نظم ننھی پجارن کی تشریح، سوالات و جوابات

0
  • کتاب” ابتدائی اردو” برائے پانچویں جماعت
  • سبق نمبر19: نظم
  • نظم کا نام: ننھی پجارن
  • شاعر کا نام: اسرار الحق مجاز

نظم ننھی پجارن کی تشریح

اک ننھی منی سی پجارن
پتلی بانہیں پتلی گردن

یہ شعر اسرار الحق مجاز کی نظم ننھی پجارن سے لیا گیا ہے۔ اس شعر میں شاعر ایک ننھی منی بچی کا ذکر کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ایک ننھی منی سی پجارن تھی جس کی پتلی پتلی سی بانہیں اور پتلی ہی گردن بھی تھی۔

بھور بھئے مندر آئی ہے
آئی نہیں ہے ماں لائی ہے

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ وہ ننھی پجارن یعنی بچی صبح سویرے پوجا کی غرض سے مندر میں آئی۔ اس کو دیکھ کر اندازہ ہو رہا تھا کہ وہ مندر میں بھی خود سے نہیں آئی بلکہ اس کی ماں اسے لائی ہے۔

وقت سے پہلے جاگ اٹھی ہے
نیند ابھی آنکھوں میں بھری ہے

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ آج مندر آنے کی خاطر وہ ننھی منی سی بچی وقت سے پہلے جاگی ہوئی محسوس ہو رہی ہے کیونکہ اس کی آنکھیں ابھی تک نیند کے احساس سے بوجھل ہیں۔

آنکھوں میں تاروں کی چمک ہے
مکھڑے پہ چاندی کی جھلک ہے

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ اس ننھی بچی کی انکھوں میں تاروں کی روشنی جیسی چمک بھری ہوئی ہے۔ جبکہ اس کا چہرہ ایسا روشن اور خوبصورت ہے کہ جیسے شفاف چاندی کی جھلک اس کے چہرے پہ موجود ہو۔

کیسی سندر ہے کیا کہیے
ننھی سی اک سیتا کہیے

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ یہ بچی اتنی خوبصورت ہے کہ اس کی خوبصورتی بیان سے باہر ہے۔ یوں کہیں کہ کوئی ننھی سی سیتا ہو جو عبادت کے لیے مندر میں موجود ہو۔

دھوپ چڑھے تارا چمکا ہے
پتھر پر اک پھول کھلا ہے

اس بند میں شاعر کہتا ہے کہ یہ بچی تاروں کی طرح چمکدار اور روشن ہے اس کو دیکھ کر لگتا ہے کہ دوھوپ میں کوئی تارا چمک اٹھا ہو۔ یا ایسا لگتا ہے کہ پتھر پہ کوئی پھول کھلا ہوا ہو۔

چاند کا ٹکڑا پھول کی ڈالی
کمسن سیدھی بھولی بھالی

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ یہ بچی جو ننھی پجارن کے روپ میں مندر میں موجود ہے یہ کوئی چاند کا ٹکڑا یا پھولوں کی ڈالی دکھائی دیتی ہے۔ یہ بچی معصوم ، کم عمر اور سیدھی سادی بھولی سی ہے۔

کان میں چاندی کی بالی ہے
ہاتھ میں پیتل کی تھالی ہے

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ یہ ننھی پجارن بچی ہاتھ میں پیتل کی تھالی جو کہ ایک طرح سے پوجا کی تھالی ہوتے ہے تھامے کھڑی ہوئی ہے جبکہ اس کے کان میں چاندی کی بالی چمک رہی ہے۔

دل میں لیکن دھیان نہیں ہے
پوجا کا کچھ گیان نہیں ہے

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ یہ بچہ اگرچہ آئی تو پوجا کے لیے ہے لیکن اس کا دل پوجا کی طرف متوجہ نہیں ہے۔ یعنی اس کا دل اور خیالات میں ہے اور اسے پوجا کے بارے میں کچھ خاص علم بھی نہیں ہے۔

کیسی بھولی اور سیدھی ہے
مندر کی چھت دیکھ رہی ہے

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ یہ سیدھی سادی معصوم بچی پوجا کی جانب متوجہ ہونے کی بجائے بہت سادگی سے بس مندر کی چھت کو تکے جا رہی ہے۔

ماں بڑھ کر چٹکی لیتی ہے
چپکے چپکے ہنس دیتی ہے

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ اس ننھی پجارن کی ماں نے جب اسے پوجا کی طرف متوجہ نہ پایا تو اس نے آگے بڑھ کر بچی کو چٹکی کاٹی یعنی پوجا کی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کی۔ لیکن اس ننھی پجارن نے ماں کی بات سننے کی بجائے چپکے سے ہنس دیا۔

