Advertisement

یہ نظم ہماری درسی کتاب ”بہارستان اردو “ سے ماخوذ ہے۔ اس نظم کے شاعر نشاط کشتواڑی ہیں۔ شاعر نے اس نظم میں قلم کی اہمیت اور خصوصیات کو بیان کیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ "قلم”نشاط کشتواڑی کی پہلی نظم ہے جو 1940ء میں شائع ہوئی۔ شاعر نے بڑے دلچسپ انداز میں قلم کی تعریف بیان کی ہے۔

Advertisement

تعارفِ شاعر :

نشاط کشتواڑی 01 اپریل 1909 ء میں جموں کشمیر کے ضلع کشتواڑ میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصلی نام غلام رسول زرگر اور تخلص نشاط کشتواڑی تھا۔ ان کی شاعری کو کشمیر کے علاوہ پورے ہندوستان میں سراہا گیا۔ان کی پہلی نظم "قلم” 1940ء میں شائع ہوئی اور پھر1988ء میں ان کا شعری مجموعہ کتابی صورت میں شائع ہوا جس کا نام ”تصویر خیال“ ہے۔

Advertisement

نظم قلم کی تشریح

قلم کیوں چل رہا ہے پیچ و خم سے
یہ جاکر پوچھیے اہل قلم سے

نظم کے پہلے شعر میں شاعر قلم کی تعریف میں لکھتے ہیں کہ قلم کیوں پیچ و خم یعنی ٹیڑا میڑا ہوکر چلتا ہے یہ صرف اہل قلم یعنی ادیب،شاعر یا قلم کار ہی بتا سکتے ہیں۔

عجائب اس کی سب گلکاریاں ہیں
تعجب خیز گوہر باریاں ہیں

شاعر اس شعر میں فرماتے ہیں کہ قلم عجیب بیل بوٹے تراشتاہے، اس کی گلکاریاں عجیب ہیں اور قلم حیران کن موتی برساتا ہے۔
شاعر نے گلکاریاں اور گوہر باریوں کو تشبیہ کے طور پر استعمال کیا ہے۔

Advertisement
کہیں یہ بادشاہ ہاتھ بن کر
ہوا ہے عدل پرور یا ستم گر اگر

نظم کے تیسرے شعر میں شاعر قلم کو الگ الگ صورتوں میں دکھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ شاعر فرماتے ہیں کہ جب یہ بادشاہ کے ہاتھ میں ہوتا ہے تو کہیں پر عدل کرتا ہے ، کہیں پر ظلم و ستم۔

Advertisement
ملا گر شاعر شیرین بیان کو
توحیراں کر دیا اہل جہاں کو

شاعر فرماتے ہیں کہ یہ قلم جب کسی شاعر کے ہاتھ لگ جاتا ہے تو اس کا کلام سارے جہاں کو حیران کر دیتا ہے۔(جیسے شاعر مشرق علامہ سر محمد اقبال کا کلام)

مصور کے جو یہ ہاتھوں میں پہنچا
تو کھینچاحسن کا انمول نقشہ

شاعر فرماتے ہیں کہ یہ قلم جب مصور یعنی تصویر کش کے ہاتھ لگ جاتا ہے( یہاں تصویر کش سے مراد ادیب یا شاعر ہے)تو یہ بڑی خوبصورتی کے ساتھ حسن کا نقشہ کھینچ لیتا ہے۔

Advertisement
کسی کو زندگی واپس دلائے
تو مشکل میں کسی کے کام آئے

شاعر فرماتے ہیں کہ یہ قلم ایسا ہے کہ کچھ لوگوں کو زندگی واپس دلاتا ہے (زندگی واپس دلانے سے مراد عدالت میں منصف کا کسی مجرم کو نردوش کرار دینا) وہیں یہ قلم مشکلوں اور مصیبتوں میں کسی کے کام آتا ہے۔

