محی الدین قادری زور کی تحقیق نگاری

محی الدین قادری زور کا شمار اردو ادب کے اہم محققین میں ہوتا ہے۔وہ بیک وقت ادیب و نقاد، محقق، ماہرِ دکنیات، ماہرلسانیات، نیز مورخ، مدون، مدیر، شاعر اور افسانہ نگار تھے۔ 25 دسمبر 1905ء کو حیدرآباد کے محلہ شاہ کنج میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام سید غلام شاہ قادری تھا جو زعم تخلص رکھتے تھے۔ والدہ کا نام بشیر النساء بیگم تھا۔

محی الدین قادری زور کا شمار دیکنی زبان و ادب کے ماہرین میں ہوتا ہے۔ انہوں نے دکنی ادب پر کام کرنے والوں کی ایک جماعت تیار کی اور دکنی ادب پر قابل قدر کام کیا اور کرایا۔ ان کا سب سے بڑا تحقیقی کارنامہ مخطوطات شناسی اور قلمی کتابوں کی فہرست کی ترتیب و تدوین ہے۔ انہوں نے ایک صاحب نظر محقق کی طرح نادرونایاب مخطوطات کو مدون کر کے اہل علم کے سامنے پیش کیا اور بقول ڈاکٹر محمد علی تاریخ ادب اردو میں ڈھائی تین صدیوں کا اضافہ کیا۔

قیام یورپ کے زمانے میں انھوں نے اردو ادب کی بہت خدمت کی اردو کی جو نادر کتابیں اور مخطوطات وہاں کے کتب خانوں میں موجود تھے ان کا تعارف کرایا۔ حیدرآباد میں "ادارہ ادبیات اردو” کی چراغ بیل ڈالی اور اس عمارت کا نام "ایوان اردو” خواجہ حسن نظامی نے تجویز کیا۔

دکنیات سے ان کو خصوصی لگاؤ تھا۔ چناچہ انہوں نے "اردو شہ پارے، تاریخ ادب اردو، دکنی ادب کی تاریخ، داستان ادب حیدرآباد” وغیرہ کتابیں دکنی ادب سے متعلق تصنیف کیں۔ ان کتابوں کا تحقیقی پایا بہت بلند ہے۔

"روح تنقید” ان کی ایک اہم تصنیف ہے۔ اس میں ڈاکٹر زور نے عملی تنقید کے لیے چند اصول پیش کئے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ انہیں اصولوں کی روشنی میں کسی شاعر پر تنقید کرنی چاہیے۔ وہ خود بھی انہی اصولوں کی روشنی میں تنقید کرتے ہیں۔ ان کو شروع ہی سے اس کا خیال تھا اور اسی وجہ سے انہوں نے روح تنقید کے لئے پہلے ایڈیشن میں میر حسن کی مثنوی ‘سحرالبیان’ پر انہیں اصولوں کی روشنی میں ایک تنقیدی مضمون لکھ کر شامل کر دیا تھا۔

اسکے بعد انہوں نے انہیں اصولوں کی روشنی میں کئی تنقیدی مضمون لکھے جو روح تنقید کے دوسرے حصے یعنی "تنقیدی مقالات” میں شامل کردیے گئے ہیں۔ اس میں بعض مضامین ایسے بھی ہیں جن میں ان اصولوں کا خیال رکھا گیا ہے۔

تنقیدی خیالات کے متعلق ڈاکٹرزور خود لکھتے ہیں "اس مجموعے میں کئی قسم کے مضامین ہیں۔ بعض وہ ہیں جن پر روح تنقید کے پیش کردہ اصولوں میں اسے صرف کسی ایک ہی کی روشنی میں نظر ڈالی گئی ہے۔ چند ایسے ہیں جن میں کئی اصول ملحوظ رکھے گئے ہیں۔ ایک دو ایسے ہیں جو تمام اصولوں کے تحت لکھے گئے ہیں۔ ایک انگریزی کا ترجمہ ہے اور دو تین مضامین ایسے بھی ہیں جو روح تنقید سے بہت پہلے لکھے گئے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ ان کے دیکھنے سے اردو دانوں کو اس امر کا اندازہ ضرور ہو جائے گا کہ تنقید کن متفرق طریقہ سے کی جا سکتی ہے اور نیز یہ کہ اردو ادب میں تنقید نگاری کے لیے میدان کھلا ہوا ہے”

ڈاکٹرزور نے تنقید کے لیے جن اصولوں کو ضروری قرار دیا ہے وہ بڑی حد تک سائنٹیفیک ہیں۔ اگر ان کو سامنے رکھ کر تنقید کی جائے تو زیرنظر تصنیف کے تمام پہلو پڑھنے والے کے سامنے آسکتے ہیں۔ ان کی عملی تنقید میں یہ خصوصیت سب سے زیادہ نمایاں ہے۔ وہ تصنیف زیر نظر کے تمام پہلو کو اجاگر کر دیتے ہیں۔ مثلاً میر حسن کی مثنوی سحرالبیان پر جب وہ تنقید کرتے ہیں تو سب سے پہلے نہایت تفصیل سے میر حسن کے ماحول اور ان کی نشونما پر روشنی ڈالتے ہیں۔ اس کے بعد ان کی توجہ صنفِ مثنوی اور سحرالبیان کی طرف مبذول ہوتی ہے اور وہ اس پر مفصل بحث کرتے ہیں۔غرض یہ کہ کوئی پہلو ان سے چھوٹتا نہیں۔

