• نظم : نعت
  • شاعر : مولانا ظفر علی خان

تعارفِ نظم

یہ شعر ہماری درسی کتاب کی نظم ”نعت“ سے لیا گیا ہے۔ اس نظم کے شاعر کا نام مولانا ظفر علی خان ہے۔

تعارفِ شاعر

ظفر علی خان شاعر بھی تھے ، مدیر بھی اور آزادی کی جدوجہد میں حصہ لینے والے ایک سرگرم سیاسی کارکن بھی۔ مولانا ظفر علی خاں اس وقت کے مشہور روزنامے ’’ زمیندار‘‘ کے مدیر رہے ، مولانا کا سیاسی مسلک گاندھی جی کی عدم تشدد کی حکمت عملی سے بہت مختلف تھا ، وہ برطانوی حکمرانوں سے براہ راست ٹکراؤ میں یقین رکھتے تھے۔

دل جس سے زندہ ہے وہ تمنا تمہی تو ہو
ہم جس میں بس رہے ہیں وہ دنیا تمہی تو ہو

تشریح

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ میرا دل جس کی چاہت سے لبریز ہے وہ نبی ﷺ ہی ہیں۔ آپﷺ ہی ہمارا سہارا ہیں اور یہ دنیا جس میں ہم رہ رہے ہیں وہ اللہ نے آپ ہی کے لیے بنائی ہے۔ اور ہماری تو دنیا آپ ﷺ ہی ہیں۔

پھوٹا جو سینہ شب تار الست سے
اسی نورالعین کا اجالا تم ہی ہو

تشریح

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ نبی ﷺ کی ولادت سے پہلے تاریکی کا گہرا اندھیرا چاروں طرف پھیلا ہوا تھا۔ ہر طرف ظلم کی حکمرانی تھی۔ اس اندھیرے کی تاریکی کو روشنی بخشنے والے آپ ﷺ ہی ہیں۔ جنہوں نے اسلام کا نور چاروں طرف پھیلا دیا۔

سب کچھ تمہارے واسطے پیدا کیا گیا
سب غائیتوں کی غائیت اولی تمہی تو ہو

تشریح

اس شعر میں شاعر نے کہا ہے کہ دنیا کی تخلیق کا مقصد نبی ﷺ ہیں۔ اللہ ﷻ نے اس کائنات کی ہر شے نبی ﷺ کے لیے بنائی ہے۔ اگر وہ نہ ہوتے تو یہ جہاں بھی نہ ہوتا اور دنیا کے ہر نیک شخص سے زیادہ بہترین اور نیک حضرت محمدﷺ ہی ہیں۔ ان کا رتبہ باقی تمام انسانوں سے بہت زیادہ ہے۔

دنیا میں رحمتِ دو جہاں اور کون ہے
جس کی نہیں نظر وہ تنہا تم ہی ہو

تشریح

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ اللہ ﷻ نے جو مقام نبیﷺ کو عطا کیا ہے وہ کسی نبی کو نہیں حاصل ہے۔ آپ ﷺ تمام انبیـــاء کی صف کے امام ہیں۔ آپ ﷺ خاتم النبین ہیں، آپ یکتا ہیں۔ آپ جیسا انسان رب نے نہ بنایا ہے نہ قیامت تک بنائے گا۔ آپ بے نظیر ہیں۔ وہ آپﷺ ہی ہیں جن کی کوئی مثال نہیں ہے۔

گرتے ہوؤں کو تھام لیا جس کے ہاتھ نے
اے تاجدار یثرب و بطحا تمہی تو ہو

تشریح

اس شعر میں شاعر کہتا ہے نبی ﷺ کی ذات رحیم و کریم ہے۔ آپ ﷺ نہایت رحم دل تھے، آپ ہمیشہ ضرورت مند اور دکھی لوگوں کی مدد کرتے تھے۔ آپ نے کبھی کسی جائز کام سے انکار نہیں کیا۔ آپ ﷺ مکہ اور مدینہ کے تاجدار ہیں۔ دنیا کی سب رونق آپ سے ہی ہے۔ آپ ہی دو جہاں کے سردار ہیں۔

جلتے ہیں جبرائیل کے پر جس مقام پر
اس کی حقیقتوں کے شناسا تمہی تو ہو

تشریح

اس شعر میں شاعر نے معراج کے واقع کو تلمیخ کے طور استعمال کیا ہے ۔ عرش پر جب نبی ﷺاللہ سے ملاقات کے لیے گئے تو سدرہ کے مقام پر خضرت جبرائیل رک گئے، ان کو اس سے آگے جانے کی اجازت نہیں تھی ورنہ ان کے پر جل جاتے۔ مگر اللہ نے اپنے پیارے حبیب کو اس سے آگے کے رازوں سے بھی واقف کروایا ہے۔ وہ اللہ کے بعد اس دنیا کے ہر راز سے واقف ہیں۔ دراصل شاعر یہاں اس واقع کو استعمال کر کے آپﷺ کی شان بیان کررہے ہیں۔

