Back to: Class 11 Urdu Notes KPK Board | Chapterwise Notes
- سبق نمبر ۲۸
- سبق (نام): اخلاص
- شاعر: عبدالرحمٰن باباؒ، مترجم: طہٰ خان
- ماخوذ : دیوان عبدالرحمٰن باباؒ
تعارف شاعر:
سترھویں صدی پشتو زبان و ادب کا دورِ زریں تھا، اس عرصے میں پشتو زبان و ادب کے بے شمار مستند اور معتبر شاعر و ادیب گزرے ہیں۔جن میں خوشحال خان خٹک، عبدالمجید مومند، عبدالقادر خٹک، اشرف خان ہجری اور معزاللہ مومند کے ساتھ ساتھ عبدالرحمٰن باباؒ قابل ذکر ہیں۔
عبدالرحمٰن باباؒ ۱۶۵۳ کو پیدا ہوئے، انھوں نے ساری زندگی اپنے آبائی گاؤں(بہادر کلے) ہزار خوانی پشاور میں گزاری۔ ان کی شاعری پر فطرت اور حقیقت کا رنگ غالب ہے۔ایسا لگتا ہے کہ وہ ہر دور اور ہر زمانے کے شاعر ہیں۔ ان کے اشعار میں ماضی کی تاریخ، حال کا تذکرہ اور مستقبل کا پیغام جھلکتا ہے۔ ان کا دیوان اگرچہ مختصر ہے لیکن علم و ادب کے لحاظ سے جامع اور مکمل ہے۔ پختون فطرت کی ترجمانی جس طرح عبدالرحمٰن باباؒ نے کی ہے کسی اور شاعر نے نہیں کی۔ اسی لیے جو مقبولیت ان کو حاصل ہے، کسی دوسرے شاعر کو نصیب نہیں ہوئی۔
ان کے اشعار نہ صرف عشق حقیقی اور تصوف کے آئینہ دار ہیں، بلکہ ابدی زندگی میں کامیابی کے لیے پند نامہ بھی ہیں۔ قرآن و احادیث کی تشریح و توضیح ان کی شاعری کا خاصہ ہے۔ ان کی شاعرانہ عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان کے دیوان کے تراجم دنیا کے مختلف زبانوں میں ہو چکے ہیں اور لوگ ان کی تعلیمات سے مستفید ہورہے ہیں۔ ان کی شاعری کی موضوعات محنت کی عظمت، رزق حلال، اسلامی أصول، علم کی اہمیت و افادیت اور دنیا کی بے ثباتی جیسے حقائق پر مبنی ہیں۔
آپ کا مجموعۂ کلام دیوان عبدالرحمٰن باباؒ کے نام سے شائع ہوا، آپ کی وفات ۱۷۱۱ میں ہوئی۔
نظم اخلاص کی تشریح
| ہم دوش ثریا ہے مقام اخلاص جو ملتا ہے، ملتا ہے غلام اخلاص |
تشریح: نظم ”اخلاص“ کے اس شعر میں شاعر عبدالرحمٰن بابا نے بتایا ہے کہ اخلاص ایک بہت بلند مرتبہ جذبہ ہے، یہ انسان کا درجہ اوج ثریا کے مماثل کر لیتا ہے۔ اخلاص سے انسان کو برتری اور عزت عطا ہوتی ہے ، اس کی عزت و توقیر ہر خاص و عام کی نظر میں بڑھ جاتی ہے۔ مخلص انسان دل کا صاف ہوتا ہے اور اس کے معاملات بھی نیک نیتی پر مبنی ہوتے ہیں اس لیے ہر شخص اسے قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
| گو فرش سے تا عرش سفر ہے دشوار طے کرتی ہے بہ یک جنبش گام اخلاص |
تشریح: نظم ”اخلاص“ کے اس شعر میں شاعر عبدالرحمٰن بابا نے بتایا ہے کہ اگرچہ انسان ایک کمزور اور عاجز مخلوق ہے، وہ انتہائی محتاج ہے ۔ مگر انسان اپنے اندر اخلاص کے اوصاف کو پیدا کرے اور اپنے دل کو صاف، نیت کو مطہر کرلے تو اس کے لیے کچھ ممکن نہیں کہ وہ فرش سے عرش تک سفر کر لے۔ اخلاص ہی ی بدولت وہ تمام مقامات بلند پا لے یک لخت پا لے گا جس کی وہ خواہش کرتا ہے۔
