Advertisement
  • کتاب” اردو گلدستہ “برائے ساتویں جماعت
  • سبق نمبر08:نظم
  • شاعر کا نام: حفیظ جالندھری
  • نظم کا نام: زمین کے تارے

نظم زمین کے تارے کی تشریح

لو رات ہو گئی ہے لو چھا گیا اندھیرا
باغوں میں بسنے والے سب لے چکے بسیرا

یہ شعر “حفیظ جالندھری” کی نظم ” زمین کے تارے” سے لیا گیا ہے۔ شاعر اس شعر میں کہتا ہے کہ رات کا وقت ہو گیا ہے۔ اور رات ہوتے ہی ہر جانب اندھیرا چھا گیا۔ باغوں میں بسنے والے سب خواہ وہ چرند پرند ہو اپنے اپنے آ شیانوں میں بسیرا کر چکے ہیں۔

Advertisement
ہر سمت آسماں پر تارے چمک رہے ہیں
تارے جو ہیں زمین پر ان کو یہ تک رہے ہیں

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ رات ہونے کے بعد رات کے سماں کا ایک اور خوبصورت منظر یہ ہے کہ ہر طرف آسمان پر تارے روشن ہو جاتے ہیں۔ وہ تارے جو آسمان پہ روشن ہیں وہ زمین پر موجود لوگوں کو دیکھ رہے ہیں۔

Advertisement
پوچھو گے تم زمیں کے وہ کون سے ہیں تارے
آؤ تمھیں دکھائیں تارے وہ پیارے پیارے

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ اب تم لوگ حیراں ہو کر یہ پوچھو گے کہ زمین پر کون سے تارے موجود ہیں جن کو آسمان والے تارے تکتے ہیں۔تو آؤ تمھیں وہ پیارے تارے دکھاتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ وہ تارے کون سے ہیں۔

دیکھو چمک رہے ہیں باغوں میں باڑیوں میں
کیا اڑ رہے ہیں ہر سو کھیتوں میں جھاڑیوں میں

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ زمین پر جو تارے موجود ہیں وہ تارے باغوں کی باڑیوں میں چمک رہے ہیں اور یہ تارے زمین پہ ہر جانب کھیتوں اور جھاڑیوں میں اڑتے پھر رہے ہیں اور اپنی روشنی بکھیر رہے ہیں۔

Advertisement
یہ ننھی لالٹینیں کیا جگمگا رہی ہیں
اس سمت آرہی ہیں اس سمت جارہی ہیں

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ یہ یہ زمین کے تارے جو کہ ننھی لالٹینوں کی طرح جگمگا رہی ہیں اور یہ جگمگاتی ہوئی ایک طرف سے آتی ہیں اور دوسری طرف کو چلی جاتی ہیں۔

ہیں آگ کے پتنگے یا پھول پھلجھڑی کے
کیا نور سے بھرے ہیں یہ تھے تھے کیڑے

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ یہ ننھے تارے یوں محسوس ہوتے ہیں کہ یہ آگ کے پتنگے ہیں کہ کوئی پھولوں پے پھلجڑیاں موجود ہوں۔ یہاں ننھے سے تارے موجود ہیں وہ تارے جگنو ہیں اور یوں لگتا ہے کہ ان ننھے کیڑوں کے اندر نور بھرا ہوا ہے جو ان تاروں کو جگمگاتا ہے۔

Advertisement
تم جانتے ہو ان کو؟ جگنو ہے نام ان کا
اندھیروں کو روشن کرنا ہے کام ان کا

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ تم ان ننھے کیڑوں کو جانتے ہو وہ کچھ اور نہیں ہے بلکہ ان کا نام جگنو ہے۔ ان ننھے جگنوؤں کا کام اندھیروں کو روشن کرنا ہے۔

کیا خوش نما ہیں دیکھو قدرت کے کارخانے
قدرت کے کارخانے قدرت ہی خوب جانے

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ یہ پیارے جگنو دیکھو کہ کس قدر پیارے اور خوشنما معلوم ہوتے ہیں اور یہ قدرت کے کارخانوں میں ایک رحمت ہے۔ یہ قدرت کے خزانے ہیں اور قدرت ہی اس کو بہتر طور پر سمجھ سکتی ہے۔

Advertisement

سوالات:

شاعر نے زمین کا تارا کسے کہا ہے؟

شاعر نے جگنوؤں کو زمین کا تارا کہا ہے۔

جگنو کہاں کہاں چمک رہے ہیں؟

جگنو باغوں ،باڑیوں ، جھاڑیوں ،کھیتوں ہر جگہ پہ جگمگا رہے ہیں۔

Advertisement

شاعر نے جگنو کے لیے کون کون سے لفظ استعمال کیے ہیں؟

شاعر نے جگنوؤں کے لیے پتنگوں ،پھلجڑیوں، لالٹینوں اور نور کا لفظ استعمال کیا ہے۔

جگنو کا کام کیا ہے؟

جگنو کا کام اندھیروں کو روشن کرنا ہے۔

Advertisement