Advertisement
Advertisement

مخدوم محی الدین کی نظم “انقلاب” 12 اشعار پر مشتمل نظم ہے۔اس نظم میں شاعر نے اپنی انقلابی فکر کو بیان کیا ہے۔اس نظم میں شاعر کہتا ہے کہ اے میری جان اس جہان کا یہ نغمہ کب سے اور کیوں سوگواری میں ڈوبا ہوا ہے۔ اس وطن کی یہ سر زمین تمھارے لیے (انقلاب) کے لیے کب سے بے چین پھر رہی ہے۔پر شوق لوگوں کا ہجوم سے کب سے تمھارے گزرنے کا منتظر ہے۔

Advertisement

اے وقت اب کہ گزر بھی جاؤ کہ کب سے تمھارا انتظار کیا جا رہا ہے۔چہروں کی چمک کب سے تمھاری منتظر ہے کہ نہ تو چہروں پہ چمک موجود ہے اور نہ ہی چہرے پہ بل دار بالوں کا کوئی ہجوم موجود ہے۔ایک ایک ذرہ پریشان ہے اور اس وطن کی ہر ایک کلی پہ اداسی طاری ہے۔وہ ہوائیں جن سے تعفن زدہ بدبو دار مہک اٹھتی تھی اس سے سارا جہان زہر آلودہ ہو رکھا ہے۔اے وقت گزر بھی جاؤ کہ ہم کب سے اب تمھارے منتظر ہیں۔

شاعر کہتا ہے کہ زندگی کے چہرے پہ سر کے بالوں کا برہم انداز بالکل نظر نہیں آ رہا ہے۔ دنیا کی تصویر میں کہیں بھی مریمی انداز موجود نہیں ہے۔مسیح اور خضر علیہ السلام کو کچھ بھی کہنے کی پابندی موجود نہیں ہے۔اس لیے اے وقت گزر جاؤ کہ تمھارے گزرنے اور انقلاب کا کب سے انتظار کیا جا رہا ہے۔تمھارے ہم آواز لوگ تمھارے جیسا نعرہ بلند کرنے والے لوگ کب سے ایک قید میں موجود ہیں۔ اے وقت گزر بھی جاؤ کہ ہم کب سے تمھارے منتظر ہیں۔ہمیں زندگی بخشنے والے ترانے کب سے تمھارے اسیر ہیں۔ صبح کے ستارے کے گلے میں کب سے اور کئی ایک تیر پیوست ہیں۔

Advertisement

شاعر کہتا ہے کہ حرم اب تک آخرت کے دام میں ہے۔ لوگوں کے سروں میں اب تک دین کا خیال موجود ہے۔انقلاب کی اشد ضرورت ہے کہ لوگ آج تک توہمات کے غلام ہیں۔ اس لیے اے وقت گزر جاؤ کہ ہم کب سے تمھارے گزرنے کے منتظر ہیں۔لوگوں کے دماغوں میں اب تک دولت و جائیداد کی فحاشی سوار ہے۔یہی وجہ ہے کہ اب تک سنگ تراش کے تیشے سے لگںے والی خون کی دھار نہیں رک رہی ہے۔خوشبو دار انصاف سے اس وطن کے گلی کوچے مہکیں گے اس لیے اے وقت گزر بھی جاؤ کہ ہم کب سے تیرے گزرنے کے منتظر ہیں۔

Advertisement

Advertisement

Advertisement