تعارف

محمد الیاس ۱۹۸۰ء کے عشرے میں منظرِعام پر آنے والے اہم افسانہ نگاروں کی صفِ اوّل میں شامل ہیں۔ تین دہائیوں سے زائد مدت میں محمد الیاس اردو ادب کا دامن کئی بے مثال افسانوں سے مالامال کرچکے ہیں، جن میں ’’دوزخ میں ایک پہر‘‘، ’’تحفہ‘‘،’’سانولی سلونی‘‘ اور ’’دعا‘‘ جیسے افسانے شامل ہیں۔ ان کے نو افسانوی مجموعے قارئین کے ذوقِ مطالعہ کی بھرپور تسکین کرچکے ہیں جن میں ’’منظر پسِ غبار‘‘،  ’’صدیوں پر محیط اک سفر‘‘،  ’’مور پنکھ پر لکھی کہانیاں‘‘، ’’دوزخ میں ایک دوپہر‘‘،  ’’لوحِ ازل پر لکھی کہانیاں‘‘،  ’’آئینے میں گم عکس‘‘،  ’’کٹریاں اور چوبارے‘‘، ’’اندھیروں کے جگنو‘‘ اور ’’گلیوں اور بازاروں میں‘‘ شامل ہیں۔

ناول نگاری

کئی افسانوی مجموعوں کے بعد محمد الیاس کے قلم نے ناول کی جولان گاہ میں قدم رکھا اور یکے بعد دیگرے تین ناول تحریر کرکے اپنی دھاک بٹھا دی۔ محمد الیاس کا پہلا ناول ’’کہر‘‘ تھا۔ پھر انہوں نے ’’برف‘‘ تحریر کیا۔ ان کا تیسرا ناول ’’بارش‘‘ کے نام سے منصۂ شہود پر آیا، جس کے بعد انہوں نے تین مزید ناول ’’دھوپ‘‘، ’’پروا‘‘ اور ’’حبس‘‘ بھی تخلیق کیے۔

موضوعات

محمد الیاس کے تینوں ناولوں کے موضوعات، کردار، فضا اور کہانی ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہیں لیکن ان کے بعض پہلو اور مرکزی کرداروں میں کسی حد تک مماثلت نظر آتی ہے۔ 

ناول کہر

ناول ’’کہر‘‘ کا مرکزی کردار خان اسلم اور زرینہ کا مہاجر خاندان اور ان کا اکلوتا کمسن بیٹا اکرم ذوالقرنین عرف نین ہے۔ ناول کی اصل کہانی نین اور اس سے سات سال بڑی عیسائی میگی کی انوکھی داستانِ عشق پر مبنی ہے۔
’’کہر‘‘ کا ابتدائیہ کچھ یوں ہے :
’’ابتدا! علیم و خبیرکے نام سے… جو جانتا ہے کہ زمین پر ظالم کی رسّی دراز ہے۔‘‘
ناول کا انتساب ہے :
’’اُن انسان دوستوں کے نام، جنہوں نے اپنی زندگیاں محروم طبقات کو غصب شدہ حقوق دلانے کے لیے وقف کردیں۔‘‘

ناول برف

ناول ’’برف‘‘ کا مرکزی کردار صوم وصلوٰۃ کے پابند کپڑے کے متمول تاجر شیخ نورالاسلام کی بیٹی اور چار بھائیوں کی اکلوتی بہن فخرالنساء عرف بی بی جان ہے۔ کہانی فخرالنساء اور ظفر کے ملکوتی اور بے مثل پیارکی ہے۔

’’برف‘‘ کا پہلا ورق الٹتے ہی قاری کی نظر ان الفاظ پر پڑتی ہے :
’’ابتدا! اللہ کے نام سے جو بندے کا ذہن اور دل اپنے نور سے منور کرتا ہے۔‘‘
اور انتساب ہے :
’’اللہ کے ان چنیدہ بندوں کے نام جو زمین پر محبت کی فصل بوتے ہیں۔‘‘

