Advertisement

تعارفِ نظم :

یہ شعر ہماری درسی کتاب کی نظم ”تغیر“ سے لیا گیا ہے۔ اس نظم کے شاعر کا نام احسان دانش ہے۔ یہ نظم کتاب نفیر فطرت سے ماخوذ کی گئی ہے۔

Advertisement

تعارفِ شاعر :

قاضی احسان الحق نام اور احسان تخلص تھا۔ ان کے والد قاضی دانش علی باغ پت ضلع میرٹھ کے رہنے والے تھے لیکن انہوں نے بعد میں کاندھلا میں سکونت اختیار کرلی۔ احسان یہیں 1913ء میں پیدا ہوئے۔ یوں تو احسان کے والد قاضی تھے اور ان کا نام قاضی دانش علی تھا۔ ان کے پاس اچھی خاصی جائیداد بھی تھی لیکن آہستہ آہستہ سب کا خاتمہ ہوگیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ انہیں بھی مزدوری کرنی پڑی۔ احسان کی تعلیم کا مسئلہ سامنے تھا۔ جب وہ چوتھے درجے میں آئے تو ان کی کتابوں کے لئے گھر کے برتن بھی بیچنے پڑے۔ تعلیم جاری رکھنا تقریباً ناممکن ہوگیا اور آخرکار یہ بھی اپنے والد کے ساتھ مزدوری کرنے لگے۔ آپ نے اپنی شاعری میں بھی مزدوروں اور غریب طبقے کے لوگوں کی جذبات کی عکاسی کی ہے اس لیے آپ کو شاعرِ مزدور بھی کہا جاتا ہے۔

Advertisement

شعر نمبر ۱ & ۲ :

اے ہم نشیں! کلام مرا لا کلام ہے
سن! زندگی تغیر پیہم کا نام ہے
راتوں کو ہے سحر کی تجلی کا انتظار
ہے ہر صدا فراق خموشی میں بے قرار

تشریح : جب بھی کوئی شاعر اپنی قوم یا بنی نوع انسان سے کوئی بات کہتا ہے تو اس کا انداز تکلم یہی ہوتا ہے کہ سنیے یا اے دوست ، اے ہم نشیں وغیرہ۔ اس انداز تکلم میں شاعر کا خطاب سب سے ہوتا ہے۔ احسان دانش بھی اسی انداز میں مخاطب ہیں اور ذرا تجلی سے کام لیتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ میری اس بات اور میرے اس کلام میں شک کا کوئی نشان نہیں کہ زندگی ایک مسلسل تبدیلی کا دوسرا نام ہے۔ ہر فطرت سلیم رکھنے والا اس بات کو تسلیم کرے گا کہ زندگی ہر دم تغیر پذیر ہے اور یہ اتنی بڑی حقیقت اور سچائی ہے بلکہ کائناتی صداقت ہے کہ اس میں دو رائے نہیں ہوسکتیں۔ اس حقیقت کی تردید کے لیے کسی کے پاس کوئی دلیل نہیں ہوگی۔

Advertisement

شاعر اپنے قول فیصل کی ایک مثال سے وضاحت کر رہا ہے کہ تغیر کا سلسلہ لامتناہی ہے۔ ہر رات نہایت بے چینی سے اس بات کی منتظر رہتی ہے کہ کب جلوہ نور کا ظہور ہو اور صبح کی روشنی سے آسمان جگمگا اٹھے۔ رات خود اپنی ہی تاریکی سے ٹلنا چاہتی ہے اور ہر صدا خامشی کی منتظر ہوتی ہے کہ کب خاموشی کا طلسم ٹوٹے اور آوازوں کی چہک ماحول میں گونجے۔ خامشی کی صدا کے لیے بے قراری بھی دراصل تبدیلی اور تغیر کے فطری اصول کے عین مطابق ہے اور تغیر ہی شباب کا حقیقی جوہر ہے۔

شعر نمبر ۳ :

