تعارف

۱۰ اکتوبر ۱۹۳۰ میں مصطفی حسین زیدی الہ آباد میں پیدا ہوئے۔ آپ نے تیغ الہ آبادی کے قلمی نام سے شاعری کا آغاز کیا۔ سترہ برس کی عمر میں ان کا پہلا مجموعہ کلام شائع ہو چکا تھا۔ فوج کی حکومت تھی جس میں لگ بگ تین سو افسران کو بیک جنبش قلم ملازمتوں سے فارغ کر دیا گیا تھا۔ زیدی بھی اس سے متاثر ہوئے۔ ایسے عالم میں ماسٹر ٹائر اینڈ ربر فیکٹری کے مالک فیاض ملک نے آگے بڑھ کر دوستی کا حق ادا کر دیا اور اپنے بنگلے کی انیکسی مصطفی زیدی کو رہائش کے لیے دے دی۔ اسی انیکسی میں ان کی ملاقاتیں ایک عرصے تک تو شہناز گل سے جاری رہیں، لیکن بعد میں یہ سلسلہ بوجوہ آگے نہ بڑھ سکا۔ مصطفی زیدی نے ایک جرمن خاتون ویرا سے شادی کی جن سے ان کے دو بیٹے پیدا ہوئے۔ ان کی موت کے بعد ویرا زیدی اپنے وطن واپس لوٹ گئیں۔

تعلیم و نوکری

۱۹۵۲ء میں گورنمنٹ کالج لاہور سے انگریزی ادب میں ایم اے کیا۔ اسلامیہ کالج کراچی اور پشاور یونیورسٹی میں پروفیسر رہے۔ سول سروس کا امتحان پاس کرنے کے بعد پیشہ ورانہ امور کی تربیت کے لیے انہیں انگلینڈ بھیجا گیا۔ ڈپٹی کمشنر ہونے کے بعد ڈپٹی سیکرٹری بھی مقرر ہوئے۔

ادبی آغاز

سترہ برس کی عمر میں ان کی شاعری نے سب کو حیران کردیا کہ اس کم عمری میں بھی ان کی شاعری میں پختگی موجزن تھی۔ ابتدا میں وہ فراق گورکھپوری سے متاثر تھے۔ اس کے بعد جوش ملیح آبادی کی انقلابی فکر سے متاثر ہوئے لیکن رفتہ رفتہ وہ اپنی الگ راہ بنانے میں کامیاب ہوئے۔

شعری مجموعے

ان کے مجموعہ "ہائے کلام” میں
’’روشنی‘‘
’’شہر آذر‘‘
’’موج میری صدف صدف ‘‘
’’گریبان‘‘
’’قبائے ساز‘‘
اور
’کوہ ندا‘‘ شامل ہیں۔

آخری ایام

نامور شاعر اور سی ایس پی آفیسر مصطفی زیدی ۱۲ اکتوبر ۱۹۷۰ میں کراچی کے ایک ہوٹل کے کمرے میں مردہ پائے گئے۔ اس وقت ان کی عمر چالیس برس تھی۔ ایک خوبرو عورت شہناز گل کو پولیس نے حراست میں لے کر شاملِ تفتیش کیا۔ یہ خاتون وہی شہناز تھیں جو ان کی چند معروف نظموں کا عنوان ہے۔ مصطفی زیدی کی موت کے بارے میں دو آرا سامنے آئیں۔ اوّل یہ کہ شہناز گل نے انہیں زہر دیا اور دوئم یہ کہ نامور شاعر نے خودکشی کی تھی۔ لیکن اس پراسرار موت کی وجہ آج تک معلوم نہ ہو سکی۔ شہناز گل کو بھی رہا کر دیا گیا۔ اس رات کو کیا ہوا جب یہ نامور شاعر ہوٹل میں ٹھہرا تھا، کوئی گواہ یا ایسی شہادت نہ مل سکی جس سے اس راز سے پردہ اٹھ سکتا۔

انھیں کا کہا ہوا شعر ان پر صادق آیا۔

میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں
تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے

منتخب کلام (غزل)

نظم "گناہ گار”

اے سوگوار یاد بھی ہے تجھ کو یا نہیں
وہ رات جب حیات کی زلفیں دراز تھیں
جب روشنی کے نرم کنول تھے بجھے بجھے
جب ساعت ابد کی لویں نیم باز تھیں
جب ساری زندگی کی عبادت گزاریاں
تیری گناہ گار نظر کا جواز تھیں
اک ڈوبتے ہوئے نے کسی کو بچا لیا
اک تیرہ زندگی نے کسی کو نگاہ دی
ہر لمحہ اپنی آگ میں جلنے کے باوجود
ہر لمحہ زمہریر محبت کو راہ دی
ہم نے تو تجھ سے دور کی ہمدردیاں دکھائیں
تو نے کسی سے رسم وفا بھی نباہ دی
(مصطفی زیدی)

A Quiz On Mustafa Zaidi

مصطفی زیدی 1
Advertisements