Advertisement
  • کتاب”دورپاس” برائے نویں جماعت
  • سبق نمبر13:نظم
  • شاعر کا نام: جوش ملیح آبادی
  • نظم کا نام: بہار کی ایک دوپہر

نظم بہار کی ایک دوپہر کی تشریح:

بے چین ہیں ہوائیں، بادل ہے ہلکا ہلکا
بھیٹریں چرا رہی ہیں دوشیزگان صحرا

یہ شعر جوش ملیح آبادی کی نظم ” بہار کی ایک دوپہر” سے لیا گیا ہے۔ اس شعر میں شاعر موسم کی منظر کشی کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ہواؤں میں ایک بے چینی سی محسوس ہوئی۔اس بے چینی کی وجہ یہ تھی کی آسمان پر ہلکے ہلکے بادل آ رہے تھے جس کی وجہ سے موسم کا منظر نامہ بدل رہا تھا۔ موسمی کی خوبصورتی کا لطف اٹھاتے ہوئے صحرا میں رہنے والی لڑکیاں اپنی بھیڑیں چرا رہی تھیں۔

Advertisement
کچھ لڑکیاں چنے کے کھیتوں میں گا رہی ہیں
کچھ پھول چن رہی ہیں کچھ ساگ کھا رہی ہیں

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ کچھ لڑکیاں تو صحرا میں بھیڑیں چرا رہی تھیں جبکہ کچھ چنے کے کھیتوں میں گیت گارہی تھیں۔ کچھ لڑکیاں پھول چن رہی تھیں جبکہ کچھ ساگ کو چن پکا اور کھا رہی تھیں۔ یہ تمام مناظر اس دوپہر کو پر لطف بنا رہے تھے۔

Advertisement
بوڑھا کسان اپنی گاڑی پہ جا رہا ہے
کھیتوں کو دیکھتا ہے اور سر ہلا رہا ہے

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ ایک منظر یہ بھی تھا کہ بوڑھا کسان اپنی گاڑی چلاتا ہوا جا رہا تھا۔وہ اپنی گاڑی پر جاتے جاتے کھیتوں کے پاس سے گزرتے ہوئے نہ صرف اپنے کھیتوں کو دیکھتا جا رہا تھا بلکہ ساتھ اپنا سر بھی ہلا رہا تھا۔

زیر قدم جو برگ پژمردہ آرہے ہیں
ہر گام پرکچل کر نغمے سنا رہے ہیں

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ دوپہر کی اس دھوپ میں پاؤں کے نیچے جو مرجھائی ہوئی پتیاں آ رہی تھیں ان کے پاؤں کے نیچے آنے سے بھی ایک نغمے کی سی صدا بلند ہو رہی تھی۔

Advertisement
خورشید، بادلوں میں کشتی جوکھےجارہا ہے
کوؤں کا بولنا تک اک لطف دے رہا ہے

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ آسمان پر بادل تھے اور سورج ان بادلوں کے درمیان میں چھپا ہوا تھا۔ یہ سورج بادلوں کے ساتھ جو آنکھ مچولی کھیلتا اور آگے بڑھتا جا رہا تھا اس سے ایسے محسوس ہوتا تھا کہ وہ بودلوں میں کشتی چلا رہا ہو۔اس خوبصورت موسم میں کوؤں کا بولنا تک بہت پر لطف اور خوبصورت محسوس ہو رہا تھا۔

Advertisement
کھیتوں پہ دھندلی دھندلی کرنیں چمک رہی ہیں
سر سبز جھاڑیوں میں چڑیاں پھدک رہی ہیں

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ بادل ہونے کی وجہ سے چونکہ سورج کی کرنیں دھندلا رہی تھیں اس وجہ سے یہ کرنیں بھی کھیتوں پر دھندلی ہی پڑ رہی تھیں۔ موسم کی خوبصورتی سے لطف اٹھاتے ہوئے سر سبز جھاڑیوں اور پودوں میں چڑیاں پھدکتی ہوئی پھر رہی تھیں۔

سورج ہے سر پہ، بادل سایہ کیے ہوۓ ہیں
ٹھنڈی ہوا کے جھونکے گرمی لیے ہوۓ ہیں

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ چونکہ دوپہر کا وقت ہے اور اس وقت سورج عین آسمان کے درمیان یعنی سر پر ہوتا ہے۔ مگر آج سورج سر پر ہونے کے باوجود بادلوں نے آسمان پر سایہ کیا ہوا ہے۔ گرمی کی شدت میں کمی لانے کے لیے ٹھنڈی ہوا کے جھونکے چل رہے ہیں مگر ان جھونکوں میں بھی گرمی کی شدت کا احساس موجود ہے۔

Advertisement
غنچے چٹک رہے ہیں گلزار زندگی کے
در کھل رہے ہیں دل پر اسرار زندگی کے

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ باغ میں موجود کلیاں چٹک کر کھل رہی ہیں ان کلیوں کی طرح سے ہی زندگی بھی اپنے بھید افشاں کیے جا رہی ہے۔جیسے جیسے زندگی کے بھید کھل رہے ہیں ویسے ہی دل پر بھی زندگی کے راز افشاں ہوتے جارہے ہیں۔

