Advertisement

کتاب”نوائے اردو”برائے نویں جماعت۔

Advertisement

تعارف مصنف:

صالحہ عابد حسین کا اصلی نام مصداق فاطمہ تھا۔ ودخواجہ غلام انتقلین کی صاحبزادی اور ڈاکٹر سید عابدحسین عابدحسین کی بیوی تھیں۔ وہ خواجہ الطاف حسین حالی کے خاندان میں پانی پت میں پیدا ہوئیں۔ لکھنے پڑھنے کا شوق انھیں بچپن ہی سے تھا مشہور مصنف فلسفی اور ماہرتعلیم ڈاکٹر عابدحسین سے شادی کے بعدان کے تصنیف و تالیف کے شوق میں مزید اضافہ ہوا۔ لیکن ان کی بنیادی حیثیت ناول نویس اور افسانہ نگار کی ہے۔

Advertisement

صالحہ عابد حسین اپنے قلم کے ذریعے تحریک آزادی میں شریک رہیں۔ انھوں نے اپنے ناولوں ،افسانوں اور ڈراموں کے ذریعے انسانی اور تہذیبی قدروں کو عام کیا اور عورتوں کے مسائل اور سماجی خرابیوں کی اصلاح کی طرف توجہ دلائی۔ حکومت ہند نے ان کو پدم شری کا اعزاز عطا کیا۔ کئی صوبائی اکادمیوں نے بھی انھیں انعام دیے ۔ ان کے ناولوں میں عذرا ، آتش خاموش، قطرے سے گہر ہونے تک، یادوں کے چراغ ، اور” اپنی اپنی صلیب”خاص طور پر قابل ذکر ہیں ۔افسانوں کے چار مجموعے بھی شائع ہوئے۔

افسانہ مگر وہ ٹوٹ گئی کا خلاصہ

مگر وہ ٹوٹ گئی صالحہ عابد حسین کا افسانہ ہے۔ جس میں انھوں نے مسلم معاشرے اور ہندوستانی سماج کے ایک اہم مسئلہ کو کہانی کا موضوع بنایا ہے۔ مصنفہ نے کہانی میں ایسی عورت کے کرادر کو پیش کیا ہے جس نے اپنی شادی سے قبل ہی کئی شادیوں کی ناکامی اور ان کے انجام کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھا تھا۔جس کی وجہ سے وہ شادی اور اس کے انجام سے خوفزدہ تھی۔

Advertisement

اس نے جن شادیوں کی ناکامی دیکھی تھی ان کی شادیوں میں ناکامی کی وجہ یہ تھی کہ بھابھی کا مزاج، باجی کی خود داری اور آن بان ان کے شوہر سے مقابلے،جبکہ منورما حد سے زیادہ حساس اور بے زبان تھی جو اس کی خود کشی کی نوبت بنی۔ دوسری جانب مصنفہ کا ماننا تھا کہ شادی شدہ زندگی کو کامیاب اور مسرور بنانا عورت کی ذمہ داری ہے جبکہ اس کو نباہنے کی ذمہ داری بھی مرد سے زیادہ عورت پر ہی آتی ہے۔ یہی وجہ تھی کہ مذکورہ عورتوں کے نباہا نہ کرنے کے سبب یی شادیاں ناکام ٹھہری۔

Advertisement

اس کے ذہن میں بے شمار سوال کلبلاتے ہیں۔ شادی یا بربادی۔ یہ ناکام زندگیاں۔ یہ جدائیاں۔ یہ طلاقیں؟ اسے اس میں مردوں سے زیادہ عورتیں قصور وار نظر آتی ہیں اور وہ ایک عزم کرتی ہے کہ وہ اپنی شادی کو ناکام نہیں ہونے دے گی وہ کسی نہ کسی طرح ضرور نباہ کے گی۔ اس نباہ کے لئے اس نے وہ سہا جس کا عتراف وہ خود اپنی ذات سے بھی نہیں کرنا چاہتی تھی ۔ وہ مجسم خدمت گزار بن گی۔اس کا شوہر پڑھا لکھا ہونے کے باوجود اس کے گھر میں بیٹی کی پیدائش پر ناراض ہو جاتا اور سارا الزام بھی اسی کے سر آتا تھا۔

لیکن صرف بیٹے کے پیدا ہونے پر شوہر کی چند دن کی توجہ پا سکی اس کے بعد پھر وہی بے رخی حاکمیت کا اندازاس کا مقدد بنی۔ اس نے اپنی شادی کو نباہنے اور کامیاب بنانے کی ہر ممکن کوشش کی کہ اس کے مطابق عورت چاہے تو کسی بھی صورت نباہا کر سکتی ہے۔وہ اپنی شادی شدہ زندگی کو مسرور بنانے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتی ہے۔وہ اپنے خاندان کی عزت اور بچوں کی خاطر نباہنے کی بھرپور کوشش کر رہی ہے۔

