Advertisement
  • کتاب” اپنی زبان”برائے ساتویں جماعت
  • سبق نمبر19:نظم
  • شاعر کا نام: جاں نثار اختر
  • نظم کا نام:ہماری تاریخ

نظم ہماری تاریخ کی تشریح

کوئی بھی گھر ہو دوالی کے دیے جلتے تھے
عید بھر دیتی تھی سینوں میں اجالے کیا کیا
رنگ ہولی کا ہر اک دل میں بھر جاتا تھا
چہرے چہرے پہ دمک اٹھتے تھے لالے کیا کیا

یہ اشعار جاں نثار اختر کی نظم "ہماری تاریخ” سے لیے گئے ہیں۔ اس نظم میں شاعر نے تاریخ کے اہم پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے۔ اس بند میں شاعر کہتا ہے کہ ہماری تاریخ کا ایک رخ ہمیں یہ دکھاتا ہے کہ جب دیوالی کا تہوار ہوتا تھا۔ اس وقت مسلم غیر مسلم کی تمیز کیے بغیر ہر گھر میں دیوالی کے دیے جلا کرتے تھے۔ عید کا تہوار ہوتا تو سب کے سینے روشن ہو جایا کرتے تھے۔ اسی طرح اگر ہولی کا تہوار ہوتا تو اس کا رنگ بھی ہر ایک دل میں برابر بھر جایا کرتا تھا۔ ہر چہرے پہ رنگ یوں روشن ہو جاتے تھے کہ جیسے لالے کے پھول کھل گئے ہوں۔ ہماری تاریخ میں ایسا امن اور بھائی چارے کا عکس دکھائی دیتا ہے۔

اجنبی ہاتھوں نے لکھی تھی جو تاریخ تری
اس کو کیا نام دیں سوچی ہوئی تہمت کے سوا
اپنے ہر پیار کو نفرت میں بدلنا چاہا
کیا پکار میں اسے چالاک سیاست کے سوا

اس بند میں شاعر انگریزوں کی ہندوستان میں آمد اور ان کے مکروہ مقاصد کو تاریخ کے آئینے میں دکھاتے ہوئے کہتا ہے کہ ہماری تاریخ جو کچھ اجنبی ہاتھوں سے لکھی گئی تھی اسے ہم ایک سوچی سمجھی تہمت کے سوا اور کوئی نام نہیں دے سکتے ہیں۔ ہندوستان کی قوموں میں جو بھائی چارے اور محبت کی فضا تھی انھوں نے محض اسے نفرت میں بدلنے کی کوشش کی۔اسے ہم سیاست کی چالاکی کے سوا کوئی دوسرا نام نہیں دے سکتے ہیں۔

Advertisement
Nazm Hamari Tareekh Tashreeh | نظم ہماری تاریخ کی تشریح 1
اے وطن! ہم تیری تاریخ لکھیں گے پھر سے
تیری تاریخ ہے دل جوئی و دل داری کی
تیری تاریخ محبت کی، وفا کی تاریخ
تیری تاریخ اخوت کی، رواداری کی

اس بند میں شاعر اپنے وطن کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے کہ سے عزیز وطن تمھاری تاریخ ہم پھر سے لکھیں گے۔ کیوں کہ وطن عزیز کی تاریخ دل کو تسلی دینے اور محبت ابھارنے والی تاریخ ہے۔ اس وطن کی تاریخ محبت اور وفا کی تاریخ ہے۔ اس وطن کی تاریخ اخوت و رواداری کی تاریخ ہے۔

تیری تاریخ ہے قرآن کا، گیتا کا ورق
آشتی، امن، اہنسا کے اصولوں کا سبق
دہر سے اپنا مقابل کوئی اب تک نہ اٹھا
کوئی گوتم ، کوئی چشتی، کوئی نانک نہ اٹھا

اس بند میں شاعر کہتا ہے کہ میرے وطن کی تاریخ ایک طرف قرآن کا ورق ہے تو دوسری طرف گیتا کا کہ یہاں باہمی بھائی چارے سے دونوں قومیں آباد ہیں۔ یہ دونوں مذاہب اپنے اپنے دور سے امن،سکون ، محبت اور اہنسا کا درس دیتے ہیں۔دنیا سے اب تک ان کے مقابلے میں کوئی نہیں اٹھ سکا ہے اور نہ ہی کسی اور سر زمین سے کسی گوتم بدھ ،چشتی اور گرو نانک جیسے شخص کا جنم ہوا ہے۔ اس وطن کی یہ سرزمین انمول ہے۔

آج آزاد ہیں ہم، ذہن ہمارا آزاد
تنگ جذبات کے گھیروں سے نکل آۓ ہیں
جو فرنگی کی سیاست نے کبھی بوۓ تھے
ان تعصب کے اندھیروں سے نکل آۓ ہیں

اس بند شاعر کہتا ہے کہ آج ہم ہر طرح کی آزاد زندگی جی رہے ہیں۔ ہم جسمانی طور پہ بھی آزاد ہیں اور دماغی طور پہ بھی آزاد ہیں۔ہم ہر طرح کے جذبات کے تنگ گھیروں سے باہر نکل آئے ہیں۔ وہ گھیرے جنھیں ایک فرنگی قوم کی سیاست نے ہمارے اردگرد بنا تھا۔ہم ان تنگ نظری کے جالوں کو توڑ کر باہر نکل آئے ہیں۔

ایک ہے اپنا وطن، ایک زمیں، ایک ہیں ہم
ایک ہیں فکر وعمل ،ایک یقیں ،ایک ہیں
ہم کون کہتا ہے کہ ہم ایک نہیں، ایک ہیں ہم

