Advertisement
  • حصہ نظم:نظم نمبر03
  • شاعر کا نام:جوش ملیح آبادی
  • نظم کا نام:گرمی اور دیہاتی بازار

نظم گرمی اور دیہاتی بازار کی تشریح:

دوپہر،بازار دکاں،گاؤں کی خلقت کا شور
خون کی پیاسی شعائیں،روح فرسا لو کا زور

نظم “گرمی اور دیہاتی بازار” میں شاعر نے دیہات کے بازار میں گرمی کی شدت کو بہت بے مثال انداز میں پیش کیا ہے۔ اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ دوپہر کا وقت تھا جبکہ بازار میں ہر جانب گاؤں کی خلقت امڈ کر آئی تھی اور اس کا شور سنائی دے رہا تھا۔ جبکہ موسم کچھ ایسا تھا کہ سورج کی شعائیں انسان کو یوں جلا رہی تھیں کہ جیسے وہ انسانی خون کی پیاسی ہوں۔ جان نکالنے اور روح کو تکلیف پہنچانے والی لو چل رہی تھی۔

آگ کی رو،کاروبار زندگی کا بیچ و تاب
تند شعلے،سرخ ذرے،گرم جھونکے،آفتاب

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ گرمی کی اس شدت سے جو آگ کی سی تپش پیدا ہو رہی تھی اس نے کاروباری زندگی کی صورت حال کو بھی غصے میں بدل دیا تھا۔ گرمی کی وجہ سے آگ کی طرح کے تیز شعلے لپک رہے تھے۔ہر جانب یوں لگ رہا تھا کہ سرخ ذرّات اڑ رہے ہوں۔جبکہ ہوا بھی یوں چل رہی تھی کہ جیسے سورج کی تپش کے گرم جھونکے ہوں۔

Advertisement
شور،ہلچل،غلغلہ،ہیجان،لو،گرمی،غبار
بیل،گھوڑے،بکریاں،بھیڑیں قطار اندر قطار

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ ہر جانب شور تھا،ہلچل مچی ہوئی تھی۔اس شور ، ہنگامے اور ہلچل کے ساتھ بازار میں گرمی اور لو کا غبار بھی تھا۔ساتھ ہی بازار کے اندر قطار کی صورت میں بیل،گھوڑوں بھیڑ بکریوں کی قطاریں بھی چلی آرہی تھیں۔جو اس تپتے موسم کو مزید گرما رہی تھیں۔

Advertisement
مکھیوں کی بھنبھناہٹ،گڑ کی بو،مرچوں کی دھانس
خرپزے،آلو،کھلی،گیہوں،کدو،تربوز،گھانس

اسی دوران بازار میں مکھیوں کی شدید بھنبھناہٹ تھی۔فضا میں گڑ کی بو اور مرچوں کی باس بھی موجود تھی۔بازار میں خربوزے،آلو،کھلی،کدو تربوز اور گھانس وغیرہ جیسی اشیائے ضرورت موجود تھیں۔

Advertisement
دھوپ کی شدت،ہوا کی یوریش،گرمی کی رو
کملیوں پر سرخ چانول،ٹاٹ کے ٹکڑوں پہ جو

شاعر کہتا ہے کہ دھوپ کی شدت ہوا کی گرمی کو بڑھا رہی تھی۔بازار میں ہر جانب کملیوں پر سرخ چاول جبکہ ٹاٹوں پر گندم بکھری ہوئی تھی۔

گرم ذروں کے شدائد،جھکڑوں کی سختیاں
جھکڑوں میں کھانستے بوڑھوں کی چلموں کا دھواں

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ گرمی میں ریت کے گرم ذخائر کی سختیاں بھی برداشت کرنا پڑ رہی تھیں مگر اس کے ساتھ ہی ان گرن جھکڑوں میں بوڑھے بزرگوں کی چلموں کا دھواں بھی شامل تھا۔جو اس شدید گرم موسم کی سختی نیں میں مزید اضافہ کر رہا تھا۔

Advertisement
ماؤں کے کاندھے پہ بچے گردنیں ڈالے ہوئے
بھوک کی آنکھوں کے تارے،پیاس کے پا لے ہوئے

شاعر کہتا ہے کہ بازار میں ایسے نظارے دیکھنے کو مل رہے تھے کہ بچے ماؤں کی گردنوں پر سوار تھے ۔ان بچوں کی حالت ایسی تھی کہ ان کی آنکھوں میں بھوک کی چمک کو صاف دیکھا جاسکتا تھا۔یہ بچے بھوکے پیاسے پلے ہوئے تھے۔

بام و در لرزے ہوئے خورشید کی آفات سے
ہر نفس اک آنچ سی اٹھتی ہوئی ذرات سے

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ سورج کی اس آفت نما گرمی کی وجہ سے ہر شے کرز اٹھی تھی۔ہر شخص کو یوں محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے وہ سلگ رہا ہو اور اس میں سے آنچ سی اٹھی ہو۔

Advertisement
مرد وزن گردش میں چیلوں کی صدا سنتے ہوئے
چلچلاتی دھوپ کی رو میں چنے بھنتے ہوئے