| فانی ہے ہر اک چیز، ہر اک رسم و رواج باقی ہے، مگر ایک دوام اخلاص |
تشریح: نظم ”اخلاص“ کے اس شعر میں شاعر عبدالرحمٰن بابا نے بتایا ہے کہ دنیا کے تمام رشتے ناطے، علاقوں کے رسم و رواج سب کچھ ایک مدت تک ہی باقی رہتے ہیں، ان کو زوال ہے مگر اخلاص کو کبھی زوال نہیں۔اخلاص سماج کے رسوم و رواج، مال و زر سے بلند ہے۔ انسان کے مرنے کے بعد بھی اس کے نیک اعمال یعنی اخلاص نیت سے کیے گئے معملات زندہ رہتے ہیں اور اگلے سفر میں کامیابی کا باعث بنتے ہیں۔
| اسلام ہے پابندی اخلاص کا نام اور نام ہے اسلام کا نام اخلاص |
تشریح: نظم ”اخلاص“ کے اس شعر میں شاعر عبدالرحمٰن بابا نے بتایا ہے کہ ہم مسلمان ہیں اور ہمارا مذہب اسلام جو کہ امن کا مذہب ہے جو کہ ہمیں اخلاص کا ہی سبق دیتا ہے۔ جو بھی اسلام کے اصولوں پر چلتا ہے وہ لازم بات ہے کہ اخلاص نیت سے بھی مالا مال ہوگا۔ اسلام کی پیروکاری سے ہمیں اخلاص کا درس ملتا ہے جس سے ہماری ذات سے تمام نقص نکل جاتے ہیں اور ہم قرب الہیٰ کو پالیتے ہیں، جو کہ دنیا و آخرت دونوں کی ہی کامیابی ہے۔
| صیاد کو ممکن ہے ہم ہاتھ لگے پھیلائے محبت سے جو دام اخلاص |
تشریح: نظم ”اخلاص“ کے اس شعر میں شاعر عبدالرحمٰن بابا نے بتایا ہے کہ ہما ایک افسانوی پرندہ ہے جس کے متعلق ایشیائی لوگوں کا تصور ہے کہ یہ ایسا پرندہ ہےجو کسی کے سر پر بیٹھ جائے تو اسے دنیا کی بادشاہتیں ملتی ہیں۔ اگر کوئی فرد اخلاص کےجذبے سے سرشار ہو اور وہ اپنے کاروبار زندگی میں خلوص نیت سے اپنے معملات چلائے تو عین ممکن ہے کہ ہما پرندہ یعنی دنیا کی بادشاہت بھی پالے۔
| حاجت نہیں اخلاص کی کچھ بعد فنا قائم کرو ہستی میں نظام اخلاص |
تشریح: نظم ”اخلاص“ کے اس شعر میں شاعر عبدالرحمٰن بابا نے بتایا ہے کہ اخلاص باعث خیر ہی خیر ہے، اخلاص سے نہ صرف یہاں دنیا میں اجر ملتا ہے بلکہ یہ اعمال نامے میں بھی لکھا جائے گا اور آخرت میں یہ نجات کا سبب بھی بنے گا۔ ہمارے اعمال دنیاوی کا روز محشر حساب ہوگا، اگر ہمارے اعمال مخلص ہوں اور ان میں کسی قسم کی کھوٹ نہ ہو تو یہ روز محشر ہمیں نجات دلائیں گے۔
| شیرینی گفتار پہ حیرت کیسی ہے گفتۂ رحمٰن کلام اخلاص |
تشریح: نظم ”اخلاص“ کے اس شعر میں شاعر عبدالرحمٰن بابا نے بتایا ہے کہ میرے قاری جو میرا کلام پڑھ رہے ہیں، میری نرم گوئی اور تاثر بھری گفتگو سے تم لوگ حیران نہ ہو، میری یہ صفات محض اخلاص کی بدولت ہیں۔ میرے جذبے مخلص ہیں اس لیے میں جو کلام لکھتا ہوں اس سے شیرینی اور مٹھاس فطری طور پر آجاتی ہے۔
