مرزا محمد رفیع سودا

مرزا محمد رفیع نام اور سودا تخلص ہے۔1712ء میں دہلی میں پیدا ہوئے۔والد کا نام مرزا محمد شفیع تھا جو کابل سے تجارت کی غرض سے دہلی آئے اور یہیں آباد ہوگئے۔ سودا نے اپنے والد کے پیشے (سوداگری) کی نسبت سے اپنا تخلص سودا اختیار کیا ۔ابتدائی تعلیم عربی اور فارسی میں حاصل کی۔فارسی ان کی آبائی زبان تھی۔ اردو اور عربی کی سودا نے باقاعدہ طور پر تعلیم حاصل کی۔

سودا نہایت ہی ذہین اور شوخ انسان تھے۔ طبیعت میں بلا کی موزونیت تھی۔ بچپن سے شعروشاعری کرنے لگے۔کچھ مدت تک شاہ حاتم کے اور پھر آرزؤ کے شاگرد ہوگئے لیکن اپنی ذہانت و صلاحیت کی بنا پر بہت جلد نام پیدا کر لیا اور کثرتِ مشق نے استادی کے مرتبہ پر پہنچا دیا۔سودا نے ابتداء میں فارسی میں شاعری شروع کی اور خان آرزو سے اصلاح لی۔ خان آرزو کے کہنے پر اردو کی طرف متوجہ ہوئے۔بقول محمد حسین آزاد”خان آرزو نے کہا کہ مرزا فارسی اب تمہاری زبان مادری نہیں۔اس میں ایسے نہیں ہوسکتے کہ تمہارا کلام اہل زبان کے مقابل میں قابل تعریف ہو۔طبع موزوں ہے۔ شعر سے مناسبت رکھتی ہے تم اردو کہا کرو تو یکتائے زمانہ ہوجاو گئے”۔

سودہ نے بڑی ہمہ گیر طبیعت پائی تھی عجب عجب شوق تھے۔شاعری کے علاوہ موسیقی سے بھی دلچسپی تھی اور کتے پانے کا بھی شوق تھا۔شاعری کی تمام اصناف پر قادر تھے مگر قصیدہ وہجو سے ان کی طبیعت کو خاص مناسبت تھی۔سودا بڑے زود رنج تھے اور ذرا سی بات پر خفا ہو جاتے تھے۔ذرا کسی سے بگڑی اور انہوں نے اس کی ہجو کہی۔قصیدہ سے زیادہ ہجو سے ان کے مزاج کو مناسبت تھی۔ انہوں نے گھوڑے کی ہجو کہی جس نے بہت شہرت پائی۔یہ ہجو دراصل گھوڑے کی نہیں بلکہ اس عہد کی بدحالی کی ہجو ہے۔

والد کی وفات کے بعد سودا جب ساری دولت لٹا چکے تو فوج میں بھرتی ہو گئے لیکن جلد ہی ملازمت سے دستبردار ہوگئے۔خاندانی اعزاز اور اپنی قابلیت کی وجہ سے بادشاہ اور امراء کا تقرب حاصل ہوگیا۔بادشاہ وقت شاہ عالم آفتاب بھی ان سے مشورۂ سخن کرتے تھے۔سودا کی شاعری کا شہرہ سن کر نواب شجاع الدولہ نے انہیں لکھنؤ آنے کی دعوت دی۔سودا اس وقت تو نہ جا سکے لیکن جب حالات نے دہلی چھوڑنے کے لیے مجبور کیا تو لکھنؤ چلے گئے جہان نواب شجاع الدولہ اور ان کے بیٹے نواب آصف الدولہ کے زمانے میں خاطر خواہ پذیرائی ہوئی اور باقی عمر لکھنؤ ہی میں گزاری۔70 برس کی عمر میں 1781ء کو لکھنؤ میں انتقال کیا۔سودا کا انتقال کثرتِ عام کھانے کی وجہ سے ہوا۔عالم نزع میں سودا کی زبان سے یہ مطلع نکلا تھا؀

آج سودا جہاں سے اٹھتا ہے
شوروغل ہر مکاں سے اٹھتا ہے

سودا کے استاد شاہ حاتم نے سودہ کی موت پر کہا تھا کہ”ہمارا پہلوان سخن مر گیا”۔

A post shared by Urdu Notes (@urdu_notes) on Aug 1, 2018 at 2:56am PDT

Close