سوچیے اور بتایئے:-

نظم کے پہلے دو اشعار میں کس منظر کا بیان کیا گیا؟

نظم کے پہلے دو اشعار میں شاعر نے ہواؤں کے چلنے،بادلوں کے آنے اور صحرا میں لڑکیوں کے بھیڑیں چرانے، گیت گانے، ساگ کھانے اور پھول چننے کے مناظر کو بیان کیا ہے۔

Advertisement

کسان کھیتوں کو دیکھ کر اپنا سر کیوں ہلا رہا ہے؟

کسان اپنے کھیتوں کی بہار کو دیکھتے ہوئے سر ہلاتا جا رہا ہے۔

پتے کس طرح نغمہ سنار ہے ہیں؟

سوکھے ہوئے پتے جب قدموں تلے آ کر چرمراتے ہیں تو ان کے قدموں تلے چرمرانے کی آواز نغمہ بن کر گونجتی ہے۔

Advertisement

’’ خورشید بادلوں میں کشتی جو کھے رہا ہے” سے کیا مراد ہے؟

اس مصرعے سے شاعر کی مراد ہے کہ بادل جو کہ حرکت میں اور سورج ان کی اوٹ میں کبھی چھپتا اور کبھی ظاہر ہوتا ہے۔ سورج کی یہ حرکت یوں محسوس ہوتی ہے کہ جیسے بادلوں میں یہ سورج کشتی چلا رہا ہو۔

مصرعوں کے سامنے لکھے ہوئے لفظوں میں سے صیح لفظ چن کر خالی جگہ میں بھریے:

  • بھیڑیں چرارہی ہیں دوشیزگان صحرا ( بکریاں ، گائیں ، بھیڑیں)
  • بوڑھا کسان اپنی گاڑی پہ جا رہا ہے ( سائیکل، گاڑی ،اسکوٹر)
  • خورشید بادلوں میں کشتی جو کھے رہا ہے ( دریا ، بادلوں ، میدانوں)
  • سرسبنر جھاڑیوں میں چڑیاں پھدک رہی ہیں ( پھدک ، لٹک ، مچل)
  • ٹھنڈی ہوا کے جھونکےگرمی لیے ہوۓ ہیں (پانی،سردی، گرمی)

نیچے دیے ہوئے لفظوں کو جملوں میں استعمال کیجیے:

بادلبادل بارش برسانے کا سبب بنتے ہیں۔
پھولہمارے باغیچے میں رنگ برنگے پھول کھلے ہوئے ہیں۔
کرنیںسورج کی کرنیں پانی میں اپنا عکس دکھا رہی تھیں۔
ہوا صبح کی ٹھنڈی ہوا صحت پر اچھا اثر ڈالتی ہے۔
گرمیآج بہت شدید گرمی اور حبس ہے۔

نظم کے مطابق شعر مکمل کیجیے:

بے چین ہیں ہوائیں، بادل ہے ہلکا ہلکا
بھیٹریں چرا رہی ہیں دوشیزگان صحرا
کچھ لڑکیاں چنے کے کھیتوں میں گا رہی ہیں
کچھ پھول چن رہی ہیں کچھ ساگ کھا رہی ہیں
زیر قدم جو برگ پژمردہ آرہے ہیں
ہر گام پرکچل کر نغمے سنا رہے ہیں
خورشید، بادلوں میں کشتی جوکھےجارہا ہے
کوؤں کا بولنا تک اک لطف دے رہا ہے
غنچے چٹک رہے ہیں گلزار زندگی کے
در کھل رہے ہیں دل پر اسرار زندگی کے

مثال کے مطابق نیچے دیے ہوئے مرکب لفظوں کو آسان بنا کر لکھیے:

مثال: زیر قدمقدم کے نیچے
صبح بنارس بنارس کی صبح
شام اودھاودھ کی شام
شب مالوہمالوہ کی شب
درد سرسر کا درد
زیر آسماں آسماں کے نیچے

عملی کام:اس نظم میں شاعر نے جو منظر بیان کیا ہے اسے اپنے الفاظ میں لکھیے۔

اس نظم میں شاعر نے بہار کے موسم کی دوپہر کا منظر بیان کیا ہے کہ ہواؤں کے چلنے،بادلوں کے آنے اور صحرا میں لڑکیوں کے بھیڑیں چرانے، گیت گانے، ساگ کھانے اور پھول چننے کے مناظر دکھائی دیتے ہیں۔دوسری طرف کسان اپنے کھیتوں کو دیکھتے ہوئے سر ہلاتا جا رہا ہے تو زیر قدم آنے والے سوکھے پتے بھی نغمے کی سی صدا بلند کرتے ہیں۔ اسی طرح سورج بھی بادلوں کے ساتھ آنکھ مچولی کھیل رہا ہے جبکہ چڑیاں سر سبز جھاڑیوں میں پھدک رہی ہیں۔ پھولوں کے غنچے کھلنے کی طرح سے زندگی بھی انسان پر اپنے راز آشکار کرتی جارہی ہے۔

Advertisement

Advertisement

Advertisement