پریم چند

پریم چند کا اصل نام دھنپت رائے تھا۔ان کے چچا نے ان کا نام نواب رائے رکھا تھا جو انہیں پسند تھا۔ پریم چند پہلے قلمی نام کے طور پر نواب رائے  استعمال کرتے تھے لیکن افسانوی مجموعے سوز وطن کے ضبط  ہونے کے بعد سے اپنے دوست "زمانہ” کے اڈیٹر دیا نرائن نگم کے مشورہ پر پریم چند کے نام سے لکھنا شروع کر دیا تھا۔

پریم چند 31 جولائی 1880ء میں بنارس میں پیدا ہوئے۔پریم چند کے والد کا نام منشی عجائب لال تھا  جو ڈاکخانہ میں کلرک تھے۔پریم چند نے  بی اے کا امتحان الہ آباد یونیورسٹی سے پاس کیا تھا۔پریم چند کا انتقال 1936ء کو بنارس میں ہوا تھا۔

پریم چند کی افسانہ نگاری

پریم چند سے پہلے ہماری زبان میں چند افسانوں کے ترجمے  اور چند طبع زاد افسانے موجود تھے لیکن فن کی کسوٹی پر پرکھا جائے تو انہیں افسانہ کہنا ہی مشکل ہے۔ پریم چند ہمارے پہلے ادیب ہیں جو سنجیدگی کے ساتھ اس صنف کی طرف متوجہ ہوئے۔پروفیسر قمر رئیس کا ارشاد ہے کہ پریم چند کی روایت اردو کے افسانوی ادب میں بنیادی روایت کا درجہ رکھتی ہے۔ پریم چند کے افسانے اردو افسانے کے سفر کی ہر منزل میں چراغوں کی طرح روشن رہے ہیں۔

پریم چند نے 1907ء سے نواب رائے کے فرضی نام سے افسانے نگاری کا آغاز کیا۔لیکن پریم چند نے اپنی ادبی زندگی کا آغاز ایک ناولٹ” ایک ماموں کا رومان "لکھ کر 1901ء میں کیا تھا۔1908ء میں ان کی کہانیوں کا پہلا مجموعہ "سوز وطن "کے نام سے شائع ہوا۔ان کا پہلا طبع زاد افسانہ” عشق دنیا اور حب وطن” ہے جو اپریل 1908 عیسوی کے رسالہ "زمانہ” کانپور میں چھپا۔ یہ سوز وطن میں شامل ہے۔اس مجموعے سے اردو افسانہ نگاری کے پہلے دور کا باقاعدہ آغاز ہوتا ہے اور قاری کے دل میں حب وطن کے جذبے کو بیدار  کرتا ہے۔لیکن سرکار کو اس کی اشاعت پسند نہیں آئی  اسے ضبط کرلیا گیا اور نواب رائے کو ہدایت کی گئی کہ سرکار سے منظور کرائے بغیر کوئی افسانہ یا مضمون شائع نہ کریں۔یہ واقعہ 1910ء کا ہے۔ چناچہ سرکاری پابندی کے بعد ان کی تین کہانیاں "گنا کااگن کنڈ "سیر درویش” اور” رانی سارندہ” مصنف کے نام کے بغیر شائع ہوئیں۔

پریم چند سے پہلے اردو میں افسانہ نگاری کی کوئی قابل ذکر روایت موجود نہیں تھی۔ مختصر مختصر قصے تھے اور وہ بھی محض گنتی کے جو آج کسی شمار میں نہیں۔اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ پریم چند نے اردو افسانے کی بنیاد ڈالی   اور اس بنیاد پرشاندار محل تعمیر کرنے کا سہرا بھی ان کے سر  ہے۔

دیہات کی تصویرکشی پریم چند کی سب سے اہم خصوصیت  ہے۔ ان سے پہلے ہمارے ادب میں گاؤں کا ذکر نا پید تھا اور صرف شہری زندگی ہی پیش کی جاتی تھی ۔وہ گاؤں میں پلے بڑھے تھے۔ ہندوستانی گاؤں ان کے رگ رگ میں بس گیا تھا۔

پریم چند کی افسانہ نگاری کا ایک پہلو اور ہے وہ اصلاح پسند ہیں اور ہندوستانی سماج کی برائیوں کو دور کرنا چاہتے ہیں۔ غریبوں پر ظلم ،سرمایہ داروں اور مذہب کے ٹھیکیداروں کی زیادتیاں، اونچی ذات والوں کا دوسروں کو حقیر سمجھنا اور اسی طرح کی دوسری برائیاں انہیں تڑپا دیتی ہیں۔اس لیے انہیں دور کرنے کی خواہش ان کے دل میں پیدا ہوتی ہے چناچہ وہ اصلاحی افسانے لکھتے ہیں اور مثالی کردار پیش کرتے ہیں۔اکثر کہانیوں میں وہ نیکی کی جیت اور بدی کی ہار دکھاتے ہیں۔