سوئے خزاں، بہارگلستاں روانہ ہے
ہر برگ کا سکوت سراپا فسانہ ہے

تشریح :شاعر اس تغیر اور تبدیلی کے عمل کے بارے میں کلام کر رہا ہے جو کسی فلم کی طرح مسلسل چل رہا ہے۔ خزاں آتی ہے اور چلی جاتی ہے، پھر بہار اپنے پر کھولے آجاتی ہے۔ شاعر کہہ رہا ہے کہ خزاں کے بعد بہار کے اس جانب روانہ ہونے پر گلشن کا ہر ایک پتہ اور پھولوں کی کلیاں سب پریشان ہیں کہ اب انھیں بھی وجود سے عدم کا راستہ اختیار کرنا ہوگا اور ان کی یہ خامشی ایک تغیر یا صدمے کی کیفیت ہے۔ اسے محض خاموشی نہ سمجھا جائے بلکہ یہ خاموشی کئی کہانیاں سنا رہی ہے۔ یا مختصراً کہہ سکتے ہیں کہ بہار کا رخصت ہونا اور خزاں کی آمد بھی کائنات میں تغیر وتبدل کے اصول ہی کا نتیجہ ہے۔

Advertisement

شعر نمبر ۴ & ۵ :

نکہت کی کوششیں کہ نکلنا نصیب ہو
موسم کو یہ لگن کہ بدلنا نصیب ہو
شمس و قمر کو ضد ہے کہ گرم سفر رہیں
بے رنگیوں میں خالق شام و سحر رہیں

تشریح : پھول کے کھلنے سے پہلے خوشبو بھی پابند اور پتیوں کے اندر بند رہتی ہے لیکن وہ مسلسل اس تگ و دو اور کوشش میں رہتی ہے کہ کسی طرح نکل بھاگے، پھیل جائے اور محدود سے لامحدود ہو جاۓ۔ پابندی سے آزادی بھی تبدیلی اور تغیر ہے۔ شاعر یہ کہہ رہا ہے کہ دنیا کی ہر چیز تبدیلی کے لیے خواہاں رہتی ہے۔ اس مہک کی طرح موسم بھی تغیر تبد یل سے دو چار ہوتے ہیں۔ موسم گرما کے بعد برسات، برسات کے بعد سردیاں ، پھر خزاں اور خزاں کے بعد بہار اور پھر یہ بھی زوال کا شکار ہو جاتی ہے۔ گویا کسی چیز کو سکوں نہیں البتہ بے جو اوج ایک کا ہے وہ دوسرے کی پستی مگر تبدیلی کی خواہش عین فطرت ہے بلکہ رب کائنات بھی اپنی اس کائنات میں تبدیلیاں کرتا رہتا ہے۔

یہ کائنات ابھی نا تمام ہے شاید
کہ آرہی ہے دما دم صدائے کن فیکوں

سورج اور چاند کا یہ اصرار کہ وہ ہمیشہ سرگرم رہیں۔ سکوت ان کو بھی گوارا نہیں۔ ان کی یہ خواہش ہے کہ طلوع و غروب سے صبح شام تخلیق کر کے دنیا کی بے کیف فضا میں رنگ بھر دیں۔ انسان بھی تبدیلی پیدا کرنے والا کارکن ہے لیکن جو رنگینی اور رعنائی رب کائنات چاند اور سورج کے ذریعے صحرا میں پیدا کرتا ہے ، وہ انسان کے بس کی بات نہیں ۔ سورج اور چاند ہی سے دنیا میں رنگ ہیں۔

Advertisement

شعر نمبر ۶ & ۷ :

شہروں میں انقلاب، بیاباں میں انقلاب
محفل میں انقلاب، شبتاں میں انقلاب
کس پہ یہاں تغیر نو کا فسوں نہیں
اس بزم میں نصیب کسی کو سکوں نہیں

تشریح : تغیر و تبدیل کی داستان جارہی ہے۔ اب شاعر دنیا میں آنے والے انقلابات کے بارے میں بتا رہا ہے کہ تبدیلیاں شہروں میں بھی آتی ہیں اور جنگل بیاباں میں بھی۔ شہروں میں انکی رفتار ذرا تیز ہوتی ہے۔ تعمیر و ترقی ،فیشن ، ہنر مندی ، لوٹ کھسوٹ کے جدید طریقے اور بہت سی دیگر تبدیلیاں شہروں میں جلدی آتی ہیں۔ علم و ادب کے میدان میں دیکھتے دیکھتے ٹائپ رائیٹر سے کمپیوٹر تک انقلاب آ گیا۔ اسی طرح بیاباں یا تو اور ویران ہو جاتے ہیں یا ان میں شادابی آجاتی ہے یا آباد ہونے لگتے ہیں اور بعض اوقات بزم ہستی میں ہر جگہ تبدیلی آتی ہے۔

محفلیں آباد ہوتی اور اجڑ جاتی ہیں اور یہ چمن ستانوں ہی میں انقلاب نہیں آتے بلکہ عشرت کدے بھی ویرانوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ شاعر اس نتیجہ خیز فیصلے کا اعلان کر رہا ہے کہ کائنات مسلسل بدل رہی ہے۔ دنیا میں بھی مسلسل تبدیلی رونما ہورہی ہے۔ ارتقا اور تعمیر نو کےلیے بھی تبدیلی لانا پڑتی ہے بلکہ لائی جاتی ہے۔ ہر ایک چیز پر نئی تبدیلیوں کا جادو چلتا ہے۔ انسان بدلتا ہے فیشن اور رجحانات تبدیل ہوتے ہیں ، اقدار بدلتی ہیں ، افکار میں تبدیلی آتی ہے اور بظاہر سکون نظر آۓ بھی تو وہ سکون نہیں ہوتا۔

Advertisement

سوال نمبر ۱ : مختصر جواب دیجیے۔

الف) احسان دانش نے زندگی کو کس چیز سے تعبیر کیا ہے؟

جواب : تغیر پیہم سے

ب) رات کے سماں کو کس کا انتظار رہتا ہے؟

جواب۔ سحر کی تجلی کا

Advertisement

ج) ہرصدا کس کے فراق میں بے قرار رہتی ہے؟

جواب۔ خموشی کے فراق میں

د) بہار گلستان کس جانب رواں رہتی ہے؟

جواب۔ خزاں کی طرف

Advertisement

ہ) نکہت کی کیا کوشش ہوتی ہے؟

جواب ۔ کہ وہ گل سے نکل بھاگے

و) موسم کو ہر آن کیا لگن رہتی ہے؟

جواب۔ تغیر کی ، بدلنے کی

Advertisement

ز) شمس وقمر کس بات پر بند رہے ہیں؟

جواب۔ کہ چلتے رہیں ،سفر میں رہیں۔

سوال نمبر ۲ : مناسب الفاظ کی مدد سے مصرعے مکمل کیجیے۔

راتوں کو ہے سحر کی تجلی کا انتظار
ہے ہر صدا فراق خموشی میں بے قرار
سوۓ خزاں، بہار گلستان روانہ ہے
شمس و قمر کو ضد ہے کہ گرم سفر رہیں

Advertisement

سوال نمبر ۴۔ اس نظم میں مندرجہ ذیل مرکبات استعمال ہوۓ ہیں آپ مزید پانچ مرکبات لکھیے۔

تغیر پیہم
نقش قدم
انقلاب نو
نکہت گل
بغیر نو

سوال نمبر ۷ : اس نظم کا مرکزی خیال لکھیے جو چار پانچ سطروں سے زیادہ نہ ہو۔

جواب : زندگی تغیر پہیم کا نام ہے۔ ہر چیز تبدیلی کے عمل سے گزرنے کو بے تاب ہوتی ہے اور دنیا میں کسی کو سکون نصیب نہیں ہے۔

Advertisement

سوال نمبر ۸ : علامہ اقبال کے اس شعر کے مفہوم کو پیش نظر رکھتے ہوئے تغیر کے موضوع پر ایک مضمون لکھیے۔

سکوں محال ہے قدرت کے کارخانے میں
ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں

انسان تنوع پسند ہے اور تغیر پند بھی کبھی تو اس کی شدید خواہش ہوتی ہے کہ اس کے دل کو بھا جانے والی ہر چتر کو بھی زوال نہ آۓ۔ پھول ہمیشہ کھلے رہیں ، بہار بھی لوٹ کر نہ جاۓ ، جوانی اور اس کی توانائیاں ہمیشہ ہمیشہ باقی و برقرار رہیں۔ حسن کا ہر مظہر سدا بہار رہے بلکہ اپنی اس خواہش کی تکمیل کے لیے وہ مصنوعی پھول بناتا ہے، زوال پذیر حسن کا میک اپ کرتا اور میک اپ کے سامان کے انبار لگاتا اور بیوٹی پارلر کھولتا ہے۔ انسانی فطرت کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ وہ تغیر پسند ہے۔ آج جس چیز کی تمنا اور اس کے حصول کے لیے تگ دو کرتا ہے، وہ مل جائے تو اس سے اکتانے لگتا ہے۔

سردیوں میں ، گرمیوں اور گرمیوں میں سردیوں کے آنے کی دعا کرتا ہے۔ ہر پسندیدہ غذا شوق سے کھاتا ہے مگر اس سے چند دن بعد تنگ آ جاتا ہے۔ کتنے کروڑ پتی بھی بن کر دنیا میں مارے مارے پھرتے ہیں۔ فیشن بدلتے ہیں، اور ذہن بھی۔ ناشکرا انسان تو اللہ تعالی کی نعمتوں سے بھی منہ موڑ لیتا ہے۔ حتی کہ حضرت موسی کی قوم من و سلوئی میں بھی تبدیلی کی خواہاں ہو جاتی ہے۔

Advertisement

پسند اور ناپسند اپنی جگہ، حقیقت یہ ہے کہ دنیا کا حسن اور دوام تغیر سے وابستہ ہے۔ علامہ اقبال نے یہ پتے کی بات ایک تمثیلی انداز میں بانگ درا میں سمجھائی ہے کہ حسن نے اللہ تعالی سے شکایت کی کہ اسے پیشگی کیوں نہ بخشی تو اللہ تعالی نے فرمایا کہ یہ دنیا ایسا تصویر خانہ ہے جس کی پرچھائیاں مسلسل بدلتی ہیں اور حقیقت میں حسن کی قدر بھی تغیر سے وابستہ ہے۔ کائنات کا سارا نظام تغیر اور تبدیلی سے وابستہ ہے۔ دن رات بدلتے ہیں ،موسم تبدیل ہوتے ہیں۔سمندروں میں مد اور جزر باری باری آتے جاتے ہیں۔ ابھی تبدیلیوں سے پورا نظام فطرت بخوبی چل رہا ہے۔ نہ صرف مادی دنیا کا نظام بلکہ خود انسان بھی نظام فطرت کا ایسا کارکن ہے جو تغیر وتبدل کے لیے کوشاں رہتا ہے۔

Advertisement

راحتیں اور آسائشیں تبدیلیوں سے ممکن ہیں۔ گرمیوں میں اے سی اور سردیوں میں کمروں کو گرم رکھنے کے خود کار نظام، گاڑیوں میں ائیر کنڈیشنر وغیرہ سب تبدیلیاں ہیں جو سہولیات دیتی ہیں۔ ذرا تصور کیجیے اگر دنیا میں سورج ہمیشہ چمکتا رہے، موسم بھی نہ بدلیں، سمندر میں پانی کا اتار چڑھاؤ ایک روپ لے لے تو کیا یہ دنیا تباہ شدہ نہ ہو جاۓ؟ اگر سارے انسان سدا جوان رہیں تو گرم خون کے طفیل فسادات پھیل جائیں گے۔ انسان یکسانیت سے اکتا جاۓ گا۔ تبدیلی کی خواہش مٹ جاۓ ، ترقی کا پہیہ جام ہو جاۓ گا۔ تغیر ہی حسن ، ترقی اور ارتقا کا ذریعہ ہے اور یہی کائنات کی خوبصورتی کا باعث ہے۔ یہاں دوام صرف ایک ذات یکتا کو ہے اور بس۔

Advertisement

Advertisement

Advertisement

Advertisement