اس بند میں شاعر کہتا ہے کہ ہمارا وطن ایک ہے زمین ایک ہے اور ہم خود بھی ایک ہیں۔ ہمارے سوچنے اور کرنے کا انداز ایک ہے۔ہمارا یقین بھی ایک جیسا ہے۔ کون کہتا ہے کہ ہم ایک قوم نہیں ہیں۔ ہم ہر طرح سے ایک قوم ہیں۔

سوچیے اور بتایئے:

تاریخ لکھنے والوں کے خیال میں ہندوستان میں مختلف تیوہار کیسے منائے جاتے تھے؟

تاریخ لکھنے والوں کے خیال میں ہندوستان میں مختلف تیوہارایک ساتھ مل جل کر باہمی بھائی چارے اور امن سے بہت اچھے سے منائے جاتے ہیں۔

اجنبی ہاتھوں سے شاعر کی کیا مراد ہے؟

اجنبی ہاتھوں سے شاعر کی مراد انگریز حکمران ہیں جو ہندوستان پر قابض رہے۔

ہماری تاریخ کو کس طرح بدل دیا گیا ؟

انگریزوں نے ہماری تاریخ کو بدل دیا۔ انگریزوں کے آنے سے پہلے ہمارا وطن کے لوگ مل جل کر رہتے تھے سارے تیوہار کوایک ساتھ منایا جاتا تھا، ہندو اور مسلم میں فرق نہیں کیا جاتا تھا، لیکن انگریزوں نے ان کے درمیان نفرت بھر دی اور جاتے جاتے ہندوؤں اور مسلمانوں کے بیچ نفرت کا بیج بو دیا۔

ہمارے ملک کی تاریخ کیا رہی ہے ؟

ہمارے ملک کے لوگ ایک ساتھ مل جل کر رہتے ، ساتھ تیوہار مناتے اور آپسی بھائی چارے سے رہتے چلے آرہے تھے ۔ ہماری ملک کی تاریخ قرآن اور گیتا پر مشتمل ہے۔ ہمارے ملک کی تاریخ نے امن و آشتی اور اہنسا کے اصولوں کا سبق پڑھایا ہے۔ کوئی ہم سے مقابلہ کرنے والا نہیں اور کسی کے پاس گوتم ، چشتی اور نانک جیسا کوئی نہیں ہے۔

آزادی ملنے کے بعد ہم خود کو کیسا محسوس کرتے ہیں؟

آزادی ملنے کے بعد ہم اپنی بات کھل کر کہ سکتے ہیں برا وقت چلا گیا ہے۔ہم جسمانی و ذہنی طور پر آزاد ہیں اور ہم نے فرنگیوں کے تعصب کے جال کو توڑ دیا ہے۔

شاعر نے آخری بند میں ایکتا کی کیا پہچان بتائی ہے؟

آخری بند میں ایکتا کی پہچان یہ بتائی گئی ہے کہ ہمارا وطن ایک ہے زمین ایک ہے اور ہم خود بھی ایک ہیں۔ ہمارے سوچنے اور کرنے کا انداز ایک ہے۔ہمارا یقین بھی ایک جیسا ہے۔ کون کہتا ہے کہ ہم ایک قوم نہیں ہیں۔ ہم ہر طرح سے ایک قوم ہیں۔ اور جو کہتا ہے کہ ہم ایک نہیں وہ غلط ہے ”ہم ایک ہیں“۔

نیچے لکھے ہوئے بند کو مکمل کیجیے:

تیری تاریخ ہے قرآن کا، گیتا کا ورق
آشتی، آمن، اہنسا کے اصولوں کا سبق
دہر سے اپنا مقابل کوئی اب تک نہ اٹھا
کوئی گوتم، کوئی چشتی، کوئی نانک نہ اٹھا

نیچے لکھے ہوئے لفظوں کو جملوں میں استعمال کیجیے:

اجالےہمیں دوسروں کے راستے میں اجالے بکھیرنے والا بننا چاہیے۔
اجنبیاجنبی لوگوں سے تعلقات میں احتیاط برتنی چاہیے۔
نفرتنفرت پھیلانے کی بجائے محبت کو فروغ دینا چاہیے۔
چالاکاحمد ایک چالاک لڑکا ہے۔
وفاکسی بھی رشتے میں وفا کا ہونا ضروری ہے۔
امنکبوتر امن کی علامت ہے۔
باہمیہمیں ہندوستان میں باہمی امن کو فروغ دینا چاہیے۔
آزادہندوستان ایک آزاد ملک ہے۔

ان لفظوں کی جمع لکھیے:

واحدجمع
تہمتتہمتیں
فرنگیفرنگیوں
فکرافکار
عملاعمال
جذبہجذبات

عملی کام:اس نظم میں شاعر نے جن خیالات کا اظہار کیا ہے انھیں اپنے لفظوں میں لکھیے۔

اس نظم میں شاعر نے ہندوستان کی قدیم تاریخ کو بتایا ہے جو امن و بھائی چارے کا گہوارہ تھی۔ یہاں لوگ ایک دوسرے کے تہواروں کو ساتھ مل کر اور دل سے مناتے تھے۔یہاں انگریزوں نے آکر لوگوں میں اپنی سیاست سے نفرت کا بیج بویا مگر جلد ہی یہاں کے لوگوں نے اس نفرت کو بھی مات دے دی۔اس وطن کی سرزمین پر چشتی،گوتم اور نانک جیسے لوگ آئے اس وطن کے لوگوں کا ماننا ہے کہ ہمارا وطن ایک ہے زمین ایک ہے اور ہم خود بھی ایک ہیں۔ ہمارے سوچنے اور کرنے کا انداز ایک ہے۔ہمارا یقین بھی ایک جیسا ہے۔ کون کہتا ہے کہ ہم ایک قوم نہیں ہیں۔ ہم ہر طرح سے ایک قوم ہیں۔