چنانچہ اسی کا نتیجہ ہے کہ ڈاکٹرزور کی عملی تنقید میں تشنگی کا احساس نہیں ہوتا۔ وہ تفصیل سے ہر پہلو پر بحث کرتے ہیں جس سے محاسن و معائب کا پوری طرح اندازہ ہوجاتا ہے۔ یہ خصوصیت ان کی تنقید میں تجزیے کی شان پیدا کر دیتی ہے اور ان کی تنقید یقیناً تجزیاتی ہے۔

ڈاکٹرزور اپنی عملی تنقید میں صوری و معنوی دونوں پہلو پر نظر رکھتے ہیں۔ انہیں اس بات کا احساس ہے کہ مغرب میں معنوی پہلوؤں کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے اور مشرقی تنقید میں صوری پہلوؤں پر زور دیا جاتا ہے۔ لیکن وہ خود ان میں سے صرف کسی ایک کو پیش نظر رکھنا ضروری نہیں سمجھتے بلکہ دونوں خصوصیات کو اجاگر کرتے ہیں۔

چونکہ ڈاکٹرزور نے اصولوں پر سختی کے ساتھ عمل کیا ہے اس لئے ان کی تنقید بڑی حد تک میکانکی ہو کر رہ گئی ہے اور ریاضی کی ایک شکل معلوم ہوتی ہے جس میں کسی قسم کا اضافہ یا کمی نہیں کی جا سکتی۔ چنانچہ صرف ان کے مضمون کی سرخیاں دیکھ کر یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے اس کے تحت کس قسم کے خیالات پیش کیے ہیں۔ لیکن بہرحال اتنی سختی سے اصولوں کی پابندی اردو تنقید میں اس سے قبل کسی اور نے نہیں کی۔ شاید اسی وجہ سے ڈاکٹر زور انتہا پسند ہو گے ہیں۔

زور صاحب اپنے تحقیقی نتائج کو سلجھے ہوئے انداز میں پیش کرتے ہیں اور عبارت بھی سنجیدہ اور متین ہوتی ہے۔ معروضیت غالب رہتی ہے نتائج فکر کو پیچیدہ بنا کر نہیں پیش کرتے اورنہ عربی و فارسی کے ثقیل الفاظ سے انہیں بھدا ہونے دیتے ہیں۔وہ تحقیق میں کسی نقطہ نظر سے مرعوب ہوئے بغیر اپنے نقطہ نظر کی تلاش میں رہتے ہیں۔ اس سے معروضیت کے ساتھ مغربیت کے اثرات سے بھی محفوظ رہتے ہیں۔ اسی لئے انہیں دور جدید کے مشرقی نقادوں میں ایک اہم مقام حاصل ہے۔

ڈاکٹر محی الدین قادری زور کے اہم کارنامے

  • ڈاکٹر زور نے تذکرہ گلزار ابراہیم اور تذکرہ گلشن ہند دونوں کو ایک ساتھ مرتب کرکے مسلم یونیورسٹی علی گڑھ پریس سے 1934ء میں شائع کیا تھا۔
  • "ہندوستانی لسانیات” محی الدین قادری زور کی ایک اہم تصنیف ہے۔ اس میں لسانیات سے متعلق جملہ مباحث کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔
  • "ہندوستانی صوتیات” بھی محی الدین قادری زور کی اہم کتاب ہے۔
  • "اردو شہ پارے”۔ یہ کتاب اردو ادب کے آغاز سے ولی دکنی کے زمانے تک نثر و نظم کا انتخاب ہے۔
  • اس کے علاوہ محی الدین قادری زور کی اہم تصانیف میں "عہد عثمانی میں اردو کی ترقی” "دکنی ادب کی تاریخ” "داستان ادب حیدرآباد” "اردو کے اسالیب بیان” "روح تنقید” "تنقیدی مقالات” "کلیات قلی قطب شاہ” (مرتب)، "مثنوی طالب و موہنی” (مرتب)، اردو شاعری کا انتخاب، روح غالب، مکاتیب وغیرہ قابل ذکر ہیں۔

زور کے افسانوی مجموعے اور اہم افسانے

  • "طلسم تقدیر” "سیر گولکنڈہ” اور "گولکنڈہ کے ہیرے” یہ تین افسانوی مجموعے ہیں۔

افسانے

  • بالا، گولکنڈہ کی آخری رقاصہ، پانچ اشرفیاں، دفینہ، سر وصحرا، پانچ غنڈے، طلسم تقدیر، کھویا ہوا چاند، انار کے چودہ دانے، شہزادی کا عقد، اورنگزیب اور تانا شاہ۔وغیرہ۔

Close