حالاتِ زندگی

محمد منشا یاد ۱۹۳۷ میں فاروق آباد کے قریب ٹھٹھہ نوشتر میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنی پرائمری تعلیم گاؤں گجیانہ اور میٹرک کی ڈگری حافظ آباد سے حاصل کی۔ منشا یاد نے رسول پور کالج سے انجینئرنگ میں ڈپلومہ کی ڈگری حاصل کی۔ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے ۱۹۶۵ میں بیچلر آف آرٹس کی ڈگری حاصل کی۔ اس کے بعد منشا یاد نے اسی یونیورسٹی سے ایم اے اردو اور پنجابی پاس کیا۔

ادبی سفر

انہوں نے نہایت ہی کم عمری میں افسانے میں اپنی دلچسپی پیدا کی۔ ان کی والدہ نوجوان منشا کو پنجابی لوک گیت ، کہانیاں اور مقبول کہانیاں سناتی تھیں، جو کہانیوں کے بیان کرنے کی تقریباً عادی ہوگئی تھیں اور مہمانوں سے بھی اسے کوئی کہانی سنانے کو کہتی تھیں۔ اس طرح کی پرورش نے ایک انجینئر کو ایک مختصر کہانی کے مصنف کی حیثیت سے تبدیل کردیا، جو برصغیر میں ایک اچھے معیار کے مصنف کے طور پر ابھرا۔ منشا کے مطابق ان کی پہلی کہانی بچوں کے رسالے میں شائع ہوئی تھی جب وہ ساتویں جماعت کے طالب علم تھے۔

افسانہ نگاری

منشا یاد کے افسانوں میں متشکل ہونے والے جس سماج کی بات کر رہا ہوں اس میں خالص اور پاکیزہ رشتوں میں ایسے ایسے کردار ملتے ہیں، جن کا تصور مادیت زدگی نے مشکل بنا دیا ہے اور ایسی ایسی فضا ملتی ہے کہ جس کے اندر سے زندگی کی خوشبو کے جھرنے پھوٹ بہتے ہیں۔ مگر کون نہیں جانتا کہ ضرورت، پیداواریت اور سرمائے کی افزودگی کی بنیادوں پر اُسارے جارہے نئے عہد کے شیش محل کے اندر اس خوشبو کا داخلہ ممنوع ہے۔

موضوع

چونکہ منشا یاد دیہاتی آدمی تھے، انہوں نے ایک عرصہ گاؤں میں گزارا تھا اور وہ گاؤں کے ماحول کو خوب جانتے تھے، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے دیہی مسائل کو اپنے افسانوں کا موضوع بنایا اور اپنے ماضی سے گہرا رشتہ جوڑے رکھا۔ ان کی کہانیوں میں ایسا رویہ واضح موجود ہے جو پسے ہوئے، گرے پڑے، پسماندہ اور بے توقیر لوگوں کے مسائل بیان کرتا ہے۔ وہ معاشرتی جبرو تشدد اور انسان دشمنی کا ذکر ایک خوبصورت سطر
”ان کے منہ میں بھی بھیڑیئے کے دانت ہوتے ہیں” میں کرنے کا فن جانتے تھے۔ ایسا وہ اپنے گہرے مشاہدے اور وسیع تجربے کی بنیاد پر کرتے ہیں کیونکہ ان کی ابتدائی زندگی طرح طرح کی مشکلات میں گھری ہوئی تھی کبھی ماں کا پیار نہیں، کبھی کھانے کے لئے روٹی نہیں، کبھی پہننے کے لئے جوتا نہیں، کبھی سفر کے لئے کرایہ نہیں اور کبھی دوسروں کو مشکل سے نکالنے کا اختیار نہیں۔ اس لئے وہ پریشان دکھائی دیتے ہیں وہ فکر مند نظر آتے ہیں ان کے اندر لاواپک رہا تھا ان کے لاشعور کے گہرے سمندر میں طوفانی لہریں اٹھ رہی تھیں۔ ابتدا میں ان کی فکر کا دائرہ ان کی ذات تک محدود رہا پھر سماج اور بعدازاں پوری کائنات تک پھیل گیا۔

تصانیف

آپ کی چند تصانیف کے نام مندرجہ ذیل ہیں :

  • بند مٹھی میں جگنو
  • خلا اندر خلا
  • وقت سمندر
  • وگدا پانی
  • ماس اور مِٹی
  • درخت آدمی
  • دور کی آواز
  • خواب سرائے

آخری ایام

محمد منشا یاد کا ۱۵ اکتوبر ۲۰۱۱ کو اسلام آباد میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال ہوگیا تھا۔ منشا یاد اب اس دنیا میں نہیں رہے لیکن ان کی یادیں ہمیشہ موجود رہیں گی۔ اردو اور پنجابی ادب کے فروغ کے لیے ان کی خدمات کو تاریخ ادب میں آب زر سے لکھا جائے گا۔ ان کی یاد اس قدر خوب ہے کہ اسے دل سے بھلانا بعد از قیاس ہے۔

Advertisements