تعارف

ممتاز مفتی ۱۱ ستمبر ۱۹۰۵ کو پنجاب کے گورداس پور کے پٹیالہ میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ محمد حسین اور ان کی پہلی بیوی صغرا خانم کے بیٹے تھے۔ ابتدائی تعلیم امرتسر ، میانوالی ، اور ڈیرہ غازی خان میں حاصل کی۔ بعد میں انھوں نے ۱۹۲۹ میں اسلامیہ کالج ، لاہور سے بی اے اور سنٹرل کالج ، لاہور سے ایس اے وی کی ڈگری ۱۹۳۳ میں حاصل کی۔ انھوں نے آل انڈیا ریڈیو کے لئے اور بمبئی فلم انڈسٹری میں بھی کام کیا۔انہوں نے ۱۹۴۷ میں پاکستان ہجرت کی جہاں انہوں نے حکومت پاکستان کے لئے اہم عہدوں پر کام کیا۔ ممتاز مفتی نے ۱۹۴۷ سے پہلے اسکول ٹیچر کی حیثیت سے کام کرتے ہوئے اردو مختصر کہانیاں لکھنا شروع کیں۔

ادبی خدمات

ممتاز مفتی صاحب کی ناول نگاری اور افسانہ نگاری دنیا کے گوشے گوشے میں پڑھی جاتی ہے۔ان کی مقبولیت کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ انھوں نے افسانے ناول میں اپنے کرداروں کے نفسیاتی باطن کی سیاحت کی اور ایسے ان کے جذبوں کو منکشف کیا جو روایتی کہانی نگار کی نظروں سے اوجھل رہتے ہیں۔ممتاز مفتی عام قاری کا افسانہ نگار نہیں ان کی فکری ،فنی  اور تخلیقی گہرائیوں میں اترنے کے لیے فرائیڈ ،ایڈلر،یونگ اور دیگر متعدد نفسیات دانوں کا مطالعہ ضروری ہے۔

ممتاز مفتی کے افسانوں سے زیادہ ان کی شخصیت میں پیچ و خم نظر آتے ہیں۔ پیچیدگی کی یہ لکیر گھومتے گھومتے بھٹکتے بھٹکتے ، الجھتے الجھتے ایک ایسے مدرسہ فکر کی سرحدوں سے جا ملتی ہے۔ جسے جدید جنسی نظریاتی سکول کہا جاتا ہے۔ جنسی نظریوں سے گتھم گتھا یہ فنکار خود بھی ایک دلچسپ گتھی بن کر رہ گیا ہے۔ مفتی صاحب کی جسمانی ترتیب اور ذہنی ساخت میں ایک حیرت انگیز قسم کی ہم آہنگی ہے۔ یہ تحیر اور بھی استوار ہو جاتا ہے جب ہم ان کے آرطے میں بھی اسی ہم آہنگی کو دہراتا دیکھتے ہیں۔

ممتاز مفتی جو نفسیاتی زاویہ نگاہ لے کر ادبی مخفل میں آئے تھے، ہمارے لیے نادر ناول لکھ کر چلے گئے۔ ممتاز مفتی کے سوانحی ناول ”علی پور کا ایلی“ کے مطالعے سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ ان کی زندگی میں جنس کی اہمیت کی بنیادی وجہ کیا تھی۔

اردو افسانے میں نفسیات ، تحلیل نفسی ، لاشعور کے گورکھ دھندے کی اولین اینٹ رکھنے والے اس افسانہ نگار کو پڑھتے ہوئے ہمارے ذہن میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ وہ کونسے محرکات تھے جن کی بدولت ان کے ہاں جنس اور نفسیات نے بنیادی حیثیت حاصل کی۔ اس لیے ان کے ذہنی ارتقاء اور تخلیق کے لاشعوری محرکات کو سمجھنے کے لیے ان کی ابتدائی زندگی کی طرف رجوع کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔ کیونکہ اسی کے ذریعے سے ہم ان کا تحلیل نفسی کرکے ان کے لاشعور تک رسائی کو ممکن بنا سکتے ہیں۔ کسی بھی ادیب کی تحلیل نفسی میں خود نوشت سوانح عمری مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ اس کے ذریعے سےہم ان عوامل کی نشاندہی کرسکتے ہیں جو کہ کسی بھی شخصیت کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
ممتاز مفتی کے خاکوں میں لفظوں کی مدھم مدھم جھنکار پڑھنے والے کو مسرور کر دیتی ہے۔ان کا صاف ستھرا، نکھرا نکھرا لہجہ شخصیت کے حسن کو دوبالا کردیتا ہے۔

تصانیف

  • آپ کی مزید تصنیفات کی فہرست درج ذیل ہے :
  • ۱۹۷۵ لبیک
  • ۱۹۸۶ سمے کا بندھن
  • ۱۹۶۸ پیاز کے چھلکے
  • تلاش  (کتاب قرآنی تعلیمات کی اصل روح پر روشنی ڈالتی ہے)

اعزاز

۲۰۱۳ میں ، پاکستان پوسٹ آفس نے اردو کے نامور ادیب کے اعزاز میں ایک ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا۔

آخری ایام

۲۷ اکتوبر ۱۹۹۵ کو ان کا انتقال ہوگیا۔ ان کو پاکستان کے دارالخلافہ اسلام آباد میں مدفن کیا گیا۔

Advertisements