ناول بارش

جب کہ ناول ’’بارش‘‘ کا ہیرو وسیع جاگیر اور جائداد کی مالک بیگم تاجور سلطانہ کا پوتا اور اکلوتا وارث شہریار عرف شہری ہے۔ اس کی کہانی بھی شیری اور شہری کی منفرد قسم کی بچپن کی محبت کے گرد گھومتی ہے۔
’’بارش‘‘ کے پہلے ورق پر تحریر ہے :
’’ابتدا! اللہ کے نام سے جو بکھرے ہوؤں کو… یک جا کرنے والا ہے۔‘‘
اور انتساب ہے :
’’غلام نسلوں کی نمائندہ انسان نما مخلوق۔ ہاریوں، مزارعوں، چوہڑوں، بھکاریوں اور کسبیوں کے نام، جن کے خون پسینے کی کمائی، بھیک اور خرچی پر حکمراں اور مراعات یافتہ طبقے عیش وعشرت کی زندگی بسرکرتے ہیں۔‘‘

کردار نگاری

تینوں مرکزی کردار معاشی طور پر مضبوط اور امیر خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں جن کے بارے میں بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ وہ منہ میں سونے کا چمچہ لے کر پیدا ہوئے، لیکن رواداری پر مبنی اور مختلف سوچ کا حامل ہونے کی وجہ سے اپنوں ہی کے نادانستہ فیصلوں اور تغافل کا شکار بن جاتے ہیں اور تمام عمر ان کے اپنے بھی انہیں سمجھ نہیں پاتے اور وہ انہی کے ستم کا نشانہ بنتے ہیں۔

ناقدین کی رائے

منشا یاد کا کہنا ہے کہ محمد الیاس ایک ایسے فکشن رائٹر ہیں جو نمود و نمائش اور تعلقاتِ عامہ کے اِس دور میں الگ تھلگ رہ کر اپنی خوب صورت تحریروں سے اردو فکشن کو مالامال کررہے ہیں۔
ایک اقتباس دیکھتے ہیں:

’’جس معاشرے کو ظالموں نے یرغمال بنا رکھا ہو، مجھے ایسا کوئی بھی بے نوا ادیب سارا سچ لکھنے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ ظلم اور جبر کے نطفے سے منافقت اور ریا کاری جیسی فاحشہ اولادیں جنم لیتی ہیں۔ ایسے ماحول میں بہت سی نیکیاں بھی معاشرتی جبر کے تحت کی جاتی ہیں۔‘‘

محمد الیاس کو کردار نگاری پر عبور حاصل ہے۔ ان کا قلم جو کردار بھی تشکیل دیتا ہے، اس کردار کا حلیہ، قد و قامت، رنگ ڈھنگ اور سراپا اس مہارت سے صفحۂ قرطاس پر بکھرتا ہے کہ پڑھنے والے کے سامنے جیتی جاگتی شخصیت آجاتی ہے۔

خاقان ساجد کے مطابق محمد الیاس کے موضوعات کا کینوس بہت وسیع ہے۔ شائد ہی کوئی موضوع ان کے سحر آفریں، دل نشیں، دل ستاں قلم سے بچ سکا ہو۔ انہوں نے ہماری تہذیبی اور سماجی زندگی کی ہر کروٹ اور ہر قوس کو فن کارانہ چابک دستی سے اپنی گرفت میں لیا ہے۔
ارشد نعیم کا ایک دیباچے میں کہنا ہے کہ ’’محمد الیاس تعلقاتِ عامہ سے بھاگے ہوئے درویش صفت تخلیق کار ہیں اور کسی صلے یا ستائش سے بے پروا افسانوی ادب میں خوب صورت اضافے کررہے ہیں۔ انہوں نے چوں کہ عملی زندگی کے کٹھن ادوار کا سامنا کیا ہے اسی لیے ان کی کہانیوں میں مشاہدے کی گہرائی اور گیرائی بہت متاثر کن ہے۔ ان کا مشاہدہ اکثر اوقات اتنی جزئیات کے ساتھ افسانے کے قالب میں ڈھلتا ہے کہ اس پر مکمل تجربے کا گمان ہوتا ہے۔‘‘

Advertisements