• کتاب” اپنی زبان "برائے چھٹی جماعت
  • سبق نمبر01:نظم
  • شاعر کا نام: الطاف حسین حالی
  • نظم کا نام: مٹی کا دیا

نظم مٹی کا دیا کی تشریح

جھٹپٹے کے وقت گھر سے ایک مٹی کا دیا
ایک بڑھیا نے سر رہ لا کے روشن کر دیا

یہ شعر الطاف حسین حالی کی نظم "مٹی کا دیا” سے لیا گیا ہے۔ اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ ایک روز اندھیرے کے وقت ایک بوڑھی عورت اپنے گھر سے ایک روشن مٹی کا دیا اٹھا کر لائی اور اس نے وہ روشن دیا لا کر بیچ راستے میں رکھ دیا۔

تاکہ رہگیر اور پردیسی کہیں ٹھوکر نہ کھائیں
راہ سے آساں گزر جائے ہر ایک چھوٹا بڑا

شاعر کہتا ہے کہ بوڑھی عورت نے وہ دیا اس لیے بیچ راستے میں لا۔کر رکھا کہ تاکہ کوئی مسافر اور راہ گیر اندھیرے کی وجہ ٹھوکر کھا کر ںہ گر جائے۔ اور اس روشنی کی وجہ سے ہر چھوٹا بڑا اس راستے سے باآسانی گزر جائے۔

Advertisement
یہ دیا بہتر ہے ان جھاڑوں سے اور اس لیمپ سے
روشنی محلوں کے اندر ہی رہی جن کی سدا

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ وہ دیا جو اس بڑھیا نے بیچ راستے میں روشن کر کے رکھا تھا وہ ان بڑے بڑے فانوسوں سے کئی درجے بہتر ہے جو محض کسی بڑے محل کو روشن کرنے کے لیے سجائے جاتے ہیں کیونکہ ان کی روشنی محض اس محل کو روشن کر سکتی ہے جبکہ وہ دیا تو راستے میں موجود لوگوں کے لیے روشنی بکھیر رہا تھا۔

گر نکل کر اک ذرا محلوں سے باہر دیکھیے
ہے اندھیرا گھپ در و دیوار پر چھایا ہوا

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ اگر ان محلوں سے باہر ںکل کر دیکھا جائے تو ان محلوں میں تو روشنی ہے مگر باہر ایک گھپ اندھیرے کی چادر چھائی ہوئی ہے۔

سرخ رو آفاق میں وہ رہنما مینار ہیں
روشنی سے جن کی ملاحوں کے بیڑے پار ہیں

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ وہ دیا جو اس بڑھیا نے روشن کیا وہ روشن دیا اس رہنما مینار ( راستہ دکھانے والے مینار) کی طرح ہے جو سمندر میں سفر کرنے والے مسافروں اور ملاحوں کے بڑے بیڑوں کو رستہ دکھانے کا ذریعہ بنتا ہے۔ یہ مینار ان کے لیے سمت کا تعین کرتا ہے۔

سوچیے اور بتایئے:

بڑھیا نے مٹی کا دیا کس وقت روشن کیا ؟

سورج غروب ہونے کے وقت بڑھیا نے مئی کا دیا روشن کیا۔

راستے میں مٹی کا دیا روشن کرنے کا کیا مقصد تھا ؟

راستے میں مٹی کا دیا روشن کرنے کا مقصد تھا کہ کوئی راہ گیر ٹھوکر کھا کہ نہ گرے اور اپنا راستہ آسانی سے پار کر لیں۔

مٹی کا دیا جھاڑ اور فانوس سے بہتر کیوں ہے ؟

مٹی کا دیا جھاڑ اور فانوس سے بہتر اس لیے ہے کہ جھاڑ اور فانوس دوسروں کو فائدہ نہیں پہنچاتے کیوں کہ ان سے صرف گھر کی زینت ممکن ہے۔جبکہ دوسروں کو فائدہ پہچانے کے لئے بہت زیادہ قیمتی چیزوں یا پیسے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ ان کی مدد تو ہم ایک دیا روشن کر کے بھی کر سکتے ہیں۔

محلوں کے باہر اندھیرا ہونے سے شاعر کی کیا مراد ہے؟

محلوں کے باہر اندھیرے سے شاعر کی مراد ہے کہ محلوں میں رہنے والے لوگوں کو باہر کے اندھیرے کا علم نہیں ہوتا کیوں کہ ان کے پاس ہمیشہ روشنی رہتی ہے۔

