Advertisement
  • کتاب "دور پاس”برائے نویں جماعت
  • سبق نمبر04:نظم
  • شاعر کا نام: بے نظیر شاہ وارثی
  • نظم کا نام: پھل پھول

نظم پھل پھول کی تشریح:

وه کھلے پھول بیلے کے لا جواب
پھولے ہزاروں طرح کے گلاب ره

یہ شعر بے نظیر وارثی کی نظم ” پھل پھول” سے لیا گیا ہے۔ اس شعر میں شاعر باغ کا ایک خوبصورت منظر پیش کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ہر جانب خوبصورت اور لاجواب بیلے کے پھول کھلے ہوئے تھے۔راستے میں ہزار رنگوں کے گلاب اپنا جلوہ دکھا رہے تھے۔

Advertisement
وہ پھولی چنبیلی،کھلا موگرا
کھلی چاندنی باغ میں جا بہ جا

شاعر کہتا ہے کہ صرف گلاب ہی نہیں بلکہ چنبیلی ، موگرے کے پھول بھی کھلے ہوئے تھے اور اپنی بہار دکھا رہے تھے۔جب کے باغ میں چاندنی کے نظارے اس قدر دلفریب تھے کہ سارا باغ چاندنی میں نہایا ہوا محسوس ہوتا تھا۔

Advertisement
وہ پھولی نواڑی، کھلی کاسنی
وہ لالہ کھلا ، وہ کھلی کامنی

اس شعر میں شاعر نواڑی اور کاسنی کے پھولوں کا ذکر کرتا ہے جو اپنی نرالی چھب دکھلا رہے تھے۔ جب کہ لالہ اور کامنی کے پھولوں کا نظارہ بھی نہایت دلکش و خوبصورت تھا۔

یہ فطرت کا ہے قدرتی انتظام
کھلے پھول لاکھوں طرح کے تمام

اس شعر میں شاعر کہتا ہے یہ خوبصورت ںظارے اور ان خوبصورت اور طرح طرح کے پھولوں کا کھلنا کسی انسان کا کمال نہیں ہے بلکہ یہ فطرت کا کمال اور قدرتی نظارے ہیں جو اتنے بے شمار پھول موجود ہیں اور دنیا کو رنگین و خوبصورت بناتے ہیں۔

Advertisement
گریں پھولوں پر شہد کی مکھیاں
وہ چھتوں سے جھکنے لگیں ٹہنیاں

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ پھولوں کے کھلنے سے دلفریب مناظر تو دکھائی ہی دیتے ہیں ساتھ ہی ان پھولوں پہ شہد کی مکھیوں کا ایک ہجوم موجود ہوتا ہے۔ یہ مکھیاں شہد کے کیے پھولوں سے رس اکھٹا کرتی ہیں۔ انھوں نے درختوں پر چھتے بنا رکھے ہیں۔ جبکہ ان کا وزن اس قدر ہے کہ درختوں کی ٹہنیاں بھی ان کے وزن سے جھکنے لگتی ہیں۔

Advertisement
وہ انگور وہ رس بھری لیچیاں
لٹکتی ہیں آموں کی وہ کیریاں

اس شعر میں شاعر قدرت کے کرشموں کا ذکر کرتے ہوئے کہتا ہے کہ کئی طرح کے پھل درختوں کی ڈالیوں سے جھانک رہے تھے جن میں انگور، رس بھری لیچیاں موجود ہیں اور درختوں سے آموں کی کیریاں لٹکی ہوئی ہیں۔یہ پھل نہ صرف قدرت کی عظمت کو بیان کرتے ہیں بلکہ بہت خوبصورت بھی دکھائی دیتے ہیں۔

اناروں میں کلیاں بھی لو آگئیں
وہ کیلوں کی پھلیاں بھی گدرا گئیں

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ دیکھتے ہی دیکھتے اناروں میں کلیاں آگئیں اور کیلوں کی پھلیاں بھی ادھ کچی ادھ پکی اپنی جھلک دکھلا رہی تھیں۔

Advertisement
بہی سیب، امرود پکنے لگے
وہ شاخوں میں گولے چمکنے لگے

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ ناشپاتی ، سیب اور امرود بھی پک گئے اوروہ پک کر اس قدر خوبصورت دکھائی دے رہے تھے کہ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے درختوں کی شاخوں پر پکے پھل موجود نہ ہوں بلکہ شا خوں سے پکے ہوئے گولے چمک رہے ہوں۔

وہ پک کر شریفے بھی سب کھل گئے
ٹپک پڑتے ہیں جو ذرا ہل گئے

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ شریفے کے پھل بھی پک کر کھل گئے اور وہ اس قدر پک چکے تھے کے اگر ذرا سے بھی ہلتے تو ٹپک پڑتے تھے۔

