تعارف

مرزا مظہر خانِ جاناں کا عہد سیاسی و معاشرتی لحاظ سے ہندوستان کی تاریخ کا بڑا پر آشوب عہد ہے۔ انھوں نے ہوش کی آنکھیں کھولیں تو ان کو وسیع مغلیہ سلطنت کے حصے بکھرے ہوتے نظر آئے۔ میرزا مظہر خان جانان ۱۳ مارچ ۱٦۹۹ کو ملوا میں پیدا ہوئے۔ آپ کا نام جانِ جان رکھا گیا مگر عوام میں جانِ جاناں کے نام سے مشہور ہوئے۔

آپ کی ابتدائی تعلیم آپ کے والد مرزا جان کے وطن شریف آگرہ میں ہوئی تھی۔ بعد کو مرزا صاحب نے اپنا مسکن دہلی کو بنایا اور آخری عمر تک دہلی میں رہے اور خانقاہ مظہریہ میں مدفون ہوئے۔

ادبی تعارف

مرزا مظہر جان جاناں کی ذات مختلف حیثیتوں سے بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ وہ ایک باعمل ، تجدید پسند، اصلاح دوست صوفی صافی ہی نہ تھے ، وہ عشق حقیقی کے طلسمات کے مسرور سالک ہی نہ تھے، وہ فارسی انشا و شاعری میں بلند مقام کے مالک ہی نہ تھے بلکہ اردو زبان کے شاعر کے سلسلہ میں بھی وہ ایک مصلح اور مجدد کا درجہ رکھتے ہیں۔ ہمارے یہاں حقیقی صوفی شعراء کی بڑی کمی ہے۔ اگر آپ دردؔ، جان جاناں اور ایسے ہی دو ایک صوفی بزرگوں کو الگ کردیں تو یہ ایوان سونا نظر آئے گا۔ جو جمالیات ذوق ،جوسوز گداز اور جو جوش اور فستگی مرزا کے کلام میں ملتی ہے مشکل سے دوسری جگہ ملے گی۔پھر اردو زبان کی اصلاح و وسعت کی جو کوشش انھوں نے کی وہ بھی کم اہم نہیں۔

مرزا صاحب کے زمانے میں اردو شاعری میں ایہام گوئی کو بہت مقبولیت تھی۔ اردو شاعری اس زمانے میں الفاظ کی بازی گری تھی۔ سچے جذبات سے زیادہ الفاظ کو اہمیت دی جاتی تھی۔ مرزا صاحب نے اردو شاعری میں سادہ گوئی کو رواج دیا اور ایہام گوئی کے عیب سے پاک کیا۔ انھوں نے زبان کو بھی مانجھا اور صاف کیا۔ مرزا صاحب نے خود تو اردو میں بہت کم شعر کہے لیکن اپنے شاگردوں کی ذہنی تربیت میں نمایاں حصہ لیا۔

تصانیف

مظہرؔ کا کلام زیادہ نہیں ملتا۔ مگر ان کی مشہور تصانیف میں دیوان مظہر، منفرق اور مختصر نثری تحریریں، مجموعہ اردو اشعار، مکاتیب کے مختلف مجموعے، خیرات جواہر قابلِ ذکر ہیں ان میں سے بیشتر کلام فارسی میں ہے۔

آخری ایام

آپ چوراسی برس کے تھے کہ ۷ محرم ۱۱۹۵ھ کو ایک شخص کے ہاتھوں طپنچہ کا زخم لگا۔ ۱۰ محرم کو انتقال کیا اور چتلی قبر کے پاس گھر ہی میں مدفون ہوئے جو اب خانقاہ کہلاتی ہے۔

مظہر مرزا جان جاناں کا منتخب کردہ کلام درج ذیل ہے۔

مظہر جان جاناں پر ایک کوئز

مرزا مظہر جانِ جاناں 1
Advertisements