،
  • دوسرا آسمان،
  • یہ آزاد لوگ،
  • گہرے پانی،
  • پاتال وغیرہ بہت مقبول ہیں۔

طویل دورانیوں کے ڈراموں میں آپ کے لکھے ڈرامے
کیٹ واک،
لفظ آئینہ،
دھند،
بہت مشہور ہیں۔
عبداللہ حسین کے افسانے نشیب کو بھی اطہر صاحب ڈرامے میں تبدیل کرچکے ہیں۔

اسلوب

ایک تو ان کا کینوس بڑا اور دوسرا مرزا صاحب کے مشاہدے کے باعث ان کے ناول طویل ہوا کرتے ہیں۔ انہوں نے اس طرح منظر کشی کی ہے کہ جو ہو رہا ہو ایسا لگتا ہی نہیں کہ وہ کوئی پڑھ نہیں رہا ہے بلکہ لگتا ہے کہ وہ کوئی دیکھ رہا ہے۔

ان کے ناولوں میں ایک انتہائی دل چسپ پلاٹ بھی موجود ہوتا ہے جس سے قاری ناول کو پڑھنے پر مجبور رہتا ہے۔ جیتے جاگتے ذی شعور کردار بھی تخلیق کیے جاتے ہیں، جن کی زندگی میں نت نئے انوکھے واقعات رونما ہوتے ہیں۔

آپ نے اردو ناول میں زبان اور اسلوب کی سطح پر جو تجربات کیے ہیں، اور جس انفرادیت کے ساتھ کیے ہیں، ان کی مثال اردو ادب میں خاص کر ناول نگاری کے شعبے میں نہیں ملتی۔ کہا جاتا ہے کہ آپ وہ ناول لکھ رہے ہیں جو آئندہ اردو میں لکھے جائیں گے۔ یہ بات وہ خود زور دے کر کہتے ہیں کہ روایتی ناول کا زمانہ بدل چکا ہے۔ مرزا اطہر بیگ کے ناول اردو کی ناول کی روایت میں اگلے مرحلے کا اشاریہ ہیں۔ یہ ہمیں آنے والے موسموں کی خبر دیتے ہیں۔ آپ کی ناول نگاری اردو میں ناول کی روایت کی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت حاصل کرچکی ہے، اور کچھ بعید نہیں ہے کہ مستقبل کے نقاد کو اردو ادب کی ناول کی تاریخ کو ’مرزا اطہر بیگ سے پہلے اور ان کے بعد ‘ جیسے مدارج میں تقسیم کرنا پڑے۔

ناول

آپ کا پہلا آٹھ سو سے زائد صفحات پر مشتمل ناول”غلامِ باغ” ۲۰۰۶ء میں منظرِ عام پر آیا تھا۔ اس ناول نے قارئین اور ناقدین دونوں کو اپنے حصار میں لے لیا تھا۔ اس انوکھے ناول کی اشاعت کو "آگ کا دریا” اور "اداس نسلیں” کے بعد اردو ناول کی تاریخ کا تیسرا بڑا واقعہ قرار دیا گیا ہے۔

۲۰۱۱ میں آپ کا دوسرا ناول "صفر سے ایک تک” (سائبر اسپیس کے منشی کی سرگذشت) منظرِ عام پر آیا۔ ناقدین کے مطابق پہلی بار انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اثرات کو اردو ناول کا موضوع بنایا گیا ہے۔

افسانوی مجموعہ

ان کے مقبول ناول کے بعد ان کا ایک افسانوی مجموعہ "بے افسانہ” منظرِ عام پر آیا۔

حرفِ آخر

مرزا اطہر بیگ (ابھی ستمبر 2020 میں) ہمارے درمیان موجود ہیں اور اردو ادب کی خدمت میں کوشاں ہیں۔ ہماری دعا ہے اردو ادب کا یہ ستارہ ہمارے درمیان تادیر چمکتا رہے۔

Advertisements