Advertisement

اس نظم میں اکبر الہٰ آبادی نے مغربی تہزیب کو تنز کا نشانہ بنایا ہے۔ اور اس تہزیب کے غلط اثرات کی نشاندہی کی ہے اور بتایا ہے کہ ہندوستانی انگریزی تہذیب کی اس قدر تقلید کر رہے تھے کہ اپنی تہذیب کو بھی بھلا دیا تھا انہیں اس بات کا بھی احساس نہ تھا کہ اس کی تقلید کا نتیجہ کیا نکلے گا۔

Advertisement

حوالہ:- یہ اکبر الہٰ آبادی کی نظم مستقبل سے لیا گیا ہے اس کے شاعر کا نام اکبر الہٰ آبادی ہے۔

Advertisement

شعر 1 :

یہ موجودہ طریقے……………صنم ہوں گے

Advertisement

تشریح:- اکبر الہٰ آبادی کہتے ہیں کہ ایک دن ایسا آۓ گا جب یہ پرانی تہزیب ختم ہو جائے گی۔ اور اس کی جگہ ایک نئی تہزیب ہوگی۔ اور لوگ نئے طریقوں کے مطابق زندگی گزاریں گے۔ حسینوں کی زلفوں اور گیسوؤں میں پہلے کی طرح پیچ و خم نظر نہی آئیں گے۔ بلکہ نئے انداز سے لمبے بال ترشوا کر مغربی خواتین کی طرح چھوٹے بال رکھے جائیں گے۔ اس تہزیب کا یہ اثر ہوگا کہ عورتیں بے پردہ ہو جائے گی۔ نہ پردہ ہوگا اور نہ گھونگھٹ، غرض عورتوں کی طرزِ زندگی ہی بدل جائے گی۔ ان چیزوں کی انہیں ضرورت تک محسوس نہ ہوگی۔ 👈 اس بند میں شاعر نے مغربی تقلید کے برے اثرات کی نشاندہی کی ہے۔

شعر 2 :-

بدل جائے گا…………..صنم ہوں گے۔

Advertisement

تشریح:- اکبر اس بند میں کہتے ہیں کہ مغربی تہذیب کی تقلید کی یہی رفتار رہی تو لوگوں کا مزاج بلکل بدل جائے گا۔ ان کی خوشیاں نئی ہوگی اور دکھ درد کے اسباب بھی نئے ہوں گے۔
اس بدلتی ہوئی ہوا سے معلوم ہو رہا ہے کہ اب موسم میں تبدیلی ہو رہی ہے۔ اور یہ تبدیلی کچھ اور ہی گل کھلاۓ گی۔ اب بلبلوں کے نغموں کی جگہ کچھ اور ہی گیت سنائی دیں گے مطلب یہ کہ مغربی تہزیب کے اثرات اس قدر ہوں گے کہ لوگ اپنی مشرقی تہزیب کو بھول جائیں گے۔
لوگ اپنے عقائد کو بھی بھول جائیں گے اور ملت چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں بنٹ جاۓ گی۔ اور اس کا یہ اثر ہوگا کہ لوگ اپنے مذہب کو چھوڑ کر دوسرے مذہب کو اپنا لیں گے۔ یعنی وہ سچے مسلمان کی جگہ مغرب کے پر ستار بن جائیں گے۔

شعر 3 :-

بہت ہوں گے…………….کم ہوں گے۔

Advertisement

تشریح:- اکبر کہتے ہیں کہ یہ بدلاؤ انسانی زندگی کے ہر شعبے میں دکھائی دے گا۔ مثلاً رہنے سہنے، کھانے پینے، اٹھنے بیٹھنے اور گانے میں۔ گانے بھی اب نئی طرز کے ہوں گے مشرقی گانوں میں جن باتوں کا خیال رکھا جاتا ہے وہ مغربی موسیقی سے کوسو دور ہے۔ لوگ اپنی زبان کی اصطلاحوں سے نا آشنا ہو جائیں گے۔ ہمارے روز مرہ کے محاورے، اصطلاحتیں دم توڑ دیں گی اور ان کی جگہ انگریزی کے الفاظ اردو زبان میں شامل ہو جائیں گے۔ آج ہم دیکھ سکتے ہیں کہ تعلیم یافتہ اور ان پڑھ دونوں گفتگو میں انگریزی الفاظ کا بکثرت استعمال کر رہے ہیں۔
اس تہزیب کا یہ اثر ہوگا کہ لوگ شرافت کے معیار کو بھول جائیں گے، لوگ شریفوں کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کریں گے، عزت دار لوگ ذلیل و خوار ہوں گے، بدمعاش لوگوں کا شمار شرفاء اور عزت دار لوگوں میں ہوگا۔