حقیقت نگاری پریم چند کے افسانوں کی دوسری اہم خصوصیت ہے۔ انہوں نے زندگی کو جیسا پایا بے کم و کاست ویسا ہی بیان کردیا۔ایک مضمون میں پریم چند لکھتے ہیں کہ افسانہ حقائق کی فطری مصوری کو ہی اپنا مقصد سمجھتا ہے اس میں تخیلی باتیں کم اور تجربات زیادہ ہوتے ہیں۔اور ایک خط میں یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ میرے قصے اکثر کسی نہ کسی مشاہدے اور تجربے پر مبنی ہوتے ہیں۔

آدرشواد پریم چند کی فکر کا بنیادی عنصر ہے۔ ان کا ایمان ہے کہ انسان فطرتاً نیک ہوتا ہے۔ایک مضمون میں لکھتے ہیں” برا شخص بالکل ہی برا نہیں ہوتا اس میں کہیں فرشتہ ضرور چھپا ہوتا ہے۔  اس پوشیدہ یا خوابیدہ فرشتے کو ابھارنا اور اس کا سامنے لانا ایک کامیاب افسانہ نگار کا شیوہ ہے”۔

ٹالسٹائی اور مہاتما گاندھی کے افکار نے پریم چند کو بہت متاثر کیا۔مھاتما گاندھی کی اہمسا کو انہوں نے اپنے افسانوں میں اپنایا اور برے لوگوں کے دلوں میں تبدیلی لا کر انہیں نیک بنانے کی کوشش کی۔وہ اصلاح پسند ہیں اور سدھار  کے ذریعے وہ دنیا کے دکھوں کو مٹانا چاہتے تھے۔

سماجی انصاف  کے پریم چند بہت قائل تھے۔فرقہ وارانہ ہم آہنگی  کو پریم چند بہت اہمیت دیتے تھے مذہب کے سلسلے میں ان کا رویہ بہت صحت مند تھا۔ دین دھرم کو وہ انسان کا نجی معاملہ خیال کرتے تھے ان کے نزدیک زبان اور تہذیب ایک الگ چیز ہے اور مذہب ایک الگ شے۔انسان دوستی ہی دراصل وہ جذبہ ہے جو ان کے افکار و خیالات کی اساس ہے۔

وحدت تاثر کو  افسانےکے لیے زیادہ ضروری شے خیال کرتے ہیں اور اس پر زور دیتے ہیں کہ افسانے میں ایک لفظ اور ایک فقرہ بھی ایسا نہیں ہونا چاہیے جو اس کے مرکزی خیال کو واضح نہ کرتا ہو۔کردار نگاری میں پریم چند نے بڑی فنکارانہ مہارت کا ثبوت دیا ہے۔بقول ایک نقاد کے اسے شہزادوں سے بڑھ کر حسن اور پرستان کی پریوں سے زیادہ دلنوازی بخشدی۔نفسیاتی تجزیہ پریم چند کی کردار نگاری کا سب سے بڑا حربہ ہے۔

پریم چند نے ایک مضمون میں لکھا تھا "ہماری کسوٹی پر وہ ادب کھرا اترے گا جس میں میں فکر ہو ،آزادی کا جذبہ ہو، حسن کا جوہر ہو، تعمیر کی روح ،جو ہم میں حرکت، ہنگامہ اور روشنی پیدا کرے”۔

پریم چند کے افسانوی مجموے

  • ۔"سوزوطن "  1908 ءمیں شائع ہوا۔ جس میں پانچ افسانے  ہیں۔
  • پریم پچیسی حصہ اول 1914 عیسوی میں شائع ہوا ۔ جس میں بارہ  افسانے  ہیں۔
  • پریم پچیسی حصہ دوم 1918 میں شائع ہوا جس میں تیرہ افسانے  ہیں۔
  • پریم بتیسی حصہ اول 1920 شائع ہوا جس میں سولہ افسانے ہیں۔
  • پریم بتیسی حصہ دوم 1920 عیسوی میں شائع ہوا جس میں سولہ افسانے ہیں۔
  • خاک پروانہ 1928 شائع ہوا جس میں سولہ افسانے ہیں۔
  • خواب و خیال 1928 میں شائع ہوا جس میں 14 افسانے ہیں۔
  • فردوس خیال 1929 میں شائع ہوا جس میں بارہ افسانے ہیں۔
  • پریم چالیسی حصہ  اولاودوم  1930 عیسوی میں شائع ہوئے. جس میں بیس افسانے ہیں۔
  • آخری تحفہ 1934  میں شائع ہوا  جس میں تیرہ افسانے ہیں۔
  • زاد راہ 1936 میں شائع ہوا  جس میں پندرہ فسانے ہیں۔
  • دودھ کی قیمت جس میں نو افسانے ہیں ہیں۔1937 میں شائع ہوا۔
  • واردات 1938 میں شائع ہوا جس میں تیرہ افسانے ہیں۔

