Advertisement

شاعر اور نظم کا حوالہ

یہ نظم مادرِ وطن سے لیا گیا ہے۔ اس کے شاعر کا نام سرور جہان آبادی ہے۔ اس نظم میں شاعر نے اپنے وطن ہندوستان کی خصوصیات بڑے دلکش انداز میں بیان کی ہے۔

Advertisement

بند : 1
واہ! یہ جان بخش…………………زیور خوش نما

تشریح

نظم کے پہلے بند میں سرور اپنے وطن (بھارت) کی خوبیاں بیان کرتے ہوے کہتے ہیں کہ واہ! میرے وطن کا پانی کتنا جاں بخش ہے، اور اس میں چلنے والی ہوا بھی خوشگوار ہے یعنی اچھی لگنے والی ہے، میرے وطن کے ترو تازہ میوے شیریں اور ذائقہ دار ہیں۔ جنوب سے چلنے والی ٹھنڈی ہوا بھی دل و دماغ کو راحت اور سکون پہنچاتی ہے۔ چاروں طرف کھیتوں میں ہری ہری گھاس دلوں کو لبھانے والی ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ اے شفیق اور مہربان ماں تیری یہ شفقت اور مہربانی ہمیشہ ہم پر بنی رہے۔ تیری پشت پر رہنے والے بڑے خوش نصیب ہیں۔ تیری چاندنی راتوں کے حسین منظروں سے لطف اندوز ہونے کا موقع ملا، تیرے درختوں پر کھلنے والے پھول بڑے خوشنما لگ رہے ہیں۔

Advertisement

بند: 2

*_سو تبسم تیرے انداز…………………جاں ہے تو

تشریح:

سرور کہتے ہیں کہ اے مادرِ وطن تیری حسین گفتگو پر کئی مسکراہٹیں قربان، تیری دلکش صدا ہمارے دلوں کو بے قرار کر دیتی ہے۔ یہاں شاعر کی مراد ملک کی پُر کیف پُر مسرت فضا ہے۔ ہمارے وطن کی سر زمین ہمارے عیش و آرام کی جگہ ہے۔ یہ سر زمین ایک خوشیوں سے بھری محفل کی طرح ہیں۔ جہاں ہماری چاہتیں پوری ہوتی ہیں۔ اے مادرِ وطن تو جوانوں کا حوصلہ بڑانے والی اور انہیں مصیبتوں سے بچانے والی ہے، تیرے خوف سے دشمن تھراتے ہیں۔ یہاں ‘ہیبت’ سے مراد ہمالیہ پہاڑ ہے۔ جو دشمنوں سے ہماری حفاظت کرتا ہے۔
*اے مادرِ وطن تجھ سے عقل و فہم کی روشنی پھیلتی ہے۔ اور ایمان پختہ ہوتا ہے۔ تیری سب سے بڑی دولت اور سرمایہ تیرا صبر و استقلال ہے۔

Advertisement

بند: 3
*_قوتِ بازوں ہے…………………موہنی مورت تیری_*

تشریح

سرور جہان کہتے ہیں کہ اے میرے وطن تو میرا غم خوار بھی ہے۔ اور مجھے حوصلہ دینے والا بھی۔ میرے ہر غم میں تو شریک ہے۔ تیرا وجود میرے لیے سانس کی طرح ہے، جس طرح انسان سانس کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا اسی طرح میں تیرے بغیر نہیں رہ سکتا۔ شاعر اپنے وطن کی اہمیت کو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ جس طرح مندر میں دیوتا کا ایک اہم مقام ہوتا ہے، اسی طرح ملک کے باشندوں کے دل میں ایک دیوی کی طرح تیرا مقام ہے۔ لوگ تجھے دیوی کی طرح پوجتے ہیں۔ اے مادرِ وطن تو دُرگا کا اوتار اور سرسوتی کا روپ ہے۔ اے مادرِ غم خوار تجھ سے ہمیں بہترین انداز سے بات کرنے کا سلیقہ ملا۔ مٹی کی طرح تیرا رنگ سانولا ہے پھر بھی تو خوبصورت ہے۔ میرے دل کے اندر ہمیشہ تیری صورت سجی رہتی ہے۔

