تعارف

اردو ادب میں بابائے اردو کا لقب پانے والے عبدالحق ۲۰ اپریل ۱۸۷۰ کو برطانوی ہندوستان میرٹھ میں پیدا ہوئے۔ اس عہد کی روایت کے مطابق مولوی صاحب کی ابتدائی تعلیم ان کے گھر پر ہی ہوئی۔ بعد ازیں وہ میرٹھ میں پڑھتے رہے۔ مولوی صاحب نے تعلیم کو خود کے لئے لازم جانا اور علی گڑھ کالج سے بی اے کیا۔

ادبی تعارف

مولوی عبدالحق صاحب کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد باقی تمام زندگی کو اردو ادب کی ترقی اور فروغ اور زبان کی بقا کے لئے وقف کر دیا۔ مولوی صاحب نے پہلی بار ادب کے شہ پارے تلاش کرکے اردو والوں کو ان سے روشناس کرایا اور ان کی ادبی ولسانی اہمیت کو اجاگر کیا۔

عبدالحق نے اردو کی ترویج و اشاعت کے سلسلے میں بڑا کام کیا جس میں ایک جامعہ عثمانیہ کا قیام بھی ہے۔ جامعہ عثمانیہ کے ساتھ ایک وسیع دار الترجمہ بھی قائم کر لیا۔ اردو کو ذریعہ تعلیم بنانے میں بڑی جانفشانی سے کام لیا۔ انجمن ترقی اردو کا دفتر دہلی منتقل کراکے مولوی صاحب خود بھی دہلی آگئے لیکن حالات سازگار نہ تھے لٰہذا کچھ عرصہ بعد کراچی آگئے اور یہاں اردو کی ترویج و اشاعت کا کام شروع کر دیا اور کالج کی بنیاد رکھی۔

خاکہ نگاری

مولوی صاحب کا اسلوب بیان خاکہ نگاری کے میدان میں کھلتا ہے۔ شگفتہ بیانی اظہار بیان میں میانہ روی خیال متانت، زبان کی شیرینی نے ان کے خاکوں کو جلا بخشی۔ وہ اپنے خاکے بغض و عناد، مہرو مجبت کے جذبات سے بالاتر ہو کر لکھتے ہیں۔ شخصیات کے اوصاف اور مصائب پر بے لاگ تبصرہ کرتے ہیں۔ ان کا قلم منفی گرفت سے آزاد ہے۔ شخصیات کی خامیاں نہیں ابھارتے اور اگر کبھی کسی کی ذات کے ایسے پہلوؤں کی طرف اشارہ کرنا پڑجاتا ہے اور مولوی عبدالحق عصمت قلب کی تمام شرطوں کو پورا کرتے ہیں۔

مولوی صاحب اردو کے صف اول کے ادیب، نقاد، ماہر دکنیات، محقق، لغت نویس ، مترجم، ماہر صرف و نحو، تبصرہ نگار، خاکہ نگار اور ادبی صحافی کے ساتھ ساتھ اردو تحریک کے زبردست علم بردار تھے۔ ان کی ساری زندگی اردو اور انجمن ترقی اردو کی خدمت میں گزری۔

مولوی عبد الحق ، حالی کے سچے جانشیں تھے۔ وہ بلاشبہ ایک صاحب طرز انشاپرداز ہیں۔ ان کی تحریریں بہت سوں کی خصوصیات کا یک جا مجموعہ تھا جیسے حالی کی حلاوت اور سادگی متانت اور وقار ، شبلی کی رنگینی اور ادا سنجی، مہدی کی لطافت و نظامت، نذیر احمد کی محاورہ بندی، رشیدہ احمد صدیقی کی رعایت لفظی اور صوتی توافق کا لحاظ، عبدالماجد دریابادی کے طنز اور فرحت اللہ بیگ کے مزاج کا نہایت دل نشین اور خوش گوار مرکب ملتا ہے۔ وہ اس طرح لکھتے کہ اسلوب کے سامنے موضوع کی اہمیت کم نہیں ہوتی۔ صحیح ، صاف، سادہ، دل نشین اور سنجیدہ نثر لکھنے کی روش عبدالحق نے ایجاد کی ہے۔ اسے اردو کی معیاری نظر کہا جا سکتا ہے۔ انھوں نے اردو کو ایسا لب و لہجہ دیا ہے جو ذاتی خطوط ، تقریر، خطبات، علمی مضامین، تنقید و تحقیق اور تاریخ و سیرت نگاری سب اصناف نثر کے مزاج سے ہم آہنگ ہو جاتا ہے۔ عبدالحق کی شگفتگی، ان کے خطوط میں اپنے شباب پر ہوتی ہے اگر ان کے بے تکلف خطوط کا عمدہ انتخاب شائع کیا جائے تو وہ غالب، مہدی افادی اور محمد علی اردو کے خطوط کا نہایت نفیس مرکب ہوگا۔

تصانیف

  • ان کی مشہور تصانیف میں
  • افکار حالی۔
  • چند ہم عصر،
  • ہماری زبان،
  • انجمن ترقی اردو کا المیہ،
  • خطبئہ صدارت،
  • لغت کبیر اردو،
  • مبادی اردو،
  • مکتوبات بابائے اردو،
  • مرہٹی زبان پر فارسی کا اثر،
  • مذہب اور سائنس،
  • مقامات عبدالحق،
  • نصرتی،
  • پاکستان میں اردو کا المیہ،
  • قدیم اردو،
  • اردو صرف و نحو،
  • سرآغا خان کی اردو نوازی،
  • مرحوم دہلی کالج،
  • مخزن نکات،
  • عقد ثریا،
  • قوائد اردو،
  • معراج العاشقین اور بہت سے مجموعے جو اردو ادب میں سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔

آخری ایام

مولوی صاحب نے ۹۲ برس کی عمر پائی۔ ۱٦ اگست ۱۹٦۱ کو وہ کراچی میں ہی راہی ملک عدم ہو گئے۔انھیں کراچی میں مدفن کیا گیا۔

Advertisements