Advertisement
  • سبق : نام دیو مالی
  • مصنف : مولوی عبد الحق
  • ماخوذ : ” چند ہم عصر “

سوال۴: سبق کا خلاصہ اپنے الفاظ میں لکھیے۔

تعارفِ سبق :

سبق ”نام دیو مالی“ کے مصنف کا نام ”مولوی عبد الحق“ ہے۔ یہ سبق کتاب ” چند ہم عصر“ سے ماخوذ کیا گیا ہے۔

Advertisement

تعارفِ مصنف :

مولوعی عبدالحق ۱۸۷۰ء میں ضلع میرٹھ کے قصبے ہاپڑ میں پیدا ہوئے۔ آپ نے ابتدائی تعلیم پہلے فیروز پور پھر علی گڑھ سے حاصل کی۔ آپ نے علی گڑھ سے بی – اے کیا اور آپ کو علمی اعزازی ڈگریاں ملیں۔ آپ کچھ عرصہ حیدرآباد دکن میں بھی رہے اور تعلیم کے ساتھ ساتھ اردو ادب کے لیے مختلف خدمات انجام دیں۔ آپ انجمن ترقی اردو کے سیکریٹری مقرر ہوئے۔ پھر دہلی میں ابھی اسی عہدے پر فائز رہ کر کام کیا۔ تقسیمِ ہند کے بعد آپ کراچی منتقل ہوگئے۔ یہاں آکر آپ نے انجمن ترقی اردو کی بنیاد رکھی۔ پہلے آپ اس کے سیکریڑی پھر صدر بھی بنے۔ آپ کی آخری آرام گاہ اردو کالج کراچی میں ہے۔ مولوی صاحب کی اردو ادب کے لیے خدمات کے صلے میں قوم نے آپ کو ” بابائے اردو “ کا لقب دیا۔ لغت، قواعد، تدوین، تحقیق اور تبصرے کے حوالے سے آپ کی متعدد کتابیں چھپ چکی ہیں۔ شخصیت نگاری پر ”چند ہم عصر“ ان کی مشہور تصنیفات ہیں۔ اسی تصنیف سے یہ خاکہ نام دیو مالی ماخوذ کیا گیا ہے۔

Advertisement

خلاصہ :

اس سبق میں مصنف نام دیو کا ذکر کرتے ہیں۔ نام دیو مقبرہ رابعہ دورانی ، اورنگ آباد (حیدرآباد دکن) کے باغ میں مالی تھا۔ مصنف اکثر نام دیو کو دیکھا کرتے تھے کہ وہ ایک پودے کے سامنے بیٹھا، پانی ڈال کر ڈول درست کرتا، اور ہر رُخ سے پودے کو مُڑ مُڑ کر دیکھتا۔ پھر الٹے پاؤں پیچھے ہٹ کر اسے دیکھنے لگتا، وہ اکثر پودوں کو دیکھتا جاتا ، مسکراتا اور خوش ہوتا تھا۔ مصنف کو نام دیو کی ان تمام حرکتوں پر تعجب ہوتا تھا۔

مصنف نام دیو کی محنت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اسے کام سے بہت محبت تھی اور وہ بےغرض ہو کر پودوں کی خدمت کرتا تھا۔ وہ خود بھی صاف ستھرا رہتا تھا اور اپنے چمن کو بھی صاف رکھتا تھا۔ نام دیو مالی بہت محنتی آدمی تھا اور اسے اپنے کام سے بہت زیادہ لگاؤ تھا۔ وہ ہر وقت اپنے کام میں مصروف رہتا تھا اور پودوں کو دیکھ کر خوش ہوتا رہتا تھا۔ مصنف لکھتے ہیں کہ اسے اپنے کام سے سچا لگاٶ تھا اور اسی میں اس کی جیت تھی، کیونکہ اس کا باغ باقی تمام باغات سے بہت بہتر اور صاف تھا۔ وہاں کوئی کنکر بھی موجود نہ ہوتا تھا اور اس لیے سب اسے اس کی محنت کی وجہ سے بہت پسند کرتے تھے۔

