تعارف

مظفر محمد علی ۶ دسمبر، ۱۹۲۹ء کو امرتسر، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ ۱۷ برس کی عمر میں فلمی ہفت روزہ "ممتاز” سے صحافت کا آغاز کیا۔ فلم سے انہیں بہت دلچسپی رہی۔ محض مبصر نہیں رہے، اس دنیا میں خود بھی داخل ہوئے۔ ’’میرا نام ہے محبت‘‘ اور ’’وعدے کی زنجیر‘‘ کی سکرین رائٹنگ میں ایک اور لائق اور عزیز دوست ستار طاہر کی معاونت کی۔ ’’افغان سرجیکل‘‘ نامی ایک دستاویزی فلم کی کمنٹری لکھی۔ ایڈورٹائزنگ کمپنی بنائی تو مختلف مصنوعات کی اشتہاری فلموں کے سکرپٹ لکھے اور ہدایات دیں، ریڈیو، ٹی وی کیلئے پروگرام پروڈیوس کئے۔

ادبی آغاز

ادب میں ان کا شعبہ افسانہ تھا۔ صرف بیس سال کی عمر میں پہلا افسانہ ’’ اشرف المخلوقات‘‘ چھپا تو سید قاسم محمود نے لکھا :
’’مبارکباد!! آپ تو چھپے رستم نکلے۔ بے شک آپ مرجائیں ایڑیاں رگڑ رگڑ کر، لیکن افسانہ نگاری ترک نہ کریں۔ آپ کے اندر اللہ پاک کی قسم ایک بڑا فنکار چھپا ہوا ہے۔ بہت خوب۔ اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ۔‘‘

چار سال بعد ۱۹۷۶ میں مجموعہ ’’ قسطوں کی موت‘‘ شائع ہوا تو نامور افسانہ نگار غلام عباس نے کہا :
’’یہی تیور رہے تو تمہارا شمار مستقبل کے بڑے افسانہ نگاروں میں ہوگا۔”
ممتاز مفتی نے لکھا:
’’ان افسانوں کے کردار میرے تخیل، مشاہدے اور تجربے میں آتے تو میں بھی انہیں ایسے ہی لکھنے کی کوشش کرتا۔”
مرزا ادیب نے لکھا:
"مظفر محمد علی کے ہاں تلخیاں بہت ہیں۔ ان تلخیوں کو اس نے وہ شئے بنا دیا ہے جسے علامہ اقبال معجزۂ فن کہتے ہیں، ’’قسطوں میں موت‘‘ اردو ادب کو قسطوں میں زندگی دے گی۔ اس کا مجھے یقین ہے۔‘‘

لیکن مظفر محمد علی پھر تلاش رزق میں ایسے الجھے کہ بہت کم افسانے لکھ پائے۔ ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت کے حوالے سے لکھا گیا ان کا افسانہ "عکس کا عدم اختلاف” آخری ثابت ہوا۔ لیکن اردو افسانے کا کوئی تذکرہ نگار انہیں نظر انداز نہیں کر سکتا۔

مظفر محمد علی جنگ، نوائےوقت ، مشرق، سیارہ ڈائجسٹ، حکایت سے منسلک رہے۔ شوخ نوکیلے جملوں والے کالم "سطر پوشیاں” بھی لکھا اور نقاب کشا انٹرویو بھی کئے۔ ان کے مجموعے زیرِ تیاری تھے۔ اشاعت کا علم نہیں۔

جنگ

ان کی زندگی کا اہم حصہ وہ ہے جب وہ جنگ پبلشرز کے انچارج رہے۔ ان کے شعبے کا ماحول بہت دوستانہ تھا۔ ان کی تصانیف میں "تنقید کی آزادی، احمد ندیم قاسمی کے بہترین افسانے، یادوں کی سرگم اور تراجم میں فکشن، فن اور فلسفہ اور پاک فضائیہ کی تاریخ” کے نام شامل ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے اردو کے ممتاز محقق و نقاد مشفق خواجہ کے کالموں کے تین مجموعے "خامہ بگوش کے قلم سے ، سخن در سخن اور سخن ہائے گفتنی” کے نام سے مرتب کیے۔

جنگ پبلشرز سے انہوں نے ایک لائبریری جتنی عمدہ کتابیں چھاپ ڈالیں۔ پھر مالکان کی توجہ بڑے کاروبار کی طرف ہوگئی تو جنگ پبلشرز تقریباً ختم ہی ہوگیا۔ شاید مظفر محمد علی کیلئے آخری بڑا صدمہ یہی ہو۔
مظفر محمد علی نے مختلف اخبارات و جرائد میں کالم نگاری کے ساتھ ساتھ  سیاست، ادب، فن اور کھیل کے میدانوں میں شہرت رکھنے والی شخصیات کے انٹرویوز بھی کیے۔ کتاب کا مکمل عنوان اس طرح ہے : ’پاکستانی سیاست کے رازداں صحافی صفدر میر سے حامد میر تک‘

مظفر محمد علی مرحوم کی خواہش تھی کہ یہ کتاب جلد از جلد شائع ہو سکے اور زندگی کے آخری ایام میں وہ اس کی فوری اشاعت کے لیے بہت پُرجوش دکھائی دیتے تھے لیکن افسوس کہ ایسا نہ ہو سکا اور اُن کی وفات کے بعد یہ کام ان کے ایک عزیز اجمل شاہ دین نے انجام دیا۔

کتاب میں امتیاز عالم، حسن نثار اور مجیب الرحمٰن شامی سمیت چودہ کارکن صحافیوں سے گفتگو کا احوال درج ہے۔ ہر انٹرویو سے پہلے اُس صحافی کی شخصیت اور فن کا تعارف مظفر محمد علی نے انتہائی جامع انداز میں کرایا ہے۔ مثلاً اثر چوہان کی گفتگو سے پہلے اُن کے تعارفی نوٹ میں بتاتے ہیں کہ موصوف بقول ان کے صحافت میں مسلح جدو جہد کے قائل رہے ہیں۔ ’یہ انٹرویو پڑھتے ہوئے آپ پر منکشف ہو گا کہ اثر چوہان نے ایک حربی حکمت کار کی مانند کس کس طرح اپنے مورچے بدلے، پوزیشنیں تبدیل کیں اور اپنی حکیمانہ پسپائی اور جارحانہ پیش قدمی سے اپنے حریفوں کو زچ کرتے رہے۔

تصانیف

ان کے مجموعے اردو ادب میں اہم مقام رکھتے ہیں۔

•تنقید کی آزادی (تنقید)

•پاک فضائیہ کی تاریخ (تاریخ)

•فکشن، فن اور فلسفہ (ترجمہ)

•یادوں کی سرگم (خاکے)

•احمد ندیم قاسمی کے بہترین افسانے (ترتیب)

•خامہ بگوش کے قلم سے (ترتیب)

•سخن در سخن (ترتیب)

•سخن ہائے گفتنی (ترتیب)

وفات

مظفر محمد علی ۲۸ جنوری، ۲۰۰۰ء کو لاہور، پاکستان میں وفات پا گئے۔ وہ لاہور میں کیولری گراؤنڈ قبرستان میں سپردِ خاک ہوئے۔