بند:4
*_یہ تبسم ہاۓ شیریں…………………مادرِ دم سوز تو_*
تشریح

نظم کے اس آخری بند میں شاعر کہتے ہیں کہ اے میرے وطن تو ایک ماں کی میٹھی مسکراہٹ کی طرح ہیں۔ اے ماں تو اس قدر ہم پر مہربان ہے کہ تیری ہر آواز دل کو طاقت بخشتی ہے۔ یہاں صداۓ دل نواز سے مراد جھرنوں سے گرنے والا پانی ہے۔ اے وطن تیری سر زمین پر خود بخود گھاس اُگ آتی ہے اور ہری بھری گھاس کا نظارہ جنت کے نظارے سے کم معلوم نہیں ہوتا۔ اے مادرِ وطن گنگا جیسا مقدس دریا یہاں بہتا ہے جس کا پانی صاف اور شفاف ہے۔ پیڑ پر لگنے والے پھل بڑے لزیز ہیں۔ یہ زمین، آسمان کے نور کی جلوہ گاہ ہے۔ اے وطن تو جنت کی پاک دیوی کی مانند ہے مطلب یہ کہ اے وطن تو قابل احترام ہے یعنی عزت کے لائق ہے۔

Advertisement

سوالات و جوابات

سوال 1:- نظم کے پہلے بند میں شاعر وطن کی کن کن چیزوں کی تعریف کر رہا ہے؟

جواب :- پہلے بند میں شاعر وطن کے پانی، ہوا، پھل پھول، میوے، میدان، چاندنی رات، نرم نرم گھاس اور ٹھنڈی ٹھنڈی ہواؤں کی تعریف کر رہا ہے۔

سوال 2:- مادرِ وطن کو آرزؤں کی بزمِ انبساط کیوں کہا گیا ہے؟

جواب :- مادرِ وطن کو بزمِ انبساط یعنی خوشی کی محفل اس لیے کہا گیا ہے کیونکہ یہاں رہنے والوں کی خواہش پوری ہوتی ہے۔

Advertisement

سوال 3:- مادرِ وطن کو قوت بازو اور غم خوار کہنے سے شاعر کی کیا مراد ہے؟

جواب :- شاعر کی مراد ہے کہ کسی بھی ملک کے باشندے اپنے وطن میں خود کو محفوظ اور طاقتور سمجھتے ہیں۔ اس لیے شاعر نے وطن کو ہماری قوتِ بازو یعنی طاقت کو بڑانے والا اور غم میں شریک ہونے والا کہا ہے۔

سوال 4:- شاعر کو وطن کا جلوہ کہاں کہاں نظر آتا ہے؟

جواب :- شاعر کو وطن کا جلوہ جان کو تازگی بخشنے والے پانی میں، خوشبودار ہوا میں، ٹھنڈے اور میٹھے میووں میں، پھل پھول اور چاندنی راتوں میں، گنگا کے حسین کناروں سر سبز و شاداب باغات میں اور خوش منظر زمین میں نظر آتا ہے۔

Advertisement

سوال 5:- سرور کے شعری مجموعوں کے نام لکھیے۔

جواب :- "جامِ سرور” اور "خم خانہ سرور”

سول 6:- مادرِ وطن نظم کے علاوہ سرور کی ایسی دو نظموں کے نام لکھو جن سے وطن کی محبت ظاہر ہو۔

جواب :- "خاکِ وطن” اور "حسرتِ وطن”

Advertisement
تحریرمحمد طیب عزیز خان محمودی
Advertisement

Advertisement

Advertisement