ایک مرتبہ جب بارش بہت کم ہوئی اور پانی کی قلت بڑھی تو دیو مالی دور دور سے پانی کا ایک ایک گھڑا سر پر اٹھا کے لاتا اور پودوں کو سینچتا۔ جب پانی کی قلت اور بڑھ گئی تو اس نے راتوں کو بھی پانی ڈھو ڈھو کر لانا شروع کردیا۔ جو پانی دیو مالی لاتا وہ آدھا پانی اور آدھی کیچڑ ہوتی تھی، لیکن یہ گدلا پانی پودوں کے لیے آبِ حیات ثابت ہوتا تھا۔
باغوں میں رہتے رہتے نام دیو کو جڑی بوٹیوں کی بھی شناخت ہوگئی تھی۔ اس لیے اسے بچوں کے علاج میں مہارت حاصل ہوگئی تھی۔ ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ ایک شہد کی مکھیوں کے چھتے نے باغ پر حملہ کردیا۔ سارے مالی اپنی جان بچا کر بھاگ گئے لیکن نام دیو اپنے کام میں لگا رہا۔ مکھیوں نے اس کاٹنا شروع کردیا اور وہ اتنا کاٹا کہ وہ وہیں بے جان ہوگیا۔ اسی بات سے ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے کام سے کتنا مخلص تھا۔
مصنف لکھتے ہیں کہ ہر شخص کے پاس صلاحیت ہوتی ہے۔ اس صلاحیت سے خود کو اور سب کو فائدہ پہنچانا نیکی کا کام ہے اور یہ عمل بڑے آدمی کی پہچان ہوتا ہے۔ بڑا آدمی وہ نہیں ہوتا جس کے پاس بہت سارا پیسہ ہو بلکہ بڑا آدمی وہ ہوتا ہے جو سب کو فائدہ پہنچائے۔ نام دیو بھی ایسا ہی آدمی تھا جو سب کو فائدہ پہنچانا جانتا تھا۔

Advertisement

سوال 1 : مندرجہ ذیل سوالات کے جواب تحریر کیجئے :

(الف) نام دیو نے پانی کی قلت کے زمانے میں چمن کو کیسے شاداب رکھا؟

جواب : پانی کی قلت بڑھی تو دیو مالی دور دور سے پانی کا ایک ایک گھڑا سر پر اٹھا کے لاتا اور پودوں کو سینچتا۔ جب پانی کی قلت اور بڑھ گئی تو اس نے راتوں کو بھی پانی ڈھو ڈھو کر لانا شروع کردیا۔ جو پانی دیو مالی لاتا وہ آدھا پانی اور آدھی کیچڑ ہوتی تھی، لیکن یہ گدلا پانی پودوں کے لیے آبِ حیات ثابت ہوتا تھا۔

(ب) نام دیو مالی نے انعام لینے سے کیوں انکار کیا؟

جواب : نام دیو مالی نے انعام لینے سے انکار اس لیے کردیا کیونکہ اس کے لیے یہ پودے اس کے بچوں جیسے تھے اور اپنے بچوں کی دیکھ بھال کرنے پر کوئی بھی انعام نہیں لیتا ہے۔

Advertisement

(ج) لوگ بچوں کے علاج کے لئے نام دیو کے پاس کیوں آتے تھے؟

جواب : باغوں میں رہتے رہتے نام دیو کو جڑی بوٹیوں کی بھی شناخت ہوگئی تھی۔ اس لیے اسے بچوں کے علاج میں مہارت حاصل ہوگئی تھی۔ اس لیے لوگ بچوں کے علاج کے لئے نام دیو کے پاس آتے تھے۔

(د) نام دیو کی موت کا سبب کیا تھا؟

جواب : ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ ایک شہد کی مکھیوں کے چھتے نے باغ پر حملہ کردیا۔ سارے مالی اپنی جان بچا کر بھاگ گئے لیکن نام دیو اپنے کام میں لگا رہا۔ مکھیوں نے اس کاٹنا شروع کردیا اور وہ اتنا کاٹا کہ وہ وہیں بے جان ہوگیا۔

Advertisement

(ہ) مصنف کے خیال میں اچھا انسان کیسے بنا جا سکتا ہے؟

جواب : مصنف لکھتے ہیں کہ ہر شخص کے پاس صلاحیت ہوتی ہے۔ اس صلاحیت سے خود کو اور سب کو فائدہ پہنچانا نیکی کا کام ہے اور یہ عمل بڑے آدمی کی پہچان ہوتا ہے۔ بڑا آدمی وہ نہیں ہوتا جس کے پاس بہت سارا پیسہ ہو بلکہ بڑا آدمی وہ ہوتا ہے جو سب کو فائدہ پہنچائے۔ نام دیو بھی ایسا ہی آدمی تھا جو سب کو فائدہ پہنچانا جانتا تھا۔ اس لیے مصنف کے خیال میں اچھا آدمی بننے کے لیے دوسروں کو اپنی صلاحیتوں سے فائدہ پہنچانا بہت ضروری ہے۔

(و) نام دیو مالی کے اوصاف میں سب سے نمایاں وصف کیا ہے؟

جواب : نام دیو مالی کے اوصاف میں سب سے نمایاں وصف یہ تھا کہ وہ اپنا کام پوری ایمانداری سے کرتا تھا۔

Advertisement

سوال 2 : سبق کے متن کو مدنظر رکھ کر درست جواب پر نشان لگائیے:

(الف) سبق "نام دیو مالی” کس کتاب سے لیا گیا ہے؟
٭چند ہم عصر ✓
٭مقدمات عبدالحق
٭خطبات عبدالحق
٭بزم خوش نفساں

