Advertisement
  • نظم : شام
  • شاعر : جوالا پرشاد برق

تعارف ِ شاعر

جوالا پرشاد مشہور شاعر اور ادیب1911ءمیں سیتا پور میں پیدا ہوئے۔ 1883ء میں لکھنؤ سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔ 1885ء میں منصف مقرر ہوئے۔ ترقی کرکے قائم مقام ڈسٹرکٹ و سیشن جج کے عہدے تک پہنچے۔ 1909ء میں گریفن کمیٹی کے ارکان نامزد ہوئے۔ لکھنؤ کے اخباراودھ پنچ میں بالا التزام لکھتے تھے۔ ان کی ایک مثنوی سرسید کو بہت پسند تھی۔ نثر نگار اور مترجم بھی اعلیٰ درجے کے تھے۔ بنکم چند چڑجی کے ناولوں بنگالی دلہن، پرتاب، ادہنی، مرنالی، مار آستین وغیرہ اور شیکسپئیر کے بعض ڈراموں کے ترجمے بھی کیے۔ان کی وفات 1911ء میں ہوئی۔

نظم شام کی تشریح

سورج ڈوبا ہوا اندھیرا
چڑیا لینے لگیں بسیرا

شاعر نے پوری نظم میں شام کا منظر بیان کیا ہے۔نظم کے پہلے شعر میں شاعر سورج کے ڈوبنے کی طرف اشارہ کرتا ہے ساتھ ہی یہ بتاتا ہے کہ تمام پرندے اپنے بسیرے کو لوٹ رہے ہیں۔

دن کا گائب ہوا اجالا
تاریکی نے پردہ ڈالا

شاعر اس شعر میں فرماتے ہے کہ روشنی چلی گئی ہے اور اندھیرا ہر طرف چھا گیا ہے۔

Advertisement
جلنے لگے دیے گھر گھر میں
گرجا ، مسجد اور مندر میں

شاعر فرماتے ہیں کہ جیسے ہی اندھیرا چھا گیا ہر گھر میں دیے جلنے لگے اورعبادت گاہوں جیسے گرجاگھر، مسجد اور مندر میں بھی دیے جلنے لگے.

چراغ بریں پرچمکے تارے
بے روغن ہے روشن سارے

شاعر فرماتے ہے کہ آسمان میں تارے چمکنے لگے جو بنا کسی تیل کے جلتے ہیں۔

جنگل سے گھر آئے گوالے
ریوڑ اپنا اپنا سنبھالے

شام کا منظر بیان کرتے ہوئے شاعر فرماتے ہیں کہ اب جنگل سے گائے پالنے والے اپنے مویشیوں کے ساتھ واپس گھر لوٹ رہے ہیں۔

جا پہنچے مزدور گھروں میں
خوش ہے بیوی بچوں میں

شاعر اس شعر میں فرماتے ہےکہ محنت کرنے والے مزدو بھی اپنے گھروں کو لوٹ آئے اور اپنے بیوی بچوں کے ساتھ خوش ہیں۔

دن میں کب آرام کیا ہے
خون پسینہ ایک کیا ہے

شاعر اس شعر میں پھر سے مزدوروں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہے کہ بیچارے مزدور دن میں آرام کب کرتے ہیں وہ دن بھر اپنا خون پسینہ ایک کرتے ہیں اور حلال کی روزی کماتے ہیں۔

نیند میں غافل ہوگئے بچے
سو گئے لوری سنتے سنتے۔

نظم کے آخری شعر میں شاعر شام کا آخری منظر یعنی رات جو نیند سے شروع ہوتی ہے کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہے کہ بچے بے پرواہ ہو کر لوری سنتے سنتے سو گئے۔

1: سوچیے اور بتائیے۔

شاعر نے نظم میں شام کی کیا پہچان بتائی ہے؟

ج: شاعر نے نظم میں سورج ڈوبنے ، دن کے غائب ہونے اور تاریکی چھانے کو شام کی پہچان بتائی ہے۔

نظم میں مزدوروں کے بارے میں کیا کہا گیا ہے؟

ج: نظم میں مزدوروں کے دن بھر خون پسینہ بہانے محنت کرنے اور شام کو گھر اپنے بیوی بچوں میں لوٹنے کے بارے میں کہا گیا ہے۔

وہ شعر لکھیے جن میں نیچے لکھی ہوئی باتیں بتائی گئی ہیں۔

سورج ڈوبنے پر اندھیرا ہو گیا اور چڑیا گھونسلوں میں جانے لگیں۔

سورج ڈوبا ہوا اندھیرا
چڑیا لینے لگیں بسیرا

گھروں اور عبادت گاہوں میں دیے جلانے لگے۔

جلنے لگے دیے گھر میں
گرجا، مسجد اور مندر میں

مزدور گھر پہنچ کر بیوی بچوں سے مل کر خوش ہوئے۔

جا پہنچے مزدور گھروں میں
خوش خوش ہیں بیوی بچوں میں

نظم کو پڑھ کر ذیل کے مصرعوں کے ساتھ مناسب مصرعے جوڑیے اور اشعار مکمل کیجیے۔

جلنے لگے دیے گھر گھر میں۔گرجا مسجد اور مندر میں
جنگل سے گھر آئے گوالےریوڈ اپنا اپنا سنبھالے
نید میں غافل ہوگئے بچےسوگئے لوری سنتے سنتے

لفظ شام کے وزن پر مزید سات الفاظ بنائیے اور دیے گئے خاکے میں بھر دیجیے۔

شام ، عام ، نام ، بام ، کام ، جام ، خام وغیرہ