• کتاب”دور پاس” برائے آٹھویں جماعت
  • سبق نمبر10:نظم
  • شاعر کا نام: میرا جی، یوسف ظفر
  • نظم کا نام:جنگل

نظم جنگل کی تشریح

پھیلے پھیلے بکھرے بکھرے لیٹے لیٹے جنگل ہیں
گہرے گہرے ٹھہرے ٹھہرے سوئے سوئے سائےہیں

یہ شعر میرا جی اور یوسف ظفر کی نظم جنگل سے لیا گیا ہے۔ اس شعر میں شاعر جنگل کی بات کرتے ہوئے جنگل کو پھیلا ہوا، بکھرا ہوا اور دور تک لیٹا ہوا کہتا ہے۔اس گھنے اور لمبے جنگل کے سائے ایسے ہیں کہ ان میں ایک گہرا پن اور ٹھہراؤ ہے۔یوں لگتا ہے کہ وہ جنگل کے سائے نہ ہوں بلکہ کوئی سو رہا ہو۔

رستے رستے بہتے بہتے چھوٹے چھوٹے چشمے
چپکے چپکےبھورے بھورےسوۓ سوۓ رستے ہیں

اس شعر میں جنگل میں موجود لوازمات کا ذکر کرتے ہوئے شاعر کہتا ہے کہ اس جنگل میں رستے پر بہتے ہوئے چھوٹے چھوٹے چشمے موجود ہیں۔یہ چشمے جنگل کے حسن میں اضافہ کرتے ہیں اس کے ساتھ ہی اس جنگل میں کئی خاموش راستے بھی موجود ہیں اور کہیں چپ چاپ سوئے ہوئے بھورے رستے ہیں۔

Advertisement
آدھے آدھے پورے پورے تیکھے تیکھے کانٹے ہیں
تپتے تپتے سہمے سہمے دبکے دبکے ذرے ہیں

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ جنگل کے ان رستوں پر کہیں آدھے کہیں پورے اور کہیں بہت تیز کانٹے موجود ہیں۔ یہی نہیں کہیں کہیں یہاں تپتے ہوئے اور سہمے ہوئئے خاموش ذرات بھی موجود ہیں۔

چلتے چلتے رکتے رکتے تکتے تکتے کیڑے ہیں
نیلے نیلے پیلے پیلے لمبے لمبے طوطے ہیں

شاعر کہتا ہے کہ جنگل میں صرف چشمے،راستے اور کانٹے ہی موجود نہیں بلکہ یہاں کہیں چلتے پھرتے اور کہیں رکے ہوئے کیڑے مکوڑے بھی موجود دکھائی دیتے ہیں۔ یہاں پر نیلے،پیلے اور لمبے لمبے خوبصورت طوطے بھی موجود ہیں۔

اڑتے اڑتے گاتے گاتے ننھے ننھے پنچھی ہیں
جاتی،جاتی ہٹتی ہٹتی، کٹتی کٹتی، ندی ہے

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ یہاں جنگل میں اڑتے ہوئے اور گاتے ہوئے خوبصورت ننھے پنچھی پائے جاتے ہیں۔ جنگل کے بیچوں بیچ ایک خوبصورت ندی بہتی جارہی ہے۔

نیچے نیچے پیارے پیارے نیارے نیارے پودے ہیں
پتلی پتلی چھوٹی چھوٹی لمبی لمبی شاخیں ہیں

شاعر کہتا ہے کہ اس خوبصورت جنگل میں ندی کنارے خوبصورت اور انوکھے کئی اقسام کے پودے موجود ہیں۔ان پودوں کی پیاری پتلی،چھوٹی اور لمبی لمبی سی شاخیں دکھائی دیتی ہیں۔

ایسے ایسے ویسے ویسے کیسے کیسے پتے ہیں
سوکھےسوکھے پھیکے پھیکےدبلےدبلےڈنٹھل ہیں

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ جنگل میں نہ صرف انواع و اقسام کے پھول پودے موجود ہیں بلکہ نجانے کیسے کیسے پتے بھی دکھائی دیتے ہیں۔ان پتوں کے سوکھے،پھیکے اور دبلے ڈنٹھل ہیں۔

بکسےبکسےنکھرےنکھرےمہکےمہکےغنچے ہیں
بھینی بھینی میٹھی میٹھی اڑتی اڑتی خوش بو ہے

شاعر اس شعر میں کہتا ہے کہ یہاں کھلے ہوئے خوبصورت نکھرے پھول اور ادھ کھلے غنچے بھی موجود ہیں۔جن سے بھینی بھینی اور میٹھی میٹھی خوشبو اڑتی ہے اور سب کچھ مہکاتی ہے۔

سوچیے اور بتایئے:

جنگل میں سائے کیسے معلوم ہوتے ہیں؟

جنگل میں سائے گہرے ٹھہرے اور سوئے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔

نظم میں آدھے آدھے پورے پورے،تیکھے تیکھے الفاظ کس چیز کے لیے استعمال کیے گئے ہیں؟

نظم میں آدھے آدھے ،پورے پورے اور تیکھے تیکھے الفاظ کانٹوں کے لیے استعمال ہوئے ہیں۔

جنگل میں ننھے ننھے پنچھی کیا کرتے ہیں؟

جنگل میں ننھے ننھے پنچھی اڑتے اور گاتے پھرتے ہیں۔

ندی کیسے بہہ رہی ہے؟

ندی جاتی ہوئی ہٹتی اور کٹتی بہتی جارہی ہے۔

کلیوں میں کیسی خوشبو ہے؟

کلیوں میں بھینی بھینی ،میٹھی میٹھی اڑتی ہوئی خوشبو ہے۔

اس نظم میں جنگل کی کن کن چیزوں کا ذکر کیا گیاہے؟

اس نظم میں جنگل کے درختوں ان کے سائے،بہتے چشمے ،راستوں،ندی،پرندوں،پتوں پھولوں،پودوں، کانٹوں وغیرہ کا ذکر کیا گیا ہے۔

مصرعوں کو صیح لفظوں سے پورا کیجیے:

  • پھیلے پھیلے بکھرے بکھرے لیٹے لیٹے جنگل ہیں
  • اڑتے اڑتے گاتے گاتے ننھے ننھے پنچھی ہیں
  • پتلی پتلی چھوٹی چھوٹی لمبی لمبی شاخیں ہیں
  • جاتی،جاتی ہٹتی ہٹتی، کٹتی کٹتی، ندی ہے

مطابق آپ بھی الفاظ بنائیے:

چھوٹے چھوٹے چھوٹی چھوٹی
تیکھے تیکھے تیکھی تیکھی
دہکے دہکے دہکی دہکی
دبلے دبلےدبلی دبلی
مہکے مہکےمہکی مہکی

نظم سے پانچ اسم اور ان کی صفات تلاش کرکے لکھیے:

اسم طوطے، جنگل، چشمے، کیڑے،پودے وغیرہ۔
صفات لمبے ،دبلے،مہکے، خوشبو، ننھے وغیرہ۔

نیچے دیے ہوئے جمع لفظوں کے واحد بنایئے۔

واحدجمع
سایہسائے
پوداپودے
غنچہغنچے
طوطاطوطے
کیڑاکیڑے
ذراذرے
کانٹاکانٹے
چشمہچشمے
رستہرستے
پتاپتے