رات میں ملاحوں کو راستہ دکھانے میں کون سی چیز مدد کرتی ہے ؟

رات میں ملاحوں کو راستہ دکھانے میں رہ نما مینار مدد کرتا ہے۔

دوسروں کی بھلائی کے لئے ہم کیا کیا کام کر سکتے ہیں؟

دوسروں کی بھلائی کے لئے ہم بہت کچھ کر سکتے ہیں، دوسروں کو فائدہ پہچانے کے لئے بہت زیادہ قیمتی چیزوں اور پیسے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ مدد کرنے کے جذبے اور احساس کی ضرورت ہوتی ہے۔ جیسے کہ ہم اپنے غیر ضروری خواہشات پر قابو پاتے ہوئے کسی غریب کی مدد کر دیں۔ پرندوں کو کھانا کھلانا، جانوروں کا خیال کرنا، وغیرہ بھی بھلائی کے کام ہیں۔

ان لفظوں کے متضاد لکھیے:

آسانمشکل
بہتربدتر
روشنیاندھیرا
محلکٹیا
اندھیرااجالا

مصرعے مکمل کیجیے:

  • جھٹ پٹے کے وقت گھر سے ایک مٹی کا ددیا
  • تاکہ رہ گیر اور پر دیسی کہیں ٹھوکر نہ کھائیں
  • راہ سے آساں گزر جائے ہر اک چھوٹا بڑا
  • روشنی سے جن کی ملاحوں کے بیڑے پار ہیں

املا درست کیجئے:

بڑیابڑھیا
آصانآسان
فانوصفانوس
پردیصیپردیسی
مہلوںمحلوں
بہطربہتر
صرخسرخ

لکھیے: اس نظم کا مطلب اپنے لفظوں میں لکھیے۔

اس نظم میں خواجہ الطاف حسین حالی نے دوسروں کے ساتھ بھلائی کی ترغیب دی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ”مٹی کا دیا “ لوگوں کے کتنے کام آتا ہے۔ حالی نے اس نظم میں ایک بڑھیا کی کہانی بیان کی ہے جو شام کے وقت اپنے دروازے کے باہر ایک مٹی کا دیا جلا کر رکھ دیتی ہے تاکہ رات میں جو مسافر گزریں انہیں کوئی پریشانی نہ ہو اور وہ راستے میں ٹھوکر نہ کھائیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ یہ دیا اس جھاڑ و فانوس سے بہتر ہے جو محلوں کے اندر جگمگاتا ہے۔ لیکن اس کی روشنی محلوں۔ کے اندر ہی رہ جاتی ہے۔ اگر ان محلوں سے باہر نکل کر دیکھا جاتا ہے تو وہاں گہرا اندھیرا چھایا ہوتا ہے۔ شاعر پھر ان رہنما میناروں کی تعریف کرتے ہیں جو سمندر میں ملاحوں کو راستہ دکھاتے ہیں۔ یوں وہ اس مٹی کے دیے کو ان میناروں سے تشبیہ دیتے ہیں۔

آپ نے بھلائی کا کوئی کام ضرور کیا ہو گا، اسے اپنے الفاظ میں لکھیے۔

مجھے دوسروں کی مدد کرنا بہت اچھا لگتا ہے۔ خواہ وہ میرا کوئی دوست ہو یا انجان۔ کسی بھی انسان کی اس کی مشکل میں مدد کرکے مجھے ہمیشہ بہت خوشی ملتی ہے۔ہمارے گاؤں میں موجود غریبوں کے بچوں کو بلامعاوضہ تعلیم دے کر مجھے بہت اچھا لگتا ہے کہ وہ پڑھ کر نہ صرف خود کامیاب ہوں گے بلکہ ملک کی ترقی میں بھی ایک اہم تعمیری کردار ادا کر سکیں گے۔

کالم’الف’ اور کالم ‘ب’ کے مصرعوں کو ملا کر صحیح شعر لکھیے۔

کالم الف:

  • جھٹ پٹے کے وقت گھر سے ایک مٹی کا دیا
  • راہ سے آساں گزر جائے ہر اک چھوٹا بڑا
  • روشنی محلوں کے اندر ہی رہی جن کی سدا

کالم ب:

  • تاکہ رہ گیر اور پر دیہی کہیں ٹھوکر نہ کھائیں
  • ایک بڑھیا نے سر رہ لا کے روشن کر دیا
  • یہ دیا بہتر ہے ان جھاڑوں سے اور فانوس سے

کالم ج:

جھٹ پٹے کے وقت گھر سے ایک مٹی کا دیا
ایک بڑھیا نے سر رہ لا کے روشن کر دیا
تا کہ رہ گیر اور پردیسی کہیں ٹھوکر نہ کھائیں
راہ سے آساں گزر جائے ہر اک چھوٹا بڑا
یہ دیا بہتر ہے ان جھاڑوں سے اور فانوس سے
روشنی محلوں کے اندر ہی رہی جن کی سدا