مولانا محمد حسین آزاد

مولانا محمد حسین آزادؔ دہلی میں 10 جون 1830ء میں جمعرات کے دن پیدا ہوئے- آزاد اردو زبان کے ایک مشہور ادیب، انشاءپرداز، نقاد اور مؤرخ ہیں۔آزادؔ کو اردو زبان کا پہلا تاریخ نویس بھی مانا جاتا ہے۔ ان کے والد کا نام مولوی محمد باقر تھا- اخبار لکھنے کی شروعات محمد باقر سے ہی ہوئی- آزاد اپنے والد کے ساتھ ایڈیٹر کے عہدے پر کام کرتے تھے- 1857ء کی آزادی کی لڑائی میں آزاد کے والد کا انتقال ہوگیا اور مجبور ہو کر آزاد کو دہلی چھوڑ کر لکھنؤ آنا پڑا-

مولانا محمد حسین آزادؔ کی شروعاتی تعلیم اپنے والد کے ذریعے ہوئی۔ انہوں نے اپنے والد سے عربی اور فارسی کی تعلیم حاصل کی اور بعد میں دہلی کالج میں داخلہ لیا اور وہاں سے تعلیم حاصل کی-

محمد حسین آزادؔ اردو شاعری کے بہت ہی بہترین شاعر گزرے ہیں- ان کی شاعری بہت ہی زیادہ مشہور ہوئی۔ محمد حسین آزاد کو چھوٹی عمر سے ہی شعر و شاعری لکھنے اور کہنے کا بہت ہی زیادہ شوق تھا جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہ چھوٹی عمر میں ہی بڑے بڑے مشاعروں میں جاتے تھے اور مشاعرہ سنتے تھے۔

1864ء میں لاہور کے ایک تعلیمی ادارہ گورنمنٹ کالج میں 15 روپے مہینہ پر ملازمت کی- آزادؔ کو اپنی تعلیم اور تصنیف اور کارناموں کی وجہ سے بڑی عزت دی جاتی تھی۔حکومت ہند کی طرف سے محمد حسین آزاد کو شمس العلماء کا خطاب بھی 1887ء میں ملا۔

دماغی صورت سے بیمار ہونے کی وجہ سے یہ کافی کمزور ہوتے چلے گئے اور 22جنوری 1910ء میں لاہور میں انتقال کر گئے-

آزاد کی بہترین تصانیف "آب حیات”٬ "نیرنگِ خیال”٬ "سخن دان فارس”٬ "قصص الہند”٬ "سیر ایران”٬ "دربار اکبری”٬ "نظم آزاد”٬ "تزکرہ آزاد”٬ "جانورستان”٬ خمکدہ آزاد”٬ "مرتب ذوق (مرتب)”٬ "لغت آزاد”٬ "جامع القواعد”٬ نگارستاں فارس”- یہ سب ان کی بہت ہی مشہور تصانیف میں سے ہیں۔

مولانا محمد حسین آزادؔ کی بہترین اور مشہور تصنیف "آب حیات” ہے- اس میں آزاد نے 29 مشہور شاعروں کے حالات اور ان کے کلام اور تنقید کے نمونوں کو دکھایا ہے- اس سے پہلے اس طرح کا تذکرہ کسی نے بھی نہیں کیا ہے-"آب حیات” میں شعر کے متعلق آزاد کی رائے ہے کہ "شعر ایک پرتو روح القدس کا اور فیضان رحمت الہی کا ہے کہ اہل دل کی طبیعت پر نزول کرتا ہے” آزاد کا کہنا ہے کہ "ہمارا شاعر اپنے ملک کی چیزوں کو نظرانداز کرکے ملک سے باہر نظر دوڑاتا ہے،اسے دجلہ و فرات تو نظر آتے ہیں گنگا جمنا دکھائی نہیں دیتیں۔ نسرین و نسترن، شمشاد و صنوبر اسے بھاتے ہیں مگر گلاب، چمپا، چنبیلی کی اسے خبر نہیں” آب حیات لکھ کر آزاد نے ایک مثال قائم کی ہے جو کسی دوسرے شاعر سے مثال نہیں دی جاسکتی-

آزادؔ کی شاعری میں سادگی اور نزاکت ہے جو بہت کم شاعروں میں دیکھنے کو ملتی ہے- آزاد نے اپنی کتاب "آب حیات” میں سبھی شاعروں کی تصویر دکھائی ہے- ان کے بہت سے تذکرے غلط بھی ثابت ہوئے ہیں لیکن ان کی اہمیت میں کوئی فرق نہیں ہوا- آزاد کا ایک تمثیلی مضامین "نیرنگ خیال” بھی بہت مشہور ہوا- اس کا آغاز 1881ء میں ہوا-  اس کے مضامین میں آزاد نے تمثیل نگاری کی ہے-

رام بابو سکینہ کے قول کے مطابق  "آزاد نثر میں شاعری کرتے ہیں اور شاعری کرتے ہوئے نثر لکھتے ہیں-"

آزاد اپنی کتاب "آب حیات” میں غالب کے بارے میں اس طرح لکھتے ہیں-

"غالب اگر چہ سب سے پیچھے تھے پر کسی سے نیچے نہ تھے- بڑی دھوم دھام سے آئے اور نقارہ اس زور سے بجا کہ سب کے کان گنگ کر دیے- کوئی سمجھا اور کوئی نہ سمجھا مگر واہ واہ اور سبحان اللہ سب کرتے رہے-"

آزاد اپنی کتاب "آب حیات” میں وطن کے بارے میں بھی لکھتے ہیں-

"…..اے میرے اھل وطن!………

آزاد کے بہت ہی بہترین اشعار ملاخطہ ہوں۔

اے آفتاب صبح سے نکلا ہوا ہے تو
عالم کے کاروبار میں دن بھر پھرا ہے تو

دن ہے خدا نے ہم کو دیا کام کے لئے
اور رات کو بنایا ہے آرام کے لیے

رکھتے ہیں شعر و سخن سے جو سروکار سدا
کار ارباب جہاں سے ہیں وہ بیزار سدا

Quiz On Muhammad Hussain azad

مولانا محمد حسین آزاد 1

written by

Zarnain Nisar

Close