Advertisement

کتاب”نوائے اردو”برائے نویں جماعت
سبق نمبر09: ڈراما
مصنف کا نام: شوکت تھانوی
سبق کا نام: خدا حافظ

تعارف صنف:

ڈراما یونانی زبان کا لفظ ہے۔اس سے مراد ہے کر کے دکھانا۔ اس میں کرداروں ، مکالموں اورمناظر کے ذریعے کسی کہانی کو پیش کیا جا تا ہے۔ قدیم ہندوستان میں بھی اس کی روایت موجود ہے اور اس کو ناٹیہ کہا جاتا ہے۔

Advertisement

ارسطو نے ڈراما کو زندگی کی نمائندگی کہا ہے۔ داستان ، ناول اور افسانے کے مقابلے کے مقابلے میں ڈراما اس لحاظ سے حقیقت سے قریب تر ہوتا ہے کہ اس میں الفاظ کے ساتھ ساتھ کردار، ان کی بول چال اور زندگی کے مناظر بھی دیکھنے والوں کے سامنے آتے ہیں۔ کرداروں کی ذہنی اور جذباتی کشمکش کو مکالمے اور آواز کے اتار چڑھاؤ کے ذریعے پیش کیا جا تا ہے۔

Advertisement

ڈراما بنیادی طور پر اسٹیج کی چیز ہے ،لیکن ایسے بھی ڈرامے لکھے گئے ہیں اور لکھے جاتے ہیں جوصرف سنانے اور پڑھنے کے لیے ہوتے ہیں۔ ریڈیو کی وجہ سے ڈراموں کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے اور ٹیلی ویژن پر جس طرح کے پروگرام سب سے زیادہ پیش کیے جاتے ہیں ، ان کا تعلق بھی کسی نہ کسی طرح ڈرامے ہی کی صنف سے ہے۔

Advertisement

ارسطو نے ڈرامے کے اجزائے ترکیبی میں چھے چیزوں کو ضروری قرار دیا ہے ۔قصہ ، کردار، مکالمہ،مرکزی خیال ،سجاوٹ اور سنگیت لیکن ضروری نہیں کہ ہر ڈرامے میں سنگیت یا موسیقی کا عنصر ہو۔ پلاٹ ، کردار، مکالموں اور مرکزی خیال کا ہونا البتہ ضروری ہے۔

ڈرامے کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ اس میں واقعات کی کڑیاں اس طرح ملائی جائیں کہ بتدریج نقطۂ عروج تک پہنچ سکیں اور ناظرین کی توجہ ایک نکتے یا خیال پر مرکوز ہو جاۓ ۔اس کے بعد ڈراما انجام کی طرف بڑھتا ہے۔واقعات سے جو نتیجہ برآمد ہوتا ہے، وہ انجام کے ذریعے پیش کر دیا جا تا ہے ۔حق و باطل اور خیر وشر کی کش مکش، بنیادی انسانی اقدار اور ساجی ، قومی اور سیاسی مسائل کو ڈراموں میں پیش کیا جا تا ہے۔

Advertisement

تعارف مصنف:

شوکت تھانوی کا اصل نام محمد عمر تھا ، وہ اردو کے مشہور مزاح نگار تھے۔ مزاحیہ تحریروں اور ناولوں کے علاوہ انھوں نے ریڈیو کے لیے ڈرامے بھی لکھے ہیں۔ ان کے قلم میں بلا کی روانی تھی۔ روز مرہ کی باتوں اور آۓ دن پیش آنے والے واقعات کو اس مزے سے بیان کرتے اور ان میں ایسے ایسے دلچسپ نکتے پیدا کر دیتے تھے کہ پڑھنے والا بے اختیار ہنس پڑتا۔

وہ الفاظ کے استعمال شوخی اور ظرافت کے ساتھ اس کا بھی خیال رکھتے تھے کہ تحریر میں تہذیب سے گری ہوئی بات یا فقرہ نہ آنے پاۓ ۔ ان کی جودت ذہن معمولی باتوں کوبھی دلچسپ بنادیتی تھی۔ سودیشی ریل، موج تبسم، طوفان تبسم، شیش محل، جوڑ توڑ‘ ‘ کارٹون اور قاضی جی وغیرہ ان کی مشہور کتابیں شوکت تھانوی نے شاعری بھی کی ہے لیکن وہ مزاحیہ شاعری نہیں بلکہ سنجیدہ غزل کی شاعری ہے۔!

