Advertisement
  • باب نمبر 11: حصہ نظم
  • صنفِ ادب:نظم
  • شاعر کا نام: عمیق حنفی
  • نظم کا نام:ملک بے سحر و شام

اشعار کی تشریح:

کچھ برس پہلے سویرے منھ اندھیرے
اک پہاڑی پر پہنچ جاتے تھے ہم
ایک کالے سخت تکیے سے اٹھا کر اپنا سر
ادھ جگا سورج ابھر کر دیکھ لیتا تھا ہمیں
ہم سحر خیزوں سے شرما کا جھکا لیتا تھا سر
دفعتاً اس کے لبوں سے پھوٹ پڑتی تھی ہنسی
ہاتھ وہ ہم سے ملاتا تھا بہ صد حسنِ تپاک
جسم و جاں میں پھیل جاتی تھی شگفتہ تازگی

تشریح:

یہ اشعار ‘عمیق حنفی’ کی نظم "ملک بے سحر و شام” سے لیے گئے ہیں۔عمیق حنفی کی یہ نظم ان کے حالات کی عکاس ہے۔ نظم کے اس بند میں شاعر اپنے ماضی کے سہانے دنوں کو یاد کر رہا ہے۔کہ زیادہ دن دور نہیں بلکہ کچھ عرصہ قبل کی بات ہے کہ ہم منھ اندھیرے جگا کرتے تھے اور چڑھتے سورج کا نظارہ اپنی آنکھوں سے کرتے تھے۔یہ دن اتنے خوبصورت تھے کے ہماری سحر خیزی کو دیکھ کر سورج بھی شرما جاتا تھااور شرم کے مارے ہمارے سامنے اپنا سر جھکا لیتا تھا۔اور پھر اچانک سورج ہمارے اس عمل کو دیکھ کر مسکرا پڑتا تھا یہاں شاعر نے طلوع ہوتے سورج کی روپہلی کرنوں کو اس کی مسکراہٹ کہا ہے۔سورج مسکرا کر ہم سے پر تپاک طریقے سے ملتا تھا۔یوں اس سورج کو دیکھ کر ہم بھی اتنے تروتازہ ہو جایا کرتے تھے کہ ہمارے رگ و جاں میں تازگی پھیل جاتی تھی۔
اس بند میں شاعر نے سحر خیزی کے فوائد کو نہایت خوبصورتی سے پیش کیا ہے۔

شام کو جب جھیل کے پانی میں ڈالے اپنے پانو
دائرہ در دائرہ موجیں اٹھا دیتے تھے ہم
تب تھکا ماندہ،انیندا،مضمحل سورج
اپنے خوابستان میں روپوش ہوجانے سے قبل
مسکرا کر ہم سے کہتا شب بخیر
اور چل پڑتے تھے ہم سب اپنے گھر
اپنے دل کی دائرہ در دائرہ موجوں میں سورج گھیر کر

تشریح:

اس بند میں شاعر اپنے سہانے دنوں کو یاد کرتے ہوئے ہی پہلے دور کی شاموں کی خوبصورتی بیان کر رہا ہے کہ وہ ایسی شامیں تھیں کہ ڈھلتے سورج کے نظاروں کے ساتھ جھیل کے تروتازہ پانیوں میں پاؤں ڈال کر بیٹھا کرتا تھا۔جھیل کا اس پانی میں اپنے پاؤں سے پانی کی موجوں میں دائرے بنا یا کرتا تھا۔اس لمحے شام کو دن بھر کا تھکا ہارا سورج اپنی آرام گاہ کی طرف بڑھ رہا ہوتا اور یوں محسوس ہوتا کہ مسکرا کر ہم سے شب بخیر کہہ رہا ہو۔اسی کے ساتھ شام ڈھلتے ہم بھی اپنے گھروں کی جانب روانہ ہو جاتے تھے۔اس لمحے سورج کا حسن ہمارے دل میں سمایا ہوتا تھا۔

Advertisement
اوراب؟
اب تو یہ بھی یاد رکھنا محال ہے
کس طرف پورب ہے،پچھم ہے کدھر
کب اگا کرتا ہے سورج اور کب جاتا ہے ڈوب!
کس کو بستر میں پتہ!
کس کو دفتر میں خبر!

تشریح:

نظم کے آخری بند میں شاعر موجودہ دور اور وقت کو بیان کر رہا ہے اور موجودہ دور کی تیز رفتار زندگی کی حقیقت بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اب ہم اس دور سے گزر رہے ہیں جہاں طلوع ہوتے اور ڈھلتے سورج کے نظارے تو دور کی بات اس تیز رفتار زندگی کے جھمیلوں میں ہم یہ تک بھولے ہوئے ہیں کہ مشرق کی سمت کون سی ہے اور مغرب کس سمت ہے۔زندگی اس قدر تیز رفتار اور مشینی ہو چکی ہے کہ سورج کب طلوع ہوتا ہے اور کب غروب انسان کو ا سکا علم تک نہیں۔انسانی زندگی دفتراور کام کے گرد گھن چکر بن کر رہ گئی ہے۔
نظم کے عنوان میں بھی شاعر نے موجودہ زندگی کو بے سحر و شام قرار دے کر حالات کی برق رفتاری کو بیان کیا ہے۔

سوالات:

سوال نمبر 1: شاعر اپنے ماضی کی صبحوں کو کس لیے یاد کرتا ہے؟

شاعر اپنے ماضی کی صبحوں کو اس لیے یاد کرتا ہے کہ ماضی کی سہانی یادیں ان دنوں کی یاد تازہ کرتی ہیں جب صبح سویرے اٹھ کر وہ تازہ دم سورج کے طلوع ہونے کا منظر دیکھ سکتا تھا۔اور یہ نظارہ اس کو اتنا تازہ دم کرتا تھا کہ جیسے اس کے جسم میں کسی نے نئی روح پھونک دی ہو۔

Advertisement

سوال نمبر 2: شاعر کو اپنی گزشتہ شامیں کیوں یاد آتی ہیں؟

شاعر کو اپنی گزشتہ شامیں اس لیے یاد آتی ہیں کہ تب زندگی اتنی برق رفتار نہ ہونے کی وجہ سے وہ شام کے وقت میں جھیل کے پانی میں پاؤں ڈال کر بیٹھا کرتا تھا۔اور غروب ہوتے سورج کا اسے الوداع کہنا اسے یاد آتا ہے۔

Advertisement

سوال نمبر 3:شاعر کے لئے کیا یاد رکھنا محال ہے؟

موجودہ دور کی تیز رفتار زندگی کی وجہ سے یہ یاد رکھنا بھی محال ہے کہ مشرق کس جانب ہے اور مغرب کس جانب ہے۔سورج کب ڈوبتا ہے اور کب اگتا ہے یہ سب یاد رکھنا محال ہے۔

Advertisement
Advertisement

Advertisement