(ب) مقبرہ رابعہ درانی کہاں واقع ہے؟
٭ دلی میں
٭ اورنگ آباد میں ✓
٭ حیدر آباد میں
٭ الٰہ آباد میں

Advertisement

(ج) باغ کے داروغہ کون تھے؟
٭ سید سراج الحسن
٭ مولوی عبدالحق
٭ عبدالرحیم فینسی ✓
٭ ایوب عباس

(د) نام دیو بڑی تندستی سے اپنے کام میں مصروف اور مگن رہتا تھا، اس کی وجہ تھی:
٭تنخواہ کی لالچ
٭افسران کی خوشی
٭ بے عزتی کا خوف
٭ اپنے کام سے محبت ✓

Advertisement

(ہ) مصنف نے کس چیز کو بے کار کہا ہے؟
٭جبری مشقت
٭بے مزہ کام
٭محض حکم کی تعمیل
٭ڈر کر کام کرنے کو ✓

(و) مصنف نے انسان کی فطری کمزوری کی بنا پر اسے کہا ہے:
٭ کاہل اور نکما ✓
٭ نکما اور کام چور
٭ کاہل اور کام چور
٭ دلیر مگر سست

Advertisement

(ز) گدلا پانی پودوں کے لئے تھا :
٭ ضرررساں
٭ بے سود
٭ مفید
٭ آب حیات ✓

(ح) درجۂ کمال تک پہنچنے کے لئے ضروری ہے :
٭ جد و جہد ✓
٭ صلاحیت
٭ خوش بختی
٭ وسائل کا ہونا

Advertisement

(ط) ڈاکٹر سراج الحسن کی ایک خوبی یہ تھی کہ وہ تھے:
٭ نباض
٭ فیاض
٭ مردم شناس ✓
٭ خوش مزاج

Advertisement

۳ : سبق کے متن کو مدنظر رکھ کر درست یا غلط پر نشان لگائیں :

  • (الف) سچائی ، نیکی اور حسن کسی کی میراث نہیں۔ درست ✓ / غلط
  • (ب) نام دیو پھولوں اور پھلوں کی شناخت رکھتا تھا۔ درست/ غلط ✓
  • (ج) نام دیو مالی دو بچوں کا باپ تھا۔ درست/ غلط ✓
  • (د) درجۂ کمال تک پہنچنے کی کوشش سے ہر کوئی درجۂ کمال تک پہنچ سکتا ہے۔ درست ✓/ غلط
  • (ہ) نام دیو مالی مقبرہ رابعہ دورانی کے باغ میں چوکیدار تھا۔ درست/ غلط ✓
  • (و) بے مزہ کام نہیں، بیگار ہے۔ درست ✓/ غلط
  • (ز) نام دیو مالی بچوں کے علاج میں بڑی مہارت رکھتا تھا۔ درست ✓/ غلط
  • (ح) باغ کے داروغہ کو دوسروں سے کام لینا نہیں آتا تھا۔ درست/ غلط ✓
  • (ط) نام دیو مالی شہد کی مکھیوں کے کاٹنے سے فوت ہو گیا۔ درست✓ / غلط

سوال 5 : نام دیو مالی کی زندگی سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے؟ مفصل لکھیں۔

جواب : نام دیو مالی کی زندگی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہر شخص کے پاس صلاحیت ہوتی ہے۔ اس صلاحیت سے خود کو اور سب کو فائدہ پہنچانا نیکی کا کام ہے اور یہ عمل بڑے آدمی کی پہچان ہوتا ہے۔ بڑا آدمی وہ نہیں ہوتا جس کے پاس بہت سارا پیسہ ہو بلکہ بڑا آدمی وہ ہوتا ہے جو سب کو فائدہ پہنچائے۔ نام دیو بھی ایسا ہی آدمی تھا جو سب کو فائدہ پہنچانا جانتا تھا۔ اس لیے اچھا آدمی بننے کے لیے دوسروں کو اپنی صلاحیتوں سے فائدہ پہنچانا بہت ضروری ہے۔

سوال 6 : درج ذیل الفاظ کے معنی لکھیے اور جملوں میں اس طرح استعمال کیجئے کہ تذکیر و تانیث واضح ہو جائے۔

ہار :اس نے ہار نہیں مانی اور اپنا کام کرتا رہا۔
قلم :میں قلم سے لکھتا ہوں۔
کان :اس کے کان بہت چھوٹے ہیں۔
اردو :اردو ہماری قومی زبان ہے۔
لگن :ہمیں ہر کام لگن سے کرنا چاہیے۔

سوال 8 : درج ذیل الفاظ کے متضاد لکھیے :

مصنوعی :اصل
تندرست :بیمار
محبت :نفرت
تریاقی :تنزلی
Advertisement

Advertisement
Advertisement

Advertisement