Advertisement
لدی ہیں درختوں میں نارنگیاں
جھکی پڑتی ہیں بوجھ سے ڈالیاں

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ درختوں پر نارنگیاں لدی ہوئی اور بڑی خوبصورتی کو مزید نکھار رہی تھیں۔ ان نارنگیوں کے بوجھ کی وجہ درختوں کی ڈالیاں جھک گئی تھیں۔

ہیں اس شان قدرت پہ ہر دم نثار
دکھائی ہمیں جس نے کیا کیا بہار

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ پھولوں اور پھلوں کے ان خوبصورت اور دلکش نظاروں پر قدرت کے ان شان دار نظاروں پر انسان بار بار نثار نظر آتا ہے۔ کہ یہ قدرت کا ہی کرشمہ ہے جس نے ہمیں بار بار بہار کے خوبصورت نظارے دکھائے ہیں۔

Advertisement

سوچیے اور بتایئے:

نظم میں کن کن پھولوں کے نام آئے ہیں؟

نظم میں جن پھولوں کا ذکر ہوا وہ یہ ہیں بیلا، چنبیلی ، موگرا ، نواڑی ، کاسنی ، لالہ ، کامنی۔

شاعر نے فطرت کے کس قدرتی انتظام کی طرف اشارہ کیا ہے؟

شاعر نےطرح طرح کے خوبصورت اور رنگ برنگےپھولوں کے کھلنے کو قدرت کا فطری نظام کہا ہے۔

Advertisement

نظم میں کن کن پھلوں کے نام آئے ہیں؟

نظم میں آنے والے پھلوں کے نام یہ ہیں، انگور، لیچیاں، آم ، کیریاں، انار ، کیلا ، سیب ، امرود ، نارنگی وغیرہ۔

شاخوں میں گولے چمکنے سے کیا مراد ہے؟

درختوں پر جب ناشپاتی، سیب اور امرود کے پھل پک کر چمکتے ہیں تو ان کی چمک کو شاعر نے گولوں کے چمکنے سے تشبیہ دی ہے۔

Advertisement

قدرت کی شان پہ ہم کیوں نثار ہورہے ہیں؟

قدرت ہمیں بہار کے خوبصورت اور دلفریب مناظر دکھاتی ہے جس کی وجہ سے ہم اس کی شان پر نثار ہوتے ہیں۔

نیچے دی ہوئی خالی جگہوں کو بھریے:

  • کھلے پھول بیلے کے وہ لا جواب
  • کھلی چاندنی باغ میں جا بہ جا
  • یہ فطرت کا ہے قدرتی انتظام
  • گریں پھولوں پر شہد کی مکھیاں
  • لٹکتی ہیں آموں کی وہ کیریاں
  • جھکی پڑتی ہیں بوجھ سے ڈالیاں

حصہ’الف’ اور ‘ب’ کے صیح جوڑ ملائیے:

حصہ ‘الف’ حصہ’ب’
یہ فطرت کا ہے قدرتی انتظام کھلے پھول لاکھوں طرح کے تمام
گریں پھولوں پر شہد کی مکھیاںوہ چھتوں سے جھکنے لگیں ٹہنیاں
اناروں میں کلیاں بھی لو آگئیں وہ کیلوں کی پھلیاں بھی گدرا گئیں
وہ پھولی چنبیلی،کھلا موگراکھلی چاندنی باغ میں جا بہ جا
بہی سیب، امرود پکنے لگےوہ شاخوں میں گولے چمکنے لگے

نیچے دیے ہوئے لفظوں کو واحد بنا کر لکھیے:

جمعواحد
ڈالیاںڈالی
لیچیاںلیچی
مکھیاںمکھی
ٹہنیاںٹہنی
نارنگیاںنارنگی
پھلیاںپھلی
کیریاںکیری
درختوںدرخت
کلیاںکلی
آموںآم
شاخوںشاخ
پھولوںپھول

نیچے دیے ہوئے لفظوں کو جملوں میں استعمال کیجیے:

لاجواب اس کی حاضر جوابی نے مجھے لاجواب کردیا۔
چاندنیچودھویں کے چاند کی چاندنی سے سارا ماحول جگمگا رہا تھا۔
انتظامعلی کا گھر میں آج کا دعوت کا انتظام بہت خوب تھا۔
شہد شہد کی مکھیاں شہد اکھٹا کرنے کے لیے پھولوں کا رس چوستی ہیں۔
باغباغ میں طرح طرح کے پھول کھلے ہوئے تھے۔

عملی کام:اپنی پسند کے پانچ پھولوں اور پانچ پھلوں کے نام لکھیے.

پھول گلاب، چنبیلی، رات کی رانی، گل لالہ،سورج مکھی۔
پھل کیلا، امرود، آڑو، لوکاٹ، تربوز،انار۔

Advertisement
Advertisement

Advertisement