Advertisement

ڈراما خدا حافظ کا خلاصہ

شوکت تھانوی کا ڈراما “خدا حافظ” ایک مزاح کے انداز میں لکھا گیا ڈراما ہے۔ جس میں مصنف نے لکھنو کے زوال آمادہ معاشرے کی کچھ جھلکیاں اور کچھ توہمات کو مزاح کے انداز میں بیان کیا ہے۔ ڈرامے کی کہانی میر صاحب کے کرادر کے گرد گھومتی ہے۔ جنہیں اپنے جائداد کے مقدمے کی خاطر شہر سے چالیس کوس دور کا سفر بذریعہ ریل گاڑی کرنا ہے۔

میر صاحب کا زندگی میں ریل کے سفر کا پہلا تجربہ تھا۔اس لیے وہ ریل کے سفر سے گھبرا رہے تھے۔ وہ اپنے ساتھ اپنے دوستوں کو بھی لے جانا چاہتے ہیں۔ چنانچہ مرز اصاحب اور بعد ازاں شیخ صاحب کو بھی اس سفر کے لئے راضی کر لیتے ہیں۔ امام ضامن آتے ہیں بڑے زور شور سے سفر کی تیاریاں ہوتی ہیں وہ اپنے ساتھ دنیا جہان کا سامان لے جا رہے ہیں۔

Advertisement

جبکہ اس سفر میں محض ایک رات کا قیام ہے۔ لحاف، گدے، تکیے، چادر تو شک اس کے علا وہ ابٹن دانی، صابن دانی منجن دانی تو لیے پتیلی گلاس تھالیاں ،کوئلوں کا تھیلا،انگھیٹی وغیرہ رکھنے کا بھی حکم دیتے ہیں اور یوں ہی میر صاحب کی بد حواسیاں چلتی رہتی ہیں بیگم سے رخصت ہونے گھر میں جاتے ہیں جہاں ڈھیر سارے امام ضامن ان کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں۔

امام ضامن بندھواتے اور سفر پر جانے سے قبل ابھے شگون کے لیے دہی چھکتے ہیں۔ ادھر دوست جلدی کرنے کو کہہ رہے ہیں اور زنانے میں رسمیں جاری ہیں۔ اس کے بعد اندر سے فرمائش آتی ہے کہ طوطے سے بھی ملتے جائیں۔

Advertisement

میر صاحب طوطے کو بھی ساتھ لے جانے کا حکم صادر کرتے ہیں۔ جانے سے قبل ان کے ملازم دولت کو چھینک آجاتی ہے۔جسے وہ بد شگونی مانتے ہیں۔ جاتے جاتے رک جاتے ہیں۔ بیٹھ کر پان کھانے کو کہتے ہیں۔ پھر چلنے لگتے ہیں کہ بلی راستہ کاٹ جاتی ہے۔ بس پھر کہاں کا سفر کیا مقدمہ۔ ادھر میر صاحب کا ارادہ ڈانواڈول ادھر بیگم کا فرمان تھا اس بد شگونی کے بعد سفر ہر گز نہ کرنے دوں گی مقدمہ جائے بھاڑ میں اور ان بد حواسیوں میں میر صاحب کا سفر ٹل جا تا ہے۔

سوالوں کے جواب لکھیے:

میر صاحب سفر سے پہلے کیوں گھبرارہے تھے؟

میر صاحب کا زندگی میں ریل کے سفر کا پہلا تجربہ تھا۔اس لیے وہ ریل کے سفر سے گھبرا رہے تھے۔

