Advertisement

کتاب”گلزارِ اردو”برائے نویں جماعت۔

تعارف مصنف:

اختر الایمان ، نجیب آباد ضلع بجنور میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد کچھ مدت تک وہ دلی کالج میں زیر تعلیم رہے اور دہلی یونیورسٹی سے بی ۔اے۔کیا۔ شروع میں محکمہ سول سپلائی میں کام کیا ، کچھ مدت تک آل انڈیا ریڈیو میں رہے ، اس کے بعد مبئی جا کر فلموں سے وابستہ ہو گئے۔

Advertisement

ان کی نظموں کے چھے مجموعے گرداب (1943) ، تار یک سیارہ (1946)، ایک منظوم تمثیل سب رنگ (1948)’ آپ جو ( 1959)، یاد میں (1961)، بنت لمحات ( 1969) ‘ نیا آہنگ (1977) شائع ہو چکے ہیں ۔ان کا کلیات سروساماں 1984 میں منظر عام پر آیا۔ ان کی خودنوشت کا نام "اس آباد خرابے میں” ہے۔ چوتھے مجموعے ”یاد میں“ پر 1962 میں انھیں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ دیا گیا۔ اقبال اعزاز کے علاوہ متعدد صوبائی اکادمیوں نے بھی انہیں اعزازات اور انعامات سے نوازا۔

اختر الایمان کی نظموں میں ایک فلسفیانہ قسم کی کیفیت ملتی ہے۔ نظم نگاری میں انھوں نے اپنی راہ الگ بنائی ہے۔ نیکی اور بدی کی کش مکش ، وقت کی اہمیت ، خواب اور حقیقت کا تصادم اور انسانی رشتوں کی دھوپ چھاؤں ان کے پسندیدہ موضوعات ہیں ۔ وہ براہ راست انداز کے بجاۓ رمز یہ انداز کے شاعر ہیں ۔ ان کے یہاں خودکلامی اور مکالمے کی کیفیت ملتی ہے۔ اختر الایمان اردو نظم کے ممتاز شاعر تسلیم کیے جاتےہیں۔

Advertisement

نظم اعتماد کی تشریح:

بولی خود سر ہوا ایک ذرہ ہے تو
یوں اڑا دوں گی میں، موج دریا بڑھی
بولی میرے لیے ایک تنکا ہے تو
یوں بہا دوں گی میں، آتش تند کی
اک لپٹ نے کہا میں جلا ڈالوں گی
اور زمیں نے کہا میں نگل جاؤں گی
میں نے چہرے سے اپنے الٹ دی نقاب
اور ہنس کر کہا، میں سلیمان ہوں
ابن آدم ہوں میں یعنی انسان ہوں

درج بالا اشعار "اختر الایمان"کی نظم سے لیے گئے ہیں۔شاعر نے نظم کے ذریعے انسان کی عظمت و سربلندی کو بیان کیا ہے۔شاعر کہتا ہے کہ کائنات کی خود سر ہوا نے ریت کے ذرے جیسے تنکے سے کہا کہ وہ اسے اڑا دےگی۔ایسے میں دریا کے پانی کی موج نے آگے بڑھ کر کہا کہ وہ ذرا اس کے لیے کسی تنکے سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا ہے وہ اسے آن کی آن میں بہا دے گی۔تو آتش یعنی آگ نے بھی آگے بڑھ کر اس تنکے کو للکار کر کہا کہ وہ اسے جلا کر راکھ کر دے گی۔جبکہ زمین یہ کہنے لگی کہ وہ اسے نگل جائے گی۔مگر اس تنکے نے جب اپنے چہرے کا سلیمانی نقاب الٹا تو وہ ہنس کر یہ کہنے لگا کہ تم سب میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ہو کیوں کہ میں ابن آدم یعنی انسان ہوں۔انسان اس سر زمین کی سب مخلوقات سے افضل ہے خواہ وہ کتنی ہی طاقت ور کیوں نہ ہوں اور انسان اپنے علم کے ذریعے ہر چیز خواہ وہ پانی ہو یا ہوا اور یہ زمین سب کو تسخیرِ کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔

سوالوں کے جواب لکھیے:

سوال نمبر01: خودسر ہوا نے ذرے سے کیا کہا؟

خود سر ہوا نے ذرے سے کہا کہ تم میرے لیے ایک ننھے ذرے ہو میں تمھیں اپنے زور سے اڑا دوں گی۔

سوال نمبر02: وہ کون سی طاقتیں ہیں جو اس نظم میں انسان کو ڈرانے کی کوشش کر رہی ہیں؟

اس نظم میں ہوا،موج دریا،آتش اور زمین ایسی طاقتیں ہیں جو انسان کو ڈرانے کی کو شش کر رہی ہیں۔

Advertisement

سوال نمبر03:نظم کے ساتویں میں مصرعے میں میں کس کی ضمیر کے لیے استعمال ہوئی ہے؟

نظم کے ساتویں مصرعے میں ‘میں ‘ کی ضمیر ابن آدم یعنی انسان کے لیے استعمال ہوئی ہے۔

سوال نمبر04:شاعر نے انسان کی اہمیت کا احساس کس طرح دلا یا ہے؟

شاعر نے انسان کی اہمیت کا احساس اس طرح دلایا ہے کہ انسان اس سر زمین کی سب مخلوقات سے افضل ہے خواہ وہ کتنی ہی طاقت ور کیوں نہ ہوں اور انسان اپنے علم کے ذریعے ہر چیز خواہ وہ پانی ہو یا ہوا اور یہ زمین سب کو تسخیرِ کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔

Advertisement

Advertisement

Advertisement