عزیز ساتھیو! اس زمانے میں دین کی طرف سے جتنی بے توجہی اور بے التفاتی کی جارہی ہے وہ محتاج بیان نہیں حتیٰ کہ اہم ترین عبادت نماز جو بالاتفاق سب کے نزدیک ایمان کے بعد تمام فرائض پر مقدم ہے اور قیامت میں سب سے اول اسی کا مطالبہ ہوگا۔

عام طور پر تین قسم کے نمازی پائے جاتے ہیں۔ ایک جماعت ان لوگوں کی ہے جو سرے سے نماز کی پرواہ ہی نہیں کرتے، دوسرے وہ جو نماز پڑھتے ہیں لیکن جماعت کا اہتمام نہیں کرتے، تیسرے جو نماز بھی پڑھتے ہیں اور جماعت کا اہتمام بھی کرتے ہیں لیکن لاپرواہی اور بے توجہی سے پڑھتے ہیں۔

دوستو! نماز اللہ کی بڑی رحمت ہے اس لیے مصیبت و آلام کے وقت میں انسان کا اس طرف متوجہ ہو جانا گویا اللہ کی رحمت کی جانب متوجہ ہو جانا ہے اور جب رحمتِ الٰہی مساعد و مددگار ہو تو پھر کیا مجال ہے کسی پریشانی کی کہ باقی رہے۔ اس لئے نماز میں خشوع و خضوع کو بڑی اہمیت حاصل ہے کیونکہ بغیر خشوع و خضوع کے نماز پڑھنے کی بہت وعیدیں ہیں۔ لیکن پھر بھی بہت سے لوگ ایسے ہیں جو باجماعت نماز کا اہتمام کرنے کے باوجود نماز کو لاپرواہی سے پڑھتے ہیں اس لیے وہ نماز بجائے اجروثواب کے ناقص ہونے کی بناء پر منہ پر مار دی جاتی ہے۔ اس کے بالمقابل اچھی طرح سے نماز پڑھنے والوں کے بارے میں ارشاد الٰہی ہے۔

وَاِنَّهَا لَكَبِيْرَةٌ اِلَّا عَلَى الْخَاشِعِيْنَ• اَلَّذِيْنَ يَظُنُّوْنَ اَنَّهُمْ مُّلَاقُوْا رَبِّهِمْ وَاَنَّهُمْ اِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ •

ترجمہ۔بے شک نماز دشوار ہے مگر جن کے دلوں میں خشوع ہےان پر کچھ دشوار نہیں یہ وہ لوگ ہیں جو خیال رکھتے ہیں کہ بلاشبہ وہ اپنے رب سے قیامت میں ملنے والے ہیں اور مرنے کے بعد اس کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔

خشوع وخضوع کا مطلب

خشوع کا مطلب یہ ہے کہ نماز اس طرح پڑھے گویا اللہ تعالی کو دیکھ رہا ہے۔ اگر یہ کیفیت حاصل نہ ہوسکے تو یہ خیال کرتے بھی نماز پڑھے کہ اللہ ہمیں دیکھ رہا ہے۔ عزیز ساتھیو جس طرح زندگی کو بہتر بنانے کے لیے کام اچھی طرح انجام دینا ضروری ہے ٹھیک اسی طرح نماز کو بہتر بنانے کے لئے خشوع کا ہونا نہایت ضروری ہے۔ اس لیے خشوع و خضوع کو اختیار کرنے والے لوگوں کے بارے میں ارشاد ربانی ہے:

قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ • اَلَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ•
ترجمہ: یقیناً وہ ایمان والے کامیاب ہوئے جو اپنی نماز میں خشوع کرنے والے ہیں۔

ہر وہ چیز جس سے نماز میں دل بٹے مکروہ ہے

ہر وہ چیز جس سے نمازی کا دل بٹتا ہو،خدائے پاک کی طرف سے دھیان ہٹ کر کسی مخلوق میں دل الجھتا ہو اسی طرح نمازی کے سامنے دیوار یا مصلے پر نقش و نگار ہونا بدن یا کپڑے سے کھیلنا ہر وہ چیز جس سے یہ لگے کہ وہ نماز نہیں پڑھ رہا ہے، مکروہ ہے۔ لہذا پوری طرح متوجہ ہو کر نماز پڑھنا اور نماز سے باہر خیال نہ جائے یہ خشوع ہے۔