پریم چند کے ناول

  • اسرار معابد۔ پریم چند کا پہلا ناول ہے  جو نامکمل رہا تھا۔انیس سو تین  لے کر انیس سو پانچ  تک شائع ہوا تھا۔
  • ہم خر ماو ہم ثواب۔ 1905 عیسوی میں شائع ہوا۔
  • کشنا۔روٹھی رانی۔
  • جلوہ ا ایثار 1912 عیسوی میں شائع ہوا۔جلوہ ایثار ایک سوانحی ناول ہے جس میں پریم چند نے سوامی ویویکانند کی زندگی اور شخصیت کو ناول کے قالب میں ڈھالنے کی کوشش کی ہے۔
  • بازار حسن۔یہ ناول اردو میں دو حصوں میں شائع ہوا تھا۔  پہلا حصہ 1921ء اور دوسرا حصہ 1922ء میں شائع ہوا۔
  • گوشہ عافیت۔گوشہ عافیت اردو میں انیس سو اٹھائیس میں شائع ہوا تھا۔گوشہ عافیت پریم چند کا نہیں بلکہ ہندوستانی ادب کا پہلا ناول ہے جس میں ہندوستان کے محنت کش کی زندگی اور اس کے بنیادی مسائل کو موضوع بنایا گیا ہے۔
  • چوگان ہستی ۔یہ ناول اردو میں انیس سو ستائیس میں شائع ہوا تھا۔اس کا مرکزی کردار سورداس ہے۔ اسے پانڈے پور کی روداد بھی کہا جاسکتا ہے۔پریم چند نے چوگان ہستی کو اپنا بہترین ناول قرار دیا ہے۔
  • پردہ مجاز ۔  1928 میں لکھا گیا۔
  • نرملا  ۔ اردو میں یہ ناول 1929 شائع ہوا۔
  • بیوہ۔اردو میں 1932ء میں شائع ہوا۔
  • غبن۔یہ ناول 1932 میں شائع ہوا.
  • میدان عمل۔۔1936 میں شائع ہوا۔اس کے مرکزی کردار امرکانت۔سمرکانت اور سکھدا۔۔۔
  • گودان۔۔ پریم چند کا آخری مکمل ناول ہے جسے انہوں نے میدان عمل کے بعد لکھنا شروع کیا تھا اور انیس سو پینتیس میں مکمل کیا تھا۔ناول گودان 36 ابواب میں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ناول گودان اردو میں پریم چند کی وفات کے بعد انیس سو سینتیس میں مکتبہ جامعہ دہلی سے شائع ہوا تھا۔اس ناول کا مرکزی کردار خوری ہے جو بلاری گاؤں کا رہنے والا ہے۔دھنیا  اس کی بیوی  اور گوبر اس کا بیٹا تھا۔سونا اور روپا خوری کی دو بیٹیاں تھیں۔اس کے علاوہ رائے اگر بال معتادین ۔ مسٹر مہتا۔ مس مالتی۔ مسٹر کھنا ۔مسٹر اون  شام بخاری وغیرہ اس ناول کے کردار۔
  • منگل سوتر۔یہ پریم چند کا نامکمل اور آخری ناول ہے اتفاق سے پریم چند کا پہلا اور آخری دونوں  ناول نامکمل ہیں۔

پریم چند کے سوانحی مضامین کا مجموعہ

” باکمالوں کے درشن” ہے.

پریم چند کے ڈرامے۔

سنگرام۔  کربلا اور پریم کی دیوی ہیں۔

پریم چند کے متعلق کچھ اہم باتیں

  • پریم چند نے فراک اور دو حصہ داروں کی شرکت سے بنارس میں سرسوتی پریس 1923 میں قائم کیا تھا۔
  • پریم چند نے سرسوتی پریس سے رسالہ” ہنس” ہندی میں 1930 میں جاری کیا تھا۔
  • پریم چند نے ہفتہ وار اخبار”جاگرن” بنارس سے جاری کیا تھا۔
  • پریم چند نے انجمن ترقی پسند مصنفین کی پہلی کانفرنس کی صدارت لکھنؤ 1936 میں کی تھی۔

Written By

Jafar Ali Khan

Close