سوالوں کے جوابات

سوال ۱: نعت اور منقبت کے باہمی فرق کو واضح کیجیے۔

جواب : وہ نظم جس میں رسول ﷺ کی تعریف کی جاتی ہے اس کو "نعت” کہتے ہیں۔ جب کہ وہ نظم جس میں صحابہ کرام یا بزرگان دین میں سے کسی کی تعریف کی جاتی ہے اس کو "منقبت” کہتے ہیں۔

سوال ۲ : مندرجہ ذیل کی وضاحت کیجیے۔

سینہ شب تار الست۔نبی ﷺ کی آمد سے پہلے تاریکی کا دور
نور اولین پہلی روشنی
غایت اولٰی بہترین مقصد
تاجدار یثرب و بطحاً مکہ و مدینہ کے تاجدار

سوال ۳ : مندرجہ ذیل اشعار کی تشریح کیجیے۔

دل جس سے زندہ ہے وہ تمنا تمہی تو ہو
ہم جس میں بس رہے ہیں وہ دنیا تمہی تو ہو

تشریح

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ میرا دل جس کی چاہت سے لبریز ہے وہ نبی ﷺ ہی ہیں۔ آپﷺ ہی ہمارا سہارا ہیں اور یہ دنیا جس میں ہم رہ رہے ہیں وہ اللہ نے آپ ہی کے لیے بنائی ہے۔ اور ہماری تو دنیا آپ ﷺ ہی ہیں۔

سب کچھ تمہارے واسطے پیدا کیا گیا
سب غائیتوں کی غائیت اولی تمہی تو ہو

تشریح

اس شعر میں شاعر نے کہا ہے کہ دنیا کی تخلیق کا مقصد نبی ﷺ ہیں۔ اللہ ﷻ نے اس کائنات کی ہر شے نبی ﷺ کے لیے بنائی ہے۔ اگر وہ نہ ہوتے تو یہ جہاں بھی نہ ہوتا اور دنیا کے ہر نیک شخص سے زیادہ بہترین اور نیک حضرت محمدﷺ ہی ہیں۔ ان کا رتبہ باقی تمام انسانوں سے بہت زیادہ ہے۔

جلتے ہیں جبرائیل کے پر جس مقام پر
اس کی حقیقتوں کے شناسا تمہی تو ہو

تشریح

اس شعر میں شاعر نے معراج کے واقع کو تلمیخ کے طور استعمال کیا ہے ۔ عرش پر جب نبی ﷺاللہ سے ملاقات کے لیے گئے تو سدرہ کے مقام پر خضرت جبرائیل رک گئے، ان کو اس سے آگے جانے کی اجازت نہیں تھی ورنہ ان کے پر جل جاتے۔ مگر اللہ نے اپنے پیارے حبیب کو اس سے آگے کے رازوں سے بھی واقف کروایا ہے۔ وہ اللہ کے بعد اس دنیا کے ہر راز سے واقف ہیں۔ دراصل شاعر یہاں اس واقع کو استعمال کر کے آپﷺ کی شان بیان کررہے ہیں۔

سوال ۴ : چال ، نور ، امیر ، مدینہ ، آواز۔
مندرجہ بالا الفاظ کے پانچ پانچ ہم قافیہ الفاظ لکھیے۔

  • چال : ڈھال، شال، کال، پال، مال
  • نور : حور، پور، بھور، صور، طور
  • امیر : کھیر، تیر، ویر، پیر، فقیر
  • مدینہ : مہینہ، سفینہ، فسینہ، شبینہ
  • آواز : باز، پیاز، ساز، کاز، ناز

سوال ۵ : مولانا ظفر علی خان کی اس نعت کا مفہوم اپنے الفاظ میں تحریر کیجیے۔

جواب : مولانا ظفر علی خان کی اس نعت کے ہر شعر میں نبی ﷺ سے عقیدت اور محبت کا اظہار ملتا ہے۔ اس نعت میں شاعر کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نور کی وہ روشنی ہیں، جس نے اپنے دور کی تاریکی کو دور کیا۔ آپﷺ رحیم و کریم ہیں، مشکل میں مدد کرنے والے ہیں۔ آپ ﷺ نے گرتے ہوؤں کو تھاما ہے۔ آپ ﷺ کو اللہ نے دونوں جہانوں رحمت العالمین بنا کر بھیجا ہے۔ آپ جیسا نبی نہ اس دنیا میں آیا ہے نہ قیامت تک آئے گا۔ یہ جہاں، یہ کون و مکاں آپﷺ کے لیے ہی ہیں، وہی اس دوجہاں کے تاجدار ہیں۔

سوال ٦ : مولانا ظفر علی خان اردو کے بڑے مقبول نعت گو شاعر مانے جاتے ہیں۔ آپ ان کی کسی اور نعت کے دو شعر لکھیے۔

شایاں ہے تجھ کو سرور کونین کا لقب
نازاں ہے تجھ پہ رحمت داریں کا خطاب
خیر البشر ہے تو، تو ہے خیر الامم وہ قوم
جس کو ہے تیری ذات گرامی سے انتساب