دوستو! جس نماز سے آخرت کا ثواب لینا مقصود ہے، جسے بارگاہ خداوندی میں پیش کرکے جنت حاصل کرنا ہے پھر بھی اس کو انسان بے دھیانی سے پڑھے تو یہ بڑی نالائقی ہے۔ اس لیے کہ نماز ایسی نعمت اور دولت ہےکہ زندگی کا جو وقت نماز میں لگ گیا انمول ہوگیا اور زندگی کا یہ حصہ زندگی کہنے کے قابل ہو گیا اس نماز کو دل لگا کے پڑھنا چاہیے۔

منافق کی نماز

قرآن مجید میں منافقوں کا حال بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا۔
"وَإِذَا قَامُوا إِلَى الصَّلَاةِ قَامُوا كُسَالَىٰ”
ترجمہ۔جن نماز کیلئے کھڑے ہوتے ہیں تو سستی کی حالت میں کھڑے ہوتے ہیں۔
نماز پڑھتے وقت طبیعت پر بوجھ جسم پرسستی اور کاہلی سوار مومن کی شایان شان نہیں ہے۔ ایسی نماز منافقوں کی نماز کی نشانی ہے اس لئے نماز میں خشوع و خضوع اور سکون واطمینان رکھنا مومن کے لئے نہایت ضروری ہے۔

نماز میں جھومنا

حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالی ان کی اہلیہ فرماتی ہیں کہ میں دن میں نماز پڑھتے ہوئے ادھر ادھرجھکنے لگی یہ دیکھ کر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے اس زورسے ڈانٹا کہ ڈر کی وجہ سے قریب تھا کہ میں نماز توڑ دوں۔ پھر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا میں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جب کوئی شخص نماز کے لیے کھڑا ہو تو اپنے تمام بدن کو سکون سے رکھے۔ یہودیوں کی طرح ادھر ادھر کو نہ جھکے کیوں کی نماز میں اعضاء کو سکون سے رکھنا نماز کے پورا ہونے کا جزو ہے۔

دوستو! کامیاب ہیں وہ لوگ جو نماز کو خشوع و خضوع سے پڑھتے ہیں کیونکہ اللہ کی اہم ترین عبادت ان کے لیے دعا کرتی ہے۔ لیکن عام طور پر جو نماز پڑھی جاتی ہے وہ یہ ہےکہ رکوع کیا تو وہیں سےسجدے میں چلے گئے، سجدے سے سر اٹھانے بھی نہ پائے تھے کہ فوراً کوے کی سی ٹھونگ دوسری دفعہ ماردی، ایسے نمازی کیلئے نماز بد دعا کرتی ہے۔

روایات میں آتا ہےکہ جو شخص نماز کو بے وقت کرکے پڑھے اور وضو اچھی طرح نہ کرے اس میں پوری طرح دل لگا کر رکوع سجدہ پورا ادا نہ کرے تو نماز سیاہ صورت میں وہاں سے رخصت ہوتی ہے اور یہ بد دعا دیتی جاتی ہےکہ اللہ تجھے ضائع کرے جیسا کہ تو نے مجھے ضائع کیا۔ پھر وہ نماز پرانے کپڑوں میں لپیٹ کر نماز پڑھنے والے کے منہ پر مار دی جاتی ہے۔ *اعاذنااللہ من ذلک*

دوستو! مشاہدے سے یہ بات معلوم ہوتی ہےکہ آج کے ہم مسلمانوں کا یہی حال ہے یہی وجہ ہے کہ آج ہم مسلمان پستی میں ہیں کیونکہ آج ہماری نمازیں خشوع و خضوع سے خالی ہو چکی ہیں۔ اس لئے ضرورت اس بات کی ہےکہ ہم اپنی نمازوں میں خشوع وخضوع پیدا کریں کیونکہ جو نماز خشوع کے ساتھ پڑھی جاتی ہے آسمان کے دروازے اسکے لئے کھل جاتے ہیں وہ نہایت نورانی ہوتی ہے اور نمازی کیلئے اللہ تعالی شانہٗ کی بارگاہ میں سفارشی بن جاتی ہے۔ تو پھر کیوں نہ ہم اس طریقے سے نماز ادا کریں کہ وہ بارگاہ ایزدی میں روزِ قیامت ہمارے لئے سفارشی بن جائے۔ آخر میں اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ ہم تمام کو نماز کو خشوع و خضوع کے ساتھ پڑھنے والا بنائے۔آمین

Advertisements