Advertisement

مخدوم محی الدین کی نظم “چاند تاروں کا بند” آزاد نظم کی ہیت میں لکھی گئی نظم ہے۔ یہ نظم چار بندوں پر مشتمل ہے۔ان کی اس نظم میں موضوع کی تلخی کے باوجود اسلوب میں نغمگی اور غنائیت پائی جاتی ہے۔ اس نظم میں انھوں نے ملک سے بیرونی سماج (انگریزوں) کو نکالنے اور مقامی حکومتوں سے چھٹکارا پانے کا تصور پیش کیا ہے۔

Advertisement
موم کی طرح جلتے رہے ہم شہیدوں کے تن
رات بھر جھلملاتی رہی شمع صبح وطن
رات بھر جگمگاتا رہا چاند تاروں کا بن
تشنگی تھی مگر
تشنگی میں بھی سرشار تھے
پیاسی آنکھوں کے خالی کٹورے لیے
منتظر مرد و زن
مستیاں ختم، مد ہوشیاں ختم تھیں، ختم تھا بانکپن
رات کے جگمگاتے دھکتے بدن

اس بند میں شاعر کہتا ہے کہ ہم شہیدوں کے تن بدن موم کی طرح جلتے رہے کہ جیسے موم دھیرے دھیرے پگھلتی ہے ایسے ہی ہم بھی اندر ہی اندر جل کر پگھل رہے ہیں۔ وطن کی صبح کی شمع رات بھر جھلملاتی رہی اور چاند تاروں کا باغ رات بھر روشن رہا۔ ہمیں کسی چیز کی کمی اور خالی پن سا محسوس ہو رہا تھا مگر اس خالی پن میں بھی ایک لذت کا احساس موجود تھا۔ ہم اپنی پیاسی آنکھوں کے خالی کٹورے لیے تمام مرد اور عورتیں انتظار میں تھے۔ ہماری مستیاں ، مدہوشیاں اور بانکپن ختم ہو چکے تھے۔جبکہ رات کا بدن دہک اور جگمگا رہا تھا۔

Advertisement
صبح دم ایک دیوار غم بن گئے
خار زار الم بن گئے
رات کی شہ رگوں کا اچھلتا لہو
جوئے خوں بن گیا

اس بند میں شاعر کہتا ہے کہ رات بھر جو ہم جلتے رہے صبح ہم ایک دم سے دیوارِ غم بن چکے تھے۔ ہم دکھوں اور غموں کا ایک کانٹوں بھرا جنگل بن چکے تھے۔رات بھر جو خون ہماری رگوں میں اچھلتا رہا وہ اب خون کے آنسو بن چکے تھے۔

کچھ امامان صد مکر و فن
ان کی سانسوں میں افعی کی پھنکار تھی
ان کے سینے میں نفرت کا کالا دھواں
اک کمیں گاہ سے
پھینک کر اپنی نوک زباں
خون نور سحر پی گئے

اس بند میں شاعر کہتا ہے کہ کئی سالوں سے موجود کچھ اپنے مکر و فریب کے امام موجود تھے۔ان کی سانسوں میں ناگ جیسی زہریلی پھنکار موجود تھی۔ ان کے سینوں میں نفرتوں کا کالا دھواں ہے۔ یہ لوگ ایک پوشیدہ مقام سے اپنی زبان کے تیر برسا کر آپ پہ حملہ آور ہوتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ یہ ہماری صبحوں کا نور پی گئے ہیں۔

Advertisement
رات کی تلچھٹیں ہیں اندھیرا بھی ہے
صبح کا کچھ اجالا بھی ہے
ہمدمو!
ہاتھ میں ہاتھ دو
سوئے منزل چلو
منزلیں پیار کی
منزلیں دار کی
کوئے دل دار کی منزلیں
دوش پر اپنی اپنی صلیبیں اٹھائے چلو

اس بند میں شاعر کہتا ہے کہ رات کا کچھ اثر بھی موجود ہے اور کہیں اندھیرا بھی ہے۔صبح کی روشنی بھی ہے اور میرے دوستوں آؤ اور ہاتھ میں اپنا ہاتھ دو اور اپنی منزل کی جانب چل پڑو۔ یہ منزلیں پیار کی اور قربانیوں کی منزلیں ہیں۔کوئی منزل دل دار کی منزل ہے۔اس لیے اپنی اپنی غلطیوں پر اپنی صلیبیوں کو اٹھاؤ اور منزل کی جانب چلے چلو۔

Advertisement