Advertisement

وہ اپنے ساتھ سفر میں کیا کیا سامان لے جار ہے تھے؟

میر صاحب بستر، تکیے، توشک، چادر، پلنگ پوش، لحاف، مچھر دانی، قالین، کپڑوں کے دو بکس ،لوٹے، طشت، بٹن دانی،صابن دانی، منجن دانی، تولیے، چائے کے لیے پتیلی، گلاس، تھالیاں، کوئلے کا تھیلا،انگھیٹی چائے کے سب برتن، ناشتہ، بیٹر میں کا کابک، طو طے کا پنجرا،شطرنج، تاش کی گڈی اور چوسر وغیرہ یہ سب سامان سفر میں ساتھ لے کر جا رہے تھے۔

میر صاحب نے اپنا سفر کیوں ملتوی کر دیا ؟

میر صاحب نے نو کر کو چھینک آنے اور بلی کے راستہ کاٹنے کو بد شگونی جانتے ہوئے سفر کا ارادہ ملتوی کر دیا۔

Advertisement

میر صاحب کا کردار آپ کو کیسالگا؟مختصراً بیان کیجیے۔

میر صاحب کا کردار قدیم لکھنؤی تہذیب کا عکاس نظر آتا ہے۔ان کے کرادر میں لکھنؤ کے زوال آمادہ تہذیب اور معاشرتی زندگی کی جھلک موجود ہے۔ میر صاحب کا کردار وہمی ہونے کے ساتھ مزاح کا پہلو لیے ہوئے بھی ہے اس لیے یہ کردار بہت دلچسپ ہے۔

عملی کام:-

نیچے لکھے ہوئے محاوروں کو جملوں میں استعمال کیجیے:

سر کے بال سفید کرنابزرگوں کے سر کے بال سفید ہونا ان کے تجربہ کاری کو ظاہر کرتا ہے۔
کھٹائی میں پڑنابد شگونی کے باعث میر صاحب کےسفر کا معاملہ کھٹائی میں پڑ گیا۔
ہوا کے گھوڑے پر سوار ہوناعلی کی برق رفتاری سے یوں گمان ہوتا ہے گویا وہ ہر وقت ہوا کے گھوڑے پر سوار ہو۔
الٹے پیروں واپس آناگھر سے نکلتے ہی احمد الٹے پیروں لوٹ آیا۔
ہاتھ پیر پھولناسفر کی جلدی میں اس کے ہاتھ پیر پھولنے لگے
ڈٹے رہنا ہمیں آخری وقت تک مقابلے کے لیے ڈٹے رہنا چاہیے۔
ہوا سے باتیں کرناریل گاڑی کا تیز رفتار سفر یوں ہے گویا آپ ہوا سے باتیں کر رہے ہوں۔
کلیجہ ہاتھوں اچھلنا خوفناک جھولے کی سواری سے میرا کلیجہ ہاتھوں اچھلنے لگا۔

نیچے لکھے ہوئے الفاظ کن موقعوں پر استعمال ہوتے ہیں:

الا اللہ یہ لفظ کسی کام کے ارادے کے وقت بولا جاتا ہے۔ بسم اللہ یہ لفظ کام کے آغاز کے وقت بولا جاتا ہے۔
نصیب دشمناں ایسا دشمنوں یا ُبرا چاہنے والوں کو نصیب ہو ، جب کسی دوست یاقابل احترام شخصیت کی مزاج ُپرسی یا عیادت کرتے ہیں تو یہ کلمہ اس شخصیت کے نام کے بجائے کہتے ہیں ۔

Advertisement

اس ڈرامے میں کچھ تابع مہمل الفاظ استعمال ہوۓ ہیں۔

تابع مہمل وہ بے معنی لفظ ہوتے ہیں جو بامعنی الفاظ کے ساتھ بطور تاکید یا ربط بولے جائیں ۔ جیسے بانس کے ساتھ وانس یہاں وانس، مہمل ہے

آپ اس طرح کے کچھ الفاظ سوچ کر لکھیے۔

کوڑا کرکٹ، روٹی شوٹی، پانی وانی ،کھانا وانا، کھیلنا ویلنا، ہلنا جلنا، کام شام وغیرہ۔

Advertisement
Advertisement