شعر 4 :-

گزشتہ عظمتوں…………….نہ ہم ہوں گے۔

Advertisement

تشریح:- اکبر کہتے ہیں کہ اس تہزیب کا یہ اثر ہوگا کہ لوگ اپنے بزرگوں کے کارناموں، ان کی شان و شوکت اور عزت و عظمت کو بھول جائیں گے اور یہ سب باتیں کتابوں تک محدود رہ جائیں گی اور انہیں تبدیلی کا احساس بھی نہیں ہوگا اور نہ ہی کسی طرح کا غم ہوگا۔ وہ اپنے آباء و اجداد کو بھی بھول جائیں گے۔ وہ صرف اسی ماحول کو پسند کریں گے جس میں ان کی پرورش ہوگی۔
نظم کے آخری شعر میں اکبر خود سے مخاطب ہوکر کہتے ہیں کہ مستقبل میں ہونے والی تبدیلیوں پر تم کیوں اس قدر افسوس زدہ ہو، کیونکہ وہ دن دور نہیں جب نہ ہم ہوں گے نہ تم۔ مطلب یہ کہ اکبر اور ان کے ہمعصر اس دور کو دیکھنے سے پہلے ہی اس دنیا سے رخصت ہو جائیں گے۔

👈 سوالات و جوابات

سوال 1 ▪️اکبر الہٰ آبادی نے کن باتوں کی پیشنگوئی کی ہے؟

جواب ▪️اکبر نے یہ نظم اس وقت لکھی جب ہندوستانی اپنی تہذیب کو چھوڑ کر مغربی تہذیب سے متاثر ہو رہے تھے۔ اس صورت حال کو دیکھ کر اکبر نے یہ پیشنگوئی کی کہ لوگ اسی طرح مغربی تہذیب اپناتے رہیں گے تو ہماری اپنی تہذیب، روایات ختم ہو جائیں گی۔ عورتیں بے حیا ہو جائیں گی، عورتیں پردہ چھوڑ دیں گی، لوگ اپنی زبان بھلا کر انگریزی بولنے لگیں گے۔

Advertisement

سوال 2 ▪️اکبر نے مغربی تہذیب کو اپنے طنز کا نشانہ کیوں بنایا ہے؟

جواب ▪️اکبر کی تعلیم و تربیت مشرقی ماحول میں ہوئی تھی۔ وہ اپنی تہذیب سے پیار کرتے تھے مغربی تہذیب میں شرافت کا معیار مشرقی تہذیب سے مختلف تھا۔ اس لئے مغربی تہذیب کے برے اثرات سے اپنی قوم کو بچانے کے لیے انہوں نے اس تہذیب کو طنز کا نشانہ بنایا۔ ان کا خیال تھا کہ اس تہذیب کے اثر سے ہندوستانی اپنی تہذیبی روایات اور اخلاق سب بھول جائیں گے۔ اکبر یہ پیشنگوئی جو انہوں نے ہندوستانیوں کے لیے کی تھی آج پوری ہوتی نظر آ رہی ہے۔

سوال 3 ▪️”کھلیں گے اور ہی گل” سے شاعر کس بات کی طرف اشارہ کر رہا ہے؟

جواب ▪️اس سے مراد مغربی تہذیب کے اثرات ہیں۔ "گل کھلنا” محاورہ ہے جس کے معنی نئی بات پیدا کرنے کے ہیں۔ یہاں ہندوستانیوں کا مغربی تہذیب کی پیروی کرنا انوکھی بات ہے، جو ہندوستانیوں کو برباد کر دے گی۔

Advertisement

سوال 4 ▪️”گزشتہ عظمتیں” کیا ہے؟ چند جملوں میں تحریر کیجئے۔

جواب ▪️”گزشتہ عظمتوں” سے مراد ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب ہے۔ جس میں تمام ہندوستانی یکجہتی اور اتحاد کے ساتھ مل جل کر رہتے تھے ان کی اس ایکتا کو دیکھ کر دوسرے ممالک للچائی ہوئی نظروں سے ہمارے ملک کی طرف دیکھنے لگے۔ سناتنی، مسلمان، سکھ عیسائی سبھی نے ملک کے لیے قربانیاں دی۔ آج بھی ہندوستان کی عظمتوں کا سکہ دوسرے ممالک مانتے ہیں۔
ملک کے بزرگوں کی کاوشوں کا ہی نتیجہ ہے کہ ہمارا ملک عظیم الشان ملک بنا۔ بقول علامہ اقبال:

سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا
ہم بلبلیں ہیں اس کی یہ گلستاں ہمارا

سوال 5 ▪️ نظم کے آخری شعر میں شاعر کیا کہہ کر خود کو تسلی دے رہا ہے؟

جواب ▪️اکبر آخری شعر میں اپنے آپ کو یہ کہہ کر تسلی دے رہا ہے کہ مغربی تہذیب کی پیروی سے پیدا ہونے والے برے اثرات کو دیکھنے کے لیے ہم زندہ ہی نہیں رہیں گے۔ اس لیے اس تبدیلی کا غم کرنے سے کیا فائدہ۔

Advertisement
تحریرمحمد ،طیب معزیز خان محمودی
Advertisement

Advertisement

Advertisement