Advertisement

وہ اپنی شادی کا انجام بہن بھابھی یا دوست کی طرح نہیں دیکھنا چاہتی تھی۔ اچانک اسے محسوس ہوا جیسے اس کا شوہر اس سے کہیں دور چلا گیا۔ کوئی دوسری لڑکی اس کے شوہر کی زندگی میں آ گئی ہے اس نے لاکھ حالات کو سنبھا لنا چاہا مگر بات بنی نہیں اور ایک دن شوہر کا بھیجا ہو الفافہ اس کے ہاتھ میں تھا۔ اس نے لرزتے ہاتھوں سے کھولا۔ جس میں طلاق نامہ موجود تھا جسے وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھ رہی تھی۔وہ دیوار کو تکے جارہی تھی اور ایک جملہ بڑبڑاتی جاتی تھی۔ مگر وہ ٹوٹ گئی، ٹوٹ گئی۔

سوالوں کے جواب لکھیے:

سوال نمبر01:مصنفہ نے بھابی، باجی اور منوراما کی شادیوں کی ناکامی کے کیا اسباب بتائے ہیں؟

ان کی شادیوں میں ناکامی کی وجہ یہ تھی کہ بھابھی کا مزاج، باجی کی خود داری اور آن بان ان کے شوہر سے مقابلے،جبکہ منورما حد سے زیادہ حساس اور بے زبان تھی جو اس کی خود کشی کی نوبت بنی۔ دوسری جانب مصنفہ کا ماننا تھا کہ شادی شدہ زندگی کو کامیاب اور مسرور بنانا عورت کی ذمہ داری ہے جبکہ اس کو نباہنے کی ذمہ داری بھی مرد سے زیادہ عورت پر ہی آتی ہے۔ یہی وجہ تھی کہ مذکورہ عورتوں کے نباہا نہ کرنے کے سبب یی شادیاں ناکام ٹھہری۔

Advertisement

سوال نمبر02:افسانے کی ہیروئن کوپورا خاندان خوش قسمت کیوں سمجھتا تھا؟

افسانے کی ہیروئن کو پورا خاندان اس لیے خوش قسمت تصور کرتا تھا کہ وہ اپنی شادی شدہ زندگی میں نباہ کی خاطر سب کچھ چپ چاپ سہے جارہی تھی۔ جبکہ اس کے خاندان والے یہ سمجھتے تھے کہ اس کا شوہر اسے بے حد چاہتا ہے اور اسے آنکھوں سے اوجھل نہیں ہونے دیتا۔وہ ہزاروں میں کھیلتی ہے اس کی ہر ضرورت و خواہش پوری ہوتی ہے۔اسے ہر عیش و آرام میسر ہے۔

سوال نمبر03:افسانے کی ہیروئن ہر طرح کے حالات سے نباہ کر کے کیا ثابت کرنا چاہتی تھی؟

افسانے کی ہیروئن ہر طرح کے حالات سے نباہ کرکے یہ ثابت کرنا چاہتی ہے کہ عورت چاہے تو کسی بھی صورت نباہا کر سکتی ہے۔وہ اپنی شادی شدہ زندگی کو مسرور بنانے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتی ہے۔وہ اپنے خاندان کی عزت اور بچوں کی خاطر نباہنے کی بھرپور کوشش کر رہی ہے۔ وہ اپنی شادی کا انجام بہن بھابھی یا دوست کی طرح نہیں دیکھنا چاہتی تھی۔اس لیے بھی وہ اس کو کامیاب بنانے کی ہر ممکن کوشش کررہی تھی۔

Advertisement

سوال نمبر04:اس افسانے کا ہیرو تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود لڑکیوں کے پیدا ہونے پر بیوی سے ناراض کیوں تھا؟

افسانے کا ہیرو تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود لڑکیوں کے پیدا ہونے پر بیوی سے ناراض تھا کہ اس کے خیال میں تو جیسے کہ یہ عورت کے اختیار میں ہے کہ اس کے گھر بیٹی ہو گی یا بیٹا۔بنیادی طور پر اس کا شوہر ایک چھوٹی اور گھٹیا سوچ کا مالک تھا۔

عملی کام:

مندرجہ ذیل محاوروں کو جملوں میں استعمال کیجیے:

پھٹی پھٹی آنکھوں سے تکنا اس کی بدلی حالت دیکھ کر سب اسے پھٹی پھٹی آنکھوں سے تک رہے تھے۔
خاک میں ملناامتحان میں فیل ہونے کے بعد اس کا سارا غرور خاک میں مل گیا۔
آنکھ سے اوجھل ہوناماں کے آنکھ سے اوجھل ہوتے ہی بچہ بے چین ہونے لگا۔
ہزاروں میں کھیلنابہترین نوکری مل جانے کے بعد نائلہ ہزاروں میں کھیل رہی ہے۔

افسانے میں ایک جگہ ‘مزاج شناس’ لفظ استعمال ہوا ہے،جس میں شناس لاحقہ ہے۔آپ اس لاحقے کا استعمال کر کے تین لفظ لکھیے:

فرض شناس ، درد شناس ،روح شناس ،قسمت شناس۔

Advertisement

اس افسانے میں استعمال ہونے والے پانچ انگریزی الفاظ لکھیے۔

لیمپ ، ڈبل بیڈ ، بیڈ روم ،نائٹ گاؤن، ایم اے، ہسٹریا وغیرہ۔

Advertisement
Advertisement

Advertisement