شاعر اس شعر میں کہتا ہے کہ یہاں بازار میں موجود تمام مرد اور عورتیں موجود لوگوں کی صدائیں سن رہے تھے۔سخت چلچلاتی دھوپ میں یوں محسوس ہو رہا تھا کہ گویا چنے بھن رہے ہوں۔

یوں شعائیں سایہ اشجار سے چھنتی ہوئی
میان سے موسم کی تیغ بے اماں نکلی ہوئی

شاعر کہتا ہے کہ درختوں کے سائے میں بیٹھنے سے بھی درختوں سے سورج کی شعائیں جو چھن چھن کر آرہی تھیں کہ ایسے محسوس ہوتا تھا کہ جیسے موسم کی میان سے کوئی تلوار نکلتی ہوئی آرہی ہو۔

Advertisement
لو کے مارے بام و در کی روح گھبرائی ہوئی
دوستوں کی شکل پر بیگانگی چھائی ہوئی

شدید گرمی اور لو کی وجہ سے ہر ہر گوشے کی روح بھی گھبرائی ہوئی تھی۔اس گرمی کی وجہ سے دوستوں کے چہرے بھی یوں تھے کہ ان پر بیگانگی کی کیفیت طاری تھی۔

آسمان پر ابر کے بھٹکے ہوئے ٹکڑوں کا رم
نشے میں ممسک کا جیسے وعدہ جود و کرم

شاعر کہتا ہے کہ آسمان پر بادلوں کے ٹکڑے یوں بھاگتے دوڑتے دکھائی دے رہے تھے کہ جیسے شدید کنجوس آدمی کسی سے انعام و کرم کا وعدہ کرتا ہے جو کبھی پوار ہوتا دکھائی نہیں دیتا ہے۔

Advertisement
ہر روش پر چڑ چڑاپن،ہر صدا میں بے رخی
ہر جگر بھنتا ہوا،ہر کھوپڑی پکتی ہوئی

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ اس موسم کی کیفیت کی وجہ سے سب میں چڑ چڑے پن کی کیفیت طاری ہوگئی تھی۔ہر انسان دوسرے سے بے رخی برت رہا تھا۔گرمی کی وجہ سے ہر کوئی گویا کھول رہا تھا اور گرمی اور غصے کی وجہ سے سب کی کھوپڑیاں پکتی ہوئی محسوس ہو رہی تھیں۔

سر پہ کافر دھوپ جیسے روح پر عکس گناہ
تیز کر نیں،جیسے بوڑھے سود خواروں کی نگاہ

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ کافر دھوپ سر پر ایسے موجود تھی کہ جیسے کسی گناہ گار کی روح کا عکس ہو۔یعنی کہ اس کے گناہ کی پرچھائیں ہوں۔جبکہ اس سورج کی کرنیں ایسی تھی کہ جیسے کسی بوڑھے سود خور کی نگاہیں ہوتی ہیں جو آپ کے اندر اترتی چلی جاتی ہیں۔

Advertisement

سوالوں کے جواب لکھیے:

سوال نمبر01:شاعر نے دیہاتی بازار کی منظر کشی کس طرح کی ہے؟

شاعر نے دیہاتی بازار کا بتایا کہ گرمی کی شدت بہت زیادہ تھی۔بازار میں مرد و خواتین کا رش تھا اس کے ساتھ ہی جانور بھی یہاں قطار در قطار موجود تھے۔ بازار میں پھل،سبزیاں اور ضرورت کا دیگر سامان موجود تھا۔بازار میں مکھیوں کی بھنبھناہٹ،گڑ کی بو اور مرچوں کی باس تھی۔

سوال نمبر02:دوستوں کی شکل پر بیگانگی کیوں نظر آرہی تھی؟

گرمی کی شدت اور موسم کی بیزاری کی وجہ سے دوستوں کی شکل پر بیگانگی نظر آرہی تھی۔

Advertisement

سوال نمبر03:لو کو روح فرسا کیوں کہا گیا ہے؟

لو کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ یوں محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے محض جسم ہی نہیں روح تک جل رہی ہو اس لیے لو کو روح فرسا کہا گیا۔

سوال نمبر04:’کافر دھوپ’سے شاعر کی کیا مراد ہے؟

کافر دھوپ سے شاعر کی مراد ہے کہ گناہ گار کے گناہ کی پر چھائیں کی طرح تپتی ہوئی اور شدت والی دھوپ۔

Advertisement

عملی کام:

درج ذیل الفاظ کے واحد سے جمع اور جمع سے واحد بنائیے.

قطارقطاریں
سختیسختیاں
گردنگردنیں
گرمیگرمیوں
شجراشجار
روحارواح
آفتآفات

اس نظم میں استعمال ہونے والے محاوروں،تشبیہوں اور تمثیلوں کی نشاندہی کیجیے۔

  • تمثیل:-میان سے موسم کی بے تیغ نکلی ہوئی تلوار۔
  • محاورہ:-کافر دھوپ،آنکھوں کے تارے۔
  • تشبیہ:-تیز کرن کو سود خور کی نگاہ سے تشبیہ دی گئی۔
  • ابر کو کنجوس کے وعدے سے تشبیہ دی گئی۔
Advertisement