مشق:
سوال نمبر۱: اس نظم میں ”اخلاص“ کی جو تعریفیں بیان کی گئی ہیں، انھیں مختصراً لکھیں۔
جواب:نظم ”اخلاص“ میں شاعر رحمنٰ بابا نے اخلاص کے جذبے کو انسان کے لیے بہت اہم بتایا ہے۔ مخلص جذبے سے انسان کو وہ مقام مل جاتا ہے کہ گویا وہ ثریا ستارے کو پہنچ گیا ہو۔ اخلاص سے آدمی دنیا جہاں کا دل جیت سکتا ہے، اس کا قد فرش تا عرش بڑا ہو جاتا ہے۔ اخلاص کے جذبے کو زوال نہیں یہ دائمی ہے، اسی سے ناممکن کو ممکن کیا جا سکتا ہے۔
سوال نمبر۲:”ہما“ پرندے کی کیا خصوصیت بیان کی جاتی ہے؟
جواب:نظم اخلاص میں ہما پرندے کا ذکر ہوا ہے، ہما ایک افسانوی پرندہ مشہور ہے۔ جس کے متعلق مقامی ایشیائی لوگوں کا یہ تصور ہے کہ یہ ہڈیاں کھاتا ہے، اور یہ پرندہ جس کے سر پر بیٹھ جائے وہ قسمت کا دھنی بن جاتا ہے۔ اسے بادشاہت اور مال و عشرت حاصل ہو جاتی ہے۔ایران کے شاہوں نے بھی اپنے جھنڈے پر اس پرندے کی تصویر اس لیے بنائی تھی کہ وہ اسے مبارک سمجھتے تھے۔
سوال نمبر۳: اخلاص کی وجہ سے کون سا سفر آسان ہو جاتا ہے؟
جواب: اخلاص کی وجہ سے انسان کا ہر سفر آسان ہو جاتا ہے، پھر بھلے وہ اخلاص نیت سے زمین سے عرش الہیٰ تک ہی کیوں نہ پرواز کرے، وہ اس چیز کو بالکل بھی مشکل نہیں پائے گا۔ خلوص دل سے خالق کائنات کو اپنا مددگار پکارے تو دعاؤں کی قبولیت سے ہر منزل آسان ہو جائے گی۔
سوال نمبر ۴: اس نظم کا مرکزی خیال بیان کریں۔
جواب:نظم ”اخلاص“ میں شاعر عبدالرحمٰن باباؒ نے خلوص اور نیک نیتی کے بارے میں بتایا ہے کہ انسان خلوص و مثبت گمان رکھے تو اسے نہ صرف دنیا کی کامیابیاں ملتی ہیں بلکہ آخرت میں بھی وہ سرخرو ہوگا۔ دنیا کے مشکل و کٹھن کاموں کو بھی اگر خلوص نیت سے انجام دیا جائے تو وہ بھی بآسانی ہو جائے گا۔ انسان کی نیت میں کھوٹ نہ ہو اور وہ اخلاص کے جذبہ سے محنت کرے تو وہ آسمان کی بلندیوں تک پہنچ سکتا ہے۔
سوال نمبر۵:
| فانی ہے ہر اک چیز، ہر اک رسم ورواج باقی ہے مگر ایک دوام اخلاص |
کلام میں دو ایسے الفاظ استعمال کرنا جو ایک دوسرے کی ضد ہوں ”صنعت تضاد“ کہلاتا ہے۔ جیسے مندرجہ بالا شعر میں ”فانی“ اور ”باقی“ ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ صنعت تضاد کی تعریف کریں اور تین مثالیں لکھیں۔
جواب: تضاد کے لفظی معنی فرق کے ہیں،علم بدریع کے مطابق شاعری میں ایسے دو الفاظ باندھنا جو معنی کے اعتبار سے ایک دوسرے کی ضد ہوں، جیسے کہ روز و شب، زندگی اور موت، سونا اور جاگنا وغیرہ وغیرہ۔ مثلاً:
| 1۔ ایک سب آگ ایک سب پانی دیدہ و دل عذاب ہیں دونوں 2۔ اسے فکر کیا سزا و جزا کی تیری آرزو جس نے صبح و مسا کی 3۔ امیر شہر کو اس سے غرض کیا فقیر شہر کب سے دربدر ہے |