Advertisement

تعارف مصنف:

مرزا فرحت اللہ بیگ دہلی میں پیدا ہوئے ۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم کتب میں حاصل کرنے کے بعد ہندو کالج سے 1905ء میں بی ۔اے پاس کیا۔ 1907ء میں وہ حیدرآباد گئے اور مختلف ملازمتوں پر ہندوکالج مامور ہے اور ترقی کرتے کرتے اسٹمنٹ ہوم سکریٹری کے عہدے تک پہنچے۔

1919ء میں انھوں نے اپنا سب سے پہلا مضمون رسالہ ” افادہ آگرہ میں لکھا۔ اور 1923ء سے وہ با قاعدہ مضامین لکھنے لگے۔ انھوں نے تنقید ، افسانہ،سوانح حیات ، معاشرت اور اخلاق ہر موضوع پر کچھ نہ کچھ لکھا اور اچھا لکھا لیکن ان کے مزاحیہ مضامین سب سے زیادہ کامیاب ہوئے۔

مرزا فرحت اللہ بیگ کے مضامین سات جلدوں میں مضامین فرحت کے نام سے شائع ہو چکے ہیں۔ نظم کا مجموعہ ”میری شاعری“ کے نام سے چھپ چکا ہے۔ اس میں بھی مزاحیہ رنگ نمایاں ہے۔ملنے اور ہنسانے کا کوئی اصول مقرر نہیں ہوسکتا۔ تمام مزاح نگارا اپنا انداز جدا رکھتے ہیں۔ مرزا فرحت اللہ بیگ کا بھی ایک مخصوص رنگ ہے، جسے عظمت اللہ بیگ نے خوش مذاقی کہا ہے۔ خوش مذاقی میں قہقہے کے مواقع کم اور تبسم کے زیادہ ملتے ہیں۔ ان کے یہاں ایسا انبساط ملتا ہےجسے دیرپا کہا جا سکتا ہے۔

Advertisement

مرزا فرحت اللہ بیگ کے یہاں دلچسپی کے کئی سامان ہیں۔ ان کی مزاح نگاری میں دلی کے روز مرہ اور محاورات کا لطف پایا جا تا ہے۔ وہ اکثر ایسے محاورات اور الفاظ اپنی تحریر میں لاتے ہیں جو دلی کے لوگ گفتگو میں استعمال کر تے ہیں۔ زیر نظر مضمون ان کی انھیں خصوصیات کا آئینہ دار ہے۔ اس کی مزید خوبی یہ ہے کہ اس سے میں اردو کے ایک بہت بڑے ادیب اورانیسویں صدی کے ہندوستان کے ایک بڑے مخلص مولوی نذیر احمد کے بارے میں بہت سی باتیں معلوم ہوتی ہیں جوا اور کسی طرح وہ معلوم ہوسکیں۔

نذیر احمد کی کہانی،کچھ میری کچھ ان کی زبانی کا خلاصہ

سبق "نذیر احمد کی کہانی کچھ میری کچھ ان کی زبانی” فرحت اللہ بیگ کا ایک مختصر مضمون میں جس میں انھوں نے ڈپٹی نذیر احمد کی زندگی کے انتہائی اہم اور دلچسپ گوشوں کو بے نقاب کیا ہے۔ ڈپٹی نذیر احمد کا تعارف کرواتے ہوئے ان کا ظاہری حلیہ بہت دلچسپی سے بیان کرتے ہیں کہ ان کا رنگ سانولا، قد اونچا،جبکہ بدن موٹاپے کی طرف مائل تھا۔

کمر اس قدر پھیلی ہوئی تھی کہ باقاعدہ توند نکلی ہوئی تھی اور اس کے گرد ازار بند باندھتے نہیں بس لپیٹتے تھے۔ یہی حال ان کی تہمند کا تھا کہ اس کی گرہ باندھنے کی بجائے بس کمر کے گرد کس لیا کرتے اور اسی وجہ سے لوگوں میں بیٹھے ہوتے تو اٹھنے میں خاصی احتیاط سے کام لیتے تھے۔ان کی داڑھی قدرتی طور سے فرنچ کٹ میں ڈھلی ہوئی جبکہ سرپر نام کے چند بال تھے۔

