• کتاب”جان پہچان”برائے آٹھویں جماعت
  • سبق نمبر18:نظم
  • شاعر کا نام: تلوک چند محروم
  • نظم کا نام:ابر بہار

نظم ابر بہار کی تشریح

مستی لٹا رہی ہیں
بڑھتی ہوئی گھٹائیں
جنگل سے آرہی ہیں
کیا مد بھری ہوائیں
اس دور کی ہوا کو
نیرنگی فضا کو
مے کا اثر دیا ہے
ابر بہار تو نے

یہ بند تلوک چند محروم کی نظم "ابر بہار ” سے لیا گیا ہے۔ اس بند میں شاعربہار کی آمد کی بات کرتےہوئے کہتا ہے کہ بہار کی آمد اپنی مستیاں لٹا رہی ہے۔ یہ بہار بادلوں کی آمد کی ہے۔ گھٹائیں تیزی سے بڑھنے لگی ہیں۔ جب کہ ابر کی وجہ سے ہوائیں بھی یوں محسوس ہوتی ہیں جیسے یہ مے سے بھری ہوں۔ شاعر کہتا ہے کہ اس دور کی ہوا اور فضا کی رنگا رنگی میں جو مے کا یہ اثر محسوس ہو رہا ہے یہ کسی اور وجہ سے نہیں ہے بلکہ اس کی اصل اور بنیادی وجہ ان بادلوں کی موجودگی اور اس کی بہار ہی ہے۔

رنگیں ہے صحن گلشن
صحرا زمردیں ہے
ہر شاخ گل بد امن
شبنم سے گوہریں ہے
گلشن کو ،جنگلوں کر
کھیتوں کو،وادیوں کو
گنج گہر دیا ہے
ابر بہار تو نے

اس بند میں شاعر کہتا ہے کہ باغ میں بھی رنگینی پھیلی ہوئی ہے۔ ان بادلوں کی وجہ سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے صحرا بھی سر سبز ہو گیا ہو۔ ہر شاخ کی گود میں گل دکھائی دے رہا ہے۔ جس کی وجہ سے شبنم نے ان کو موتیوں کی طرح سے بھر رکھا ہے۔ چاہے باغ ہو یا جگل،کھیت ہو یا وادیاں ان سب پر موتیوں کا خزانہ لٹایا گیا ہے اور اس کی وجہ بادلوں کی بہار ہے۔

Advertisement
دنیائے رنگ و بو ہے
اپنی مہک پہ ںازاں
سبزہ کنار جو ہے
اپنی لہک پہ نازاں
سرو سمن بھی دلکش
خاک چمن بھی دلکش
سب کچھ مگر دیا ہے
ابر بہار تو نے

اس بند میں شاعر کہتا ہے کہ رنگ اور خوشبوؤں کی دنیا کو اپنی خوشبو پر ںاز ہے۔ جب کہ نہر کے کنارے اگا ہوا سبزہ اپنی لہک اور لہلانے پر ںاز کر رہا ہے۔ سرس کے بلند قامت درخت اور چنبیلی کے پھول بھی دلکش دکھائی دیتے ہیں۔ دوسری جانب باغ کی خاک میں بھی دلکشی جھلک رہی ہے۔یہ سب کچھ بادلوں کی بہار کی دین ہے۔

آنے کو یوں بھی آتی
فصل بہار لیکن
یہ لطف کب دکھاتی
ابر بہار تجھ بن
کہسار کو،چمن کو
ہر منظر کہن کو
شاداب کر دیا ہے
ابر بہار تو نے

اس بند میں شاعر کہتا ہے کہ آنے جو تو ویسے بھی بہار کا موسم آ ہی جانا تھا۔مگراے بہار کے بادل آخر بہار بھی تمھارے بنا یہ لطف کیسے دکھا سکتی تھی۔ باغ کو پہاڑوں کو اور ہر پرانے منظر کو ان بادلوں کی بہار نے شاداب و تروتازہ کر دیا ہے۔ یہ سب بہار کے بادلوں کی بدولت ممکن ہوا۔

سوچیے اور بتایئے:

ابر بہار کے آنے سے ہمارے ماحول میں کیا تبدیلی آتی ہے؟

ابر بہار آنے سے ہر منظر دلکش ہو جاتا ہے۔ باغ میں بہار آجاتی ہے۔ پہاڑ،صحرا، کھیت، وادیاں، کہسار وغیرہ غرض ہر منظر نیا لگنے لگ جاتا ہے۔

گلشن ، جنگل،کھیت اور وادی کو ابر بہار نے کیا عطا کیا ہے؟

گلشن ،جنگل، کھیت اور وادی کو بہار نےموتیوں کا خزانہ یعنی گنج گہر دیا ہے۔

ابر بہار کی وجہ سے فصل بہار کے لطف میں اضافہ کیوں ہو گیا ہے؟

ابر بہار نے چوں کہ ہر پرانے منظر کو دھو کر نیا کر ڈالا یہی وجہ ہے کہ ابر بہار کی وجہ سے فصل بہار کے لطف میں اضافہ ہو گیا۔

شاعر نے صحرا کو زمرد میں کیوں کہا ہے؟

شاعر نے صحرا میں سبزہ اگنے کی وجہ سے اسے زمرد کہا ہے۔

نظم سے تلاش کر کے ہر لفظ کے سامنے اس کا ہم قافیہ لفظ لکھیے :

گھٹائیںہوائیں
لٹا رہی ہیں آرہی ہیں
زمردیںگوہریں
مہکلہک
اداہوا
فضاہوا

نیچے دیے گئے لفظوں کو جملوں میں استعمال کیجیے:

شاداب بارش کے برسنے سے موسم شاداب ہو گیا۔
لطف ہمیں کشتی کی سواری کرکے بہت لطف آیا۔
مہکباغ میں ہر سو گلاب کی مہک پھیلی ہوئی تھی۔
گلشنابر بہار نے گلشن کو تروتازہ کر دیا۔
رنگمجھے سیاہ رنگ پسند ہے۔

ابر بہار کی طرح ترکیب اضافی کی پانچ اور مثالیں نظم سے تلاش کر کے لکھیے ۔

کِنارِ جُو، گنج گہر ، منظر کہن، فصل بہار ، صحن گلشن وغیرہ۔