ہنسنا رونا اس کا مذہب
اس کو پوجا سے کیا مطلب

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ وہ ایک معصوم بچی ہے جس کا ہنسنے رونے سے نہ تو کوئی واسطہ ہے اور نہ ہی کسی پوجا اور عبادت یا مذہب سے وابستگی ہے۔ اسے اس وقت پوجا سے کوئی مطلب نہیں ہے۔

خود تو آئی ہے مندر میں
من اس کا ہے گڑیا گھر میں

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ اس ننھی پجارن کا دل پوجا کی جانب متوجہ کیونکر ہو سکتا ہے وہ خود تو مندر آ گئی ہے مگر اپنادل وہ گڑیا گھر میں ہی بھول آئی ہے۔ کیونکہ اس بچی کی عمر کسی مذہب کو سمجھنے کی نہیں بلکہ گڑیا کے ساتھ کھیلنے کی ہے۔

سوچیے بتائیے اور لکھیے:

اس نظم میں ننھی پجارن کسے کہا گیا ہے؟

اس نظم میں اپنی ماں کے ساتھ پوجا کے لیے آئی چھوٹی بچی کو ننھی پجارن کہا گیا ہے۔

شاعر نے آنکھوں میں نیند بھری ہونے کی کیا وجہ بیان کی ہے؟

بچی وقت سے پہلے جاگ گئی ہے اس لیے اس کی آنکھوں میں نیند بھری ہوئی ہے۔

نظم میں سیتا اور چاند کا ٹکڑا کسے کہا گیا ہے؟

نظم میں ننھی پجارن کو سیتا اور چاند کا ٹکڑا کہا گیا ہے۔

شاعر نے ننھی پجارن کے بارے میں کیا کیا باتیں بتائی ہیں؟

شاعر نے بتایا کہ وہ ننھی پجارن وقت سے پہلے اٹھ کر آئی ہے اس لیے اس کی آنکھوں میں نیند ہے۔ جب کہ اس کا چہرا چاند اور تاروں کی چمک دمک لیے ہوئے ہے۔ وہ سیتا کا اوتار معلوم ہوتی ہے۔ اس کا دل پوجا کی جانب متوجہ نہیں ہے۔

’ماں بڑھ کر چٹکی لیتی ہے کا کیا مطلب ہے؟

ماں بڑھ کر چٹکی لیتی ہے کا مطلب ہے کہ ماں بچی کو پوجا کی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کرتی ہے۔

ننھی پجارن کامن کہاں ہے؟

ننھی پجارن کا من گڑیا گھر میں لگا ہوا ہے۔

نیچے دیے ہوئے مصرعوں کو مکمل کیجیے۔

  • آنکھوں میں تاروں کی چمک ہے
  • ننھی سی اک سیتا کہیے
  • چاند کا ٹکڑا پھول کی ڈالی
  • پوجا کا کچھ گیان نہیں ہے
  • ماں بڑھ کر چٹکی لیتی ہے
  • اس کو پوجا سے کیا مطلب

نیچے دیے ہوئے لفظوں کی جمع خانوں کے مطابق لکھیے۔

گڑیا گڑیوں
تھالی تھالیوں
ڈالی ڈالیوں
آنکھ آنکھوں
بالی بالیوں
مکھڑا مکھڑے

نیچے دیے ہوئے لفظوں کو جملوں میں استعمال کیجیے اور خالی جگہوں میں لکھیے۔

دھیان سڑک پار کرتے وقت ٹریفک قوانین کا دھیان رکھنا ضروری ہے۔
تھالی ننھی پجارن نے تھالی میں دیے سجائے۔
گیان کیا آپ تمام مذاہب کا گہان رکھتے ہیں؟
مذہب مذہب اسلام مساوات کا درس دیتا ہے۔
نیند اچھی صحت کے لیے کم سے کم سات گھنٹے کی نیند لینا ضروری ہے۔

نیچے دیے ہوئے لفظوں کے آگے ان کے متضاد لکھیے۔

پتلی موٹی
ہنسنا رونا
پھول کانٹا
کم زیادہ
سیدھی الٹی
دھوپ چھاؤں

نیچے دیے ہوئے غلط املا میں لکھے ہوئے لفظوں کو درست کیجئے۔

مذحب مذہب
وکت وقت
متلب مطلب
غیان گیان
کھود خود
پزارن پجارن

ننھی پجارن کے بارے میں پانچ جملے لکھیے۔

  • ننھی پجارن ایک بچی ہے۔
  • ننھی پجارن معصومیت ، سادگی اور بھول پن لیے ہوئے ہے۔
  • ننھی پجارن کا چہرہ چاند اور تاروں کی چمک دمک لیے ہوئے ہے۔
  • ننھی پجارن کو پوجا کا کچھ گیان نہیں ہے۔
  • ننھی پجارن کا من گڑیا گھر میں اٹکا ہوا ہے۔

بلند آواز سے پڑھیے اور خوش خط لکھیے۔

مطلب ، دھیان ، بھوربھئے ، تھالی ، جھلک۔