Advertisement

نظم “دربار دہلی” اکبر الہ آبادی کی نظم ہے جسے قطعہ بند ہیت میں لکھا گیا ہے۔ اس نظم میں 24 بند شامل ہیں۔نظم میں شاعر نے دہلی کے شاہی دربار کی سیر اور اس دربار کے جلوے اور تمکنت کو منفرد شعری انداز میں بیان کیا ہے۔

Advertisement

شاعر نے نظم کو دربار دہلی کے جلوے کو آنکھوں دیکھے ہال کی صورت میں بیان کیا ہے کہ میں سر میں شوق سمایا اور میں دیکی شہر کو گھومںے پہنچ گیا۔ جہاں عجیب غریب چیزیں دیکھنے کو ملیں۔اس کو دیکھ کر میں نے جو لفظوں کی قوافی ملائی ہے وہ ملاحظہ ہو کہ یہاں میں جمنا کنارے ہونے والے پاٹ ، گھاٹ اور ڈیوک کناٹ جیسے محل دیکھے۔ یہاں پلٹن، فوجی رسالے، ہتھیاربنداور یہاں گورے، کالے فوجی تھے اور انہیں کے ساتھ بینڈ باجے والے بھی موجود تھے۔

Advertisement

دہلی میں شاعر نے دیکھا کہ دور تک (کشمیری گیٹ تا کنگزوے کیمپ) خیموں کا جنگل تھا، جدھر نظر جاتی تھی، خیمے ہی خیمے تھے۔ اس دربار دہلی کے لئے بلند مرتبہ، عزت دار لوگوں کے درمیان مقابلہ ہو رہا تھا کہ وہ کس مقام پر رہے گا، اس کا خیمہ کہاں ہوگا، وہ انگریز حکمراں کس قدر نزدیک رہے گا۔خیمے لگانے میں یہ اہتمام کیا گیا تھا کہ ہر کیمپ کا الگ راستہ تھا جو سڑک کی طرف جاتا تھا، ہرطرف پانی کے پمپ لگے ہوئے تھے، روشنی کے لئے لیمپ تھے، ہر شخص تیزی سے دوڑ دوڑ کر کام کر رہا تھا۔کچھ چہروں پہ مردانگی کے آثار تھے جبکہ کچھ کے چہروں پہ سردی کی بدولت زردی چھائی ہوئی تھی۔

محفلوں میں سارنگیاں بجانے والے لوگ موجود تھے۔یہاں بھیڑ ہونے کی وجہ سے کچھ لوگ بھٹک گئے تھے جبکہ کچھ کا منھ بھی لٹک گیا تھا مگر سب کا دل دربار کے جلووں میں ہی اٹکا تھا۔جامع مسجد کے پہلو میں بیت روشنیاں تھیں بھیڑ ہونے کی بدولت کوئی کسی کو سن نہیں پا رہا تھا لیکن یہاں دیکھنے والے بہت لوگ تھے۔آتش بازی کی رونقیں تھیں اور یہاں کئی طرح کی کھانے کی اشیاء موجود تھیں۔

Advertisement

کھانے کی یہ کیفیت تھی کہ یہاں موجود تو طرح طرح کے کھانے تھے مگر عالم یہ تھا کہ کسی کے حصّے میں لذیذ کھانے آرہے تھے تو کسی کو صرف حلوے پر اکتفا کرنا پڑ رہا تھا۔ کوئی بھیڑ اور ہنگاموں کا حصہ بنا ہوا تھا۔ اکبر کہتے ہیں کہ ان کے حصے میں دور کا جلوہ آیا۔اس موقع پر برٹش حکومت کا عروج نظر آیا۔ تخت و تاج کی چمک دیکھ کر آج کے زمانے کے رنگ کا خیال آیا (وقت کس قدر بدل گیا ہے) کبھی یہاں مغلوں کی حکومت تھی اور اب تخت پر لارڈ کرزن تشریف فرما ہیں۔

انگریز ہندوستان میں سات سمندر پار سے آئے تھے۔ ان کے ساتھ بیسیوں اعلی افسر تھے جن میں عقل کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی اور ہر ایک اپنی جگہ سکندر تھا۔اس وقت انگریزوں کی خوش نصیبی پورے عروج پر تھی۔ ان کی وسیع حکومت اور سلطنت کو دیکھ کر اندازہ ہو رہا تھا کہ ساتویں آسمان تک انگریزوں کی حکومت ہے۔ انگریزوں کی محفل تھی اور اس محفل میں وہی چھائے ہوئے تھے۔ جبکہ شاعر کی آنکھیں یہ جلوے دیکھنے کے لیے مجبور تھیں۔

Advertisement

انگریز راج کے عمدہ طور طریقے تھے کہ ان کے پاس عیش و عشرت کے کئی سامان موجود تھے۔یہاں ایک نمائش میں کئی من سونے کے برابر کی اشیاء رکھی گئی تھیں اور شاہی فورٹ میں ایک عظیم جشن ہوا جس میں لیڈی کرزن نے اپنا رقص پیش کیا جسے دیکھ کر سب کے ہوش اڑ گئے۔یہ عیش و عشرت کی محفل صبح تک جاری رہی۔ لوگ اس کو حقیقت نہیں مانتے اور کوئی خواب کہتے ہیں لیکن جس نے اس محفل کو آنکھوں سے دیکھا ہے وہی اس کی حقیقت سے واقف ہے۔

Advertisement