کتاب”اردو گلدستہ” برائے ساتویں جماعت
سبق نمبر06: نظم
شاعر کا نام: شوق قدوائی
نظم کا نام:تتلی

نظم تتلی کی تشریح

پر کھول کے تتلیوں کی پرواز
پر جوڑ کے بیٹھنے کا انداز
اس پھول سے اڑ کے اس پہ بیٹھیں
رس لے کے اڑیں وہ جس پہ بیٹھیں

یہ اشعار”شوق قدوائی” کی نظم "تتلی” سے لیے گئے ہیں۔ ان اشعار میں شاعر تتلی کے بارے میں لکھتے ہوئے کہتا ہے کہ تتلی کے پر کھول کر اڑنے کا انداز اور پر لپیٹ کر بیٹھنے کا انداز سب ہی منفرد ہیں۔ وہ ایک پھول سے اڑ کر دوسرے پہ جا بیٹھتی ہیں۔ اور جس بھی پھول پہ جاتی ہیں وہ ایک پھول کا رس چوستے ہوئے دوسرے پہ ساتھ لے جاتی ہیں۔

Advertisement
نازک نازک وہ خوشنما پر
اڑتی ہوئی پتیاں ہوا پر
وہ نقش و نگار اور وہ بوٹے
پر ان کے چھوؤ تو رنگ چھوٹے

ان اشعار میں شاعر کہتا ہے کہ یہ تتلیاں اس قدر نرم و نازک ہیں کہ ان کے پر خوبصورت رنگوں سے بنے ہوئے مگر بہت نرم و نازک ہیں۔ جب یہ تتلی اڑ رہی ہوتی ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے نرم و نازک پتیاں ہوا پہ اڑ رہی ہوں۔ ان کے پروں پہ خوبصورت نقش و نگار اور بیلیں بنی ہوئی ہیں۔ جب کہ اگر تم ان کے پر چھو لو گے تو ان کا رنگ اتر کہ تمھارے ہاتھوں پہ رہ جائے گا۔

رنگ ان میں بہت سے ملے ہوئے ہیں
پر کیا ہیں چمن کھلے ہوئے ہیں
ہیں رنگ کئی ہر ایک پر پر
چھوٹا سا چمن ہے ان کا ہر پر

اس بند میں شاعر کہتا ہے کہ ان تتلیوں کے پروں میں بہت سے رنگ ملے ہوئے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ان کے پر کہاں ان میں باغ کھلے ہوئے ہوں۔ ان کے ہر ایک پر پہ کئی کئی رنگ موجود ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ گویا یہ تتلیوں کے پر نہیں بلکہ کوئی چھوٹا سا باغ ہو۔

ہر خال ہے پر یہ اک نگینا
سونے چاندی پہ یا ہے مینا
قدرت دیکھو کہ گل چمن میں
گل دستے ہیں تتلیوں کے تن میں

ان اشعار میں شاعر کہتا ہے کہ ان کا ہر ایک گال بھی پر ہے اور یوں لگتا ہے کہ جیسے یہ کوئی موتی ہو۔ یہ کسی سونے چاندی کا بنا ہوا پر ہو یا کوئی رنگ برنگی مینا۔ اللہ کی قدرت کے نظارے تو دیکھو کہ سارے پھول تو باغ میں کھلے ہوئے ہیں مگر ان پھولوں کے خوبصورت گل دستے اور رنگ تتلیوں کے جسم میں جھلکتے دکھائی دیتے ہیں۔ شاعر نے اس شعر میں حسنِ تعلیل اور شاعرانہ علت کو بیان کیا ہے۔

جو نقش و نگار سے ہے خالی
وہ بھی دل کو لبھانے والی
ہے رنگ کسی کا زرد گہرا
اتنا گہرا کہ بس سنہرا

اس بند میں شاعر کہتا ہے کہ وہ تتلیاں جن کے پروں پہ کوئی نقش و نگار موجود نہیں ہے وہ بھی اس قدر خوبصورت ہیں کہ دل کو بھاتی ہیں۔ کسی کا رنگ گیرا زرد جبکہ کسی کا اتنا گہرا ہے کہ سنہرا محسوس ہوتا ہے۔

کوئی جس کے سپید ہیں پر
جیسے چاندی کے سپید پتر
طاؤسی صندلی گلابی
دھانی کاسنی سیاہ آبی

اس بند میں شاعر کہتا ہے کہ جن تتلیوں کے پر سفید ہیں یوں لگتا ہے کہ جیسے ان کے پر نہ ہوں بلکہ چاندی کے خوبصورت پتے ہوں ۔ کوئی تتلی صندلی تو کوئی گلابی رنگ کی ہے تو دھانی، کاسنی اور کوئی سیاہ جبکہ کوئی ہلکا نیلا رنگ لیے ہوئے ہے۔

پیلے اودھے زمردی لال
ہر رنگ کے پر ہیں بے خط و خال
پرواز بھی حسن ہے پھبن بھی
رنگت بھی حسن ہے سادہ پن بھی

اس بند میں شاعر کہتا ہے کہ ان تتلیوں میں پیلے ،گلابی ،زمرد اور لال غرض ہر رنگ کی تتلیاں موجود ہیں۔ ان کے رنگ و نقش و نگار و پر ہر رنگ اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہیں۔ ان کی پرواز بھی حسین ہے اور بیٹھنا بھی ان کی رنگین رنگت بھی خوبصورتی اور حسن کو سمیٹے ہوئے ہے اور ان کا سادہ پن بھی خوبصورتی لیے ہوئے ہے۔

سوالات:

باغ میں تتلیاں کہاں کہاں بیٹھی ہوئی ہیں؟

باغ میں تتلیاں ایک پھول سے اڑ کر دوسرے پھول پہ جا بیٹھتی ہیں۔

تتلیاں پھولوں سے رس کس طرح اکھٹا کرتی ہیں؟

تتلیاں اپنے منھ کے ذریعے سے پھولوں میں سے رس کو چوس لیتی ہیں۔

شاعر نے تتلیوں کے پر کو چھوٹا سا چمن کیوں کہا ہے؟

چونکہ تتلیوں کے پروں میں پھولوں کے تمام رنگ موجود ہیں اس لیے شاعر نے ان کو ایک چھوٹا سا چمن کہا ہے۔

اس نظم میں تتلیوں کے پروں کے کن کن رنگوں کا ذکر ہے؟

اس نظم میں تتلیوں کے پروں میں موجود زرد، کاسنی ،گلابی ، سنہرے ، سفید ، صندلی ، لال ،سیاہ ، زمرد ، آبی وغیرہ رنگوں کا ذکر کیا گیا ہے۔

بے خط و خال کا کیا مطلب ہے؟

بے خط و خال سے مراد بغیر کسی لکیر و شکل کے ہیں۔