ان کی آواز میں گرج کے ساتھ ساتھ لوچ بھی موجود تھی۔ اس لیے بڑے بڑے جلسوں میں بولتے وقت اپنے انداز تخاطب کے باعث چھا جایا کرتے تھے۔مصنف نے نذیر احمد کے بچپن کا واقعہ بیان کیا ہے جب جب وہ گاؤں کی مسجد میں زیر تعلیم تھے۔وہ اس وقت خود کو ان غریبوں میں شمار کرتے تھے جن کے پاس نہ کھانے کو روٹی تھی اور نہ پہننے کو کپڑا تھا لیکن انھیں تعلیم حاصل کرنے کا شوق تھا۔

مسجد میں قرآن مجید کے ساتھ وہ معلقات کی تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ ان کی ذمہ داری تھی کہ انھوں نے روزصبح چھڑی لے کر گھر گھر سے روٹی جمع کرنی ہوتی تھی۔جس کے سبب ان کے پاس رنگ برنگا کھانا جمع ہو جایا کرتا تھا۔جن میں سے ایک گھر ایسا بھی تھا کہ جہاں نذیر احمد کا جانا ہوتا تو اس گھر میں موجود ایک لڑکی ان سے روزانہ ڈھیروں مسالہ پسواتی تھی جو بعد میں نذیر احمد کی ہی زوجہ بنی۔

اس کے علاوہ انھوں نے دہلی کالج کے ہجوم میں شامل ہونے اور وہاں موجود اساتذہ کی نظر میں آنے کا قصہ بھی بہت دلچسپ انداز میں بیان کیا ہے کہ وہ مجمے کی بھیڑ میں دھکا لگنے کے باعث گرے تو استاد کی نظروں میں آگئے اور جب استاد نے یہ پوچھا کہ پڑھتے ہو اور بتانے پر کہ میں متعلقات پڑھ رہا ہوں وہ بہت حیران ہوئے۔

نزیر احمد کی اسی قابلیت اور ہشیاری کے باعث ان کا کالج میں داخلہ کر دیا گیا۔ جہاں ان کے ساتھی طالب علموں میں سرسید احمد خان ، منشی ذکاءاللہ اور پیارے لال شامل تھے۔ اپنے دور کے تعلیمی نظام کی بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کے زمانے میں ایک مضمون یوں پڑھایا جاتا تھا کہ طالب علم کو اس کا ماہر بنایا جاتا مگر موجودہ دور میں موجودہ تعلیمی نظام کی صورتحال یہ ہے کہ آج کل طالب علموں کو پڑھاتے نہیں لادتے ہیں۔جو انھوں نے آج پڑھا کل بھولے۔

ان کی تعلیم کی مثال ایک دیوار کی سی ہے جس میں گارے کا بھی ردا ہے اور ٹھکیریاں بھی گھسیڑ دی ہیں۔مٹی بھی ہے پتھر بھی ہے کہیں چونا اور اینٹ بھی ہے۔ایک دھکا دیا اور دھم سے گر جائے۔مولوی صاحب کو اپنے ترجمے پر بھی بہت ناز تھا۔وہ اپنے قرآن مجید کے ترجمے کو اپنی تمام عمر کا صلہ قرار دیا کرتے تھے۔ کچھ ہی عرصے بعد معلوم ہوا کہ مولوی صاحب جیسا چہکتا ہوا گل اس دنیا سے کوچ کر گیا ہے۔ یوں مصنف نے بہت احسن انداز میں مولوی نذیر احمد کی زندگی کے کچھ پہلوؤں کو بیان کیا ہے۔

سوالوں کے جواب لکھیے:

نذیر احمد کی شخصیت کے دلچسپ پہلوؤں کو اپنے الفاظ میں لکھیے۔

نذیر احمد کی شخصیت کی سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ بچپن میں ان کو باقاعدہ تعلیمی نظام میسر نہ ہونے کے باوجود وہ اعلیٰ پائے کی تعلیمی قابلیت رکھتے تھے۔ اس کے علاوہ ان کا ظاہری حلیہ بھی ان کی شخصیت کا بھرپور عکاس تھا ان کا ظاہری حلیہ کسی دلچسپی سے کم نہ تھا۔

نذیراحمد نے اپنے بچپن کے کن واقعات کولطف لے کر بیان کیا ہے؟ بتایئے۔

نذیر احمد نے اپنے بچپن کا واقعہ بیان کیا جب وہ گاؤں کی مسجد میں زیر تعلیم تھے۔وہ اس وقت خود کو ان غریبوں میں شمار کرتے تھے جن کے پاس نہ کھانے کو روٹی تھی اور نہ پہننے کو کپڑا تھا لیکن انھیں تعلیم حاصل کرنے کا شوق تھا۔مسجد میں قرآن مجید کے ساتھ وہ معلقات کی تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ ان کی ذمہ داری تھی کہ انھوں نے روزصبح چھڑی لے کر گھر گھر سے روٹی جمع کرنی ہوتی تھی۔جس کے سبب ان کے پاس رنگ برنگا کھانا جمع ہو جایا کرتا تھا۔جن میں سے ایک گھر ایسا بھی تھا کہ جہاں نذیر احمد کا جانا ہوتا تو اس گھر میں موجود ایک لڑکی ان سے روزانہ ڈھیروں مسالہ پسواتی تھی جو بعد میں نذیر احمد کی ہی زوجہ بنی۔اس کے علاوہ انھوں نے دہلی کالج کے ہجوم میں شامل ہونے اور وہاں موجود اساتذہ کی نظر میں آنے کا قصہ بھی بہت دلچسپ انداز میں بیان کیا ہے۔

نذیر احمد کے ساتھ پڑھنے والوں میں کون کون سے ادیب شامل تھے؟

نذیر احمد کے ساتھ پڑھنے والے ادیبوں میں سرسید احمد خان ، منشی ذکاءاللہ اور پیارے لال شامل تھے۔

نذیر احمد نے آج کل کی تعلیم کی کون کون سی خامیاں بتائی ہیں؟

نذیر احمد آج کی تعلیم کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ موجودہ تعلیمی نظام کی صورتحال یہ ہے کہ آج کل طالب علموں کو پڑھاتے نہیں لادتے ہیں۔جو انھوں نے آج پڑھا کل بھولے۔ان کی تعلیم کی مثال ایک دیوار کی سی ہے جس میں گارے کا بھی ردا ہے اور ٹھکیریاں بھی گھسیڑ دی ہیں۔مٹی بھی ہے پتھر بھی ہے کہیں چونا اور اینٹ بھی ہے۔ایک دھکا دیا اور دھم سے گر جائے۔

عملی کام:

اس سبق کا بغور مطالعہ کیجیے اور بتایئے کہ آپ کو نذ یر احمد کی کون سی باتیں سب سے اچھی لگی ہیں۔

نذیر احمد نے اس سبق میں موجودہ نظام تعلیم کے حوالے سے جو بات بیان کی ہے کہ موجودہ تعلیمی نظام کی صورتحال یہ ہے کہ آج کل طالب علموں کو پڑھاتے نہیں لادتے ہیں۔جو انھوں نے آج پڑھا کل بھولے۔ان کی تعلیم کی مثال ایک دیوار کی سی ہے جس میں گارے کا بھی ردا ہے اور ٹھکیریاں بھی گھسیڑ دی ہیں۔مٹی بھی ہے پتھر بھی ہے کہیں چونا اور اینٹ بھی ہے۔ایک دھکا دیا اور دھم سے گر جائے۔ یہ بات حقیقت پر مبنی ہے اور مجھے یہ بہت اچھی لگی۔

سبق میں جہاں مزاحیہ انداز اختیار کیا گیا ہے۔ اس کی نشاندہی کیجیے۔

سبق میں مصنف نے روٹیاں مانگنے اور مسالہ پیسنے کے واقعے کو مزاحیہ رنگ دے کر بیان کیا ہے۔ علاوہ ازیں سبق میں مصنف نے نذیر احمد کا حلیہ بیان کرنے میں بھی مزاحیہ انداز کو شامل کیا ہے۔

سبق کا خلاصہ تحریر کیجیے۔

سبق کا خلاصہ اوپر ملاحظہ فرمائیں۔

اس سبق میں جومحاورے استعمال ہوئے ہیں انھیں تلاش کر کے لکھیے ۔