کسی کی آن میں قسمت پلٹ دے
کسی بدبخت کا تختہ الٹ دے

شاعر فرماتے ہیں کہ یہ قلم لوگوں کی قسمت بدل دیتا ہے اور کسی بد قسمت کا تختہ پلٹ دیتا ہے (جس کی سب سے بڑی مثال عدالتیں اور لوح محفوظ ہیں۔

Advertisement
جہاں میں ہے یہ کیا کیا گل کھلاتا
ہزاروں اپنے جوہر ہے دکھاتا

نظم کے آخری شعر میں شاعر نے پوری نظم کو جیسے سمیٹ کر رکھ دیا ہو۔ شاعر فرماتے ہیں کہ قلم دنیا میں الگ ہی گل کھلاتا اور ہزاروں جوہر دکھاتا ہے( گل کھلانے اور جوہر دکھانے سے مراد قلم کے الگ الگ جلوے اور اس کے انوکھے کام ہیں جیسے عدل و انصاف، شاعری، کتابیں، صحافت، قانون،منشور یا آیین وغیرہ لکھنا)

سوالات

نظم میں قلم کی کون کون سی صفات بیان کی گئی ہیں؟

ج: نظم میں قلم کی کئی صفات بیان کی گئی ہیں جیسا کہ قلم اگر کسی سخی بادشاہ کے ہاتھ میں ہو تو انصاف پر مبنی فیصلہ کرتا ہے، کبھی کسی ظالم بادشاہ کے ہاتھ میں ہو تو ظلم کی داستانیں لکھ دیتا ہے۔ کہیں اس قلم نے شاعروں کے ہاتھ میں آکر بہت دل لبھانے والی چیزیں لکھیں، کبھی قلم منصف کے ہاتھ میں جاکر کسی ملزم کی سزا کم کرتا ہے اور کسی قتل کے ملزم کو پھانسی سے بچا کر نئی زندگی بخشتا ہے، چند ہی لمحوں میں کسی کے مقدر کو پلٹ بھی دیتا ہے۔وغیرہ

Advertisement

عالم قلم سے کیا کام لیتا ہے؟

ج: عالم قلم کی بدولت اپنے علم کو دوسروں تک پہنچانا ہے۔

قلم کس کے ہاتھ میں پہنچ کر حسن کا انمول نقشہ کھینچتا ہے؟

ج: قلم مصور کے ہاتھ میں پہنچ کر حسن کا انمول نقشہ کھینچتا ہے۔

Advertisement

یہ نظم کس شاعر نے لکھی ہے؟

ج: یہ نظم نشاط کشتواڑی نے لکھی ہے۔

خالی جگہوں کو پُر کیجئے۔

  • عجائب اس کے سبب گلکاریاں ہیں۔
  • تو حیران کر دیا اہل جہاں کو۔
  • کسی کی زندگی واپس دلائے۔
  • کسی کی آن میں قسمت پلٹ دے۔
  • ہزاروں اپنے جوہر ہے دیکھا۔

ذیل کے الفاظ کو اپنے جملوں میں استعمال کیجیے۔

علم علم حاصل کرنا ہر ایک کا بنیادی حق ہے۔
عدل عدالت کو عدل و انصاف سے کام کرنا چاہیے۔
مصور مصور نے اس تصویر میں جان بھر دی۔
نقشہ شاعر نے اپنی غزل میں حسن کا نقشہ کھینچا ہے۔
جوہر قلم نے دنیا میں اپنے جوہر دکھائے ہیں۔

سمجھیے اور لکھیے۔

  • شعر کہنے والے کو شاعر کہتے ہیں۔
  • ظلم کرنے والے کو ظالم کہتے ہیں۔
  • عبادت کرنے والے کو عابد کہتے ہیں۔
  • علاج کرنے والے کو معلج کہتے ہیں۔
  • تصویر بنانے والے کو مصور کہتے ہیں۔
  • انصاف کرنے والے کو منصف کہتے ہیں۔
  • تجارت کرنے والے کو تاجر کہتے ہیں۔
  • تصنیف لکھنے والے کو مصنف کہتے ہیں